کسان دشمن پالیسیوں کا زمہ دار کون ؟

0 41

تحریر وارث دیناری
بلا شبہ زراعت کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت حاصل یے اور زراعت کی ترقی کے لئے ہر حکومت نے دعوے کیئے ہیں ہم نے زراعت کی ترقی کسانوں کی بہتری کے لئے کسان دوست پالیسیاں بنائی ہیں اگر دیکھا جائے تو کسان دوست نہیں کسان دشمن پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں ہمیں کہیں بھی کسان دوست پالیسی نظر نہیں آئے چاہے وہ فرٹیلائزرز پسٹی سائیڈ بیج کی قیمتوں کا معاملہ ہو ان کی دستیابی یا پھر ان میں دو نمبر اشیاء کی مارکیٹوں میں بھرمار روکنے کا معاملہ ہو – پھل سبزیوں کے لئے تو کوئی پالیسی ہے ہی نہیں جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کبھی ٹماٹر پچاس روپے میں پانچ کلو تو کبھی پچاس روپے میں ایک پاؤ بھی نہیں ملتا ہے اسی طرح پیاز و دیگر سبزیوں اور پھلوں کا بھی یہی حال رہتا ہے اس عمل سے ظاہر ہے ایک طرف تو نقصان کسان کا ہوتا ہے تو دوسری جانب صارفین یعنی غریب عوام کا جبکہ مڈل مین ہر وقت فائدے میں رہتا ہے چاہے ٹماٹر پانچ روپے کلو ہو یا پانچ میں گورنمنٹ کی طرف سے درست سروے نہ کرنے مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی پر کڑی نظر نہ رکھنے سے اس طرح کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں پھل سبزیوں کو ایک طرف رکھیں ملک کی اہم فصلیں جن میں کپاس اور گنے کی پیداوار کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں بس یہ تخمینہ لگا کر بتایا جاتا ہے اس سال اتنی پیداوار متوقع ہے
البتہ گورنمنٹ کسانوں پر یہ احسان ضرور کرتا ہے ہر سال گندم کی امدادی قیمت مقرر کر کے وفاق پاسکو کو جبکہ صوبوں کی طرف سے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو خریداری کے احکامات جاری کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ خریداری کس طرح کی جاتی ہے سب کے سامنے ہے اب دیکھا جائے جس مقاصد کے ان اداروں کو لایا گیا وہ مقاصد پورے ہوتے ہوئے کہیں بھی نظر نہیں آ رہےہیں دو اہم مقاصد کے لئے ان اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے
1 چھوٹے زمینداروں کسانوں کی امدادی قیمت کی صورت میں مالی سپورٹ کرنا
2ملک میں ملک کی ضرورت کے حساب سے گندم ذخیرہ کرکے محفوظ کرنا وغیرہ شامل ہے
دیکھا جائے ان دو مقاصد میں گزشتہ ایک عشرے سے حکومت نا کام دیکھائی دے رہی ہے ایک بات سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایک عرصے سے کسان چیخ پُکار کر رہے ہیں کہ حکومت کے ادارے بروقت گندم کی خریداری کیوں نہیں کرتے ہیں جب چھوٹے کاشتکاروں کے ہاتھوں سے گندم نکل جاتی ہے پھر یہ ادارے خریداری کے لئے میدان میں کود پڑتے ہیں یہاں پر دیکھا گیا ہے کسی حد تک پاسکو کے معاملات میں شفافیت ہے لیکن فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے تو دوکانداری شروع کر دی ہے گندم کی خریداری کے نام پر خریداری شروع کرنے سے ایک عرصہ پہلے ضلع میں گندم کی خریداری کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لا کر گندم کی نقل و حمل پر بین الاضلاعی پابندی عائد کر دی جاتی ہے جس سے کاشت کار اپنے سال بھر کی عرق ریزی کا ثمر اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس مہنگائی میں وہ اپنے اخراجات بھی پورے نہیں کر پاتے ہیں پہلے سے مقروض مزید قرضوں کے بوجھ تلے دب کر بلآخر اپنا آباؤاجداد کی زمینیں تک فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت بڑے زمینداروں کی زمینوں میں اصافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ چند ایکڑ زمین رکھنے والے کاشت کار جو اپنی زمینیں بھی خود کاشت کرتے ہیں پھر بھی زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں
واضح رہے کہ اس وقت گندم ہو چاہئے کوئی بھی فصل ہو کاشت کرنے کے اخراجات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کو کاشت کرنا چھوٹے زمیندار کی بس کی بات نہیں ہے لہٰذا فصل کاشت کرنے کے لئے ان کو قرضہ لینا پڑتا ہے پھر ظاہر ہے جب فصل تیار ہو جائے تو جس آڑھتی سے کھاد بیج ڈیزل وغیرہ کے لئے رقم لیا وہ ان کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے جو اس کا حق بھی بنتا ہے اور پھر اگلی فصل کاشت کرنے کے لئے بھی تو قرضہ لینا ہے جس بنا پر پھر یہ بے چارہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ یا پاسکو کی جانب سے خریداری شروع کرنے کا انتظار نہیں کر سکتا ہے اسی آڑھتی کو اپنا گندم فروخت کرنے پر مجبور ہو کر حکومتی امدادی قیمت سے محروم ہو جاتا ہے
جبکہ گندم کی نقل و حمل پر پابندی کے دوران بڑے بیوپاری خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگی قیمت پر گندم کے لاکھوں من خرید کر کچھ عرصہ کے لئے ذخیرہ کر لیتے ہیں پھر انہی گندم کی خریداری کرنے والے اداروں کے کرپٹ اہلکاروں سے مل کر ان کو گندم فروخت کرکے کروڑوں روپے کما لیتے ہیں
جس مقصد کے لئے گندم ذخیرہ کیا گیا ہے اس کا بھی عام عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ہے سب سے اہم یہ کہ خریدی گئی گندم قدرتی آفات اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ ذخیرہ کی گئی گندم کے لاکھوں من خراب ہو کر ضائع ہو جاتیں ہیں
اور جب یہی گندم ضرورت کے وقت فلور ملز کو ایشو کیا جاتا ہے تو اس میں بھی شفافیت کا فقدان دیکھا گیا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں طوفانی بارشوں ژالہ باری اور تیز ہواوں کا سلسلہ جاری ہے ملک میں ہر جگہ گندم کی فصل پک کر مارکیٹ میں پہنچ چکی ہے موسم کی صورتحال کو دیکھ کر کسان اپنی گندم کی کٹائی کرنے پر لاچار ہیں اور اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور بھی
پاسکو ہو یا فوڈ ڈیپارٹمنٹ کسانوں کو حقیقی ریلیف دینا چاہتے ہیں تو بلاتاخیر گندم کی خریداری شروع کرکے کاشتکاروں کو فوری طور ادائیگیاں بھی شروع کر دیں-
تاکہ جس مقصد اور جن کے لئے یہ امدادی قیمت مقرر کی گئی ہے انھیں فائدہ مل سکے یہ نہ کہ خریداری یا ادائیگی کے لیے مختلف تاخیری حربے استمعال کرکے مڈل مین کو فائدہ دینے کی کوشش کی جائے
نیز پاسکو اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر سال 10 مارچ سے قبل خریداری کے لئے تمام اقدامات مکمل کرکے 11 مارچ سے خریداری شروع کریں بیشک موسم کی وجہ سے فصل پکنے میں اگر تاخیر بھی ہو جائے لیکن یہ ادارے گیارہ مارچ سے خریداری کے لئے پابند رہیں
یہاں پر عملی اقدامات کی سخت ضرورت ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے بلوچستان کے سیکرٹری خوراک نے ڈسٹرکٹ استا محمد میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے قائم کی گئی گندم کے خریداری سنٹرز کا معائنہ کیا بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفیس استا محمد میں – راقم الحروف نے سوال کیا کہ آپ خریداری ٹارگٹ پورا کرنے میں کیوں ناکام ہوئے تو اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے سکے تو پھر میں نے انھیں کہا کہ ایک مشہور ضرب الامثال ہے
اب پشتاۓ کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
جب شہر میں ہر طرف گندم ہی گندم گاڑیاں وزن کرنے والے کمپیوٹر کانٹوں پر گندم سے بھرے ٹریکٹروں کی لمبی قطاروں کی بدولت بعض اوقات شہر کی مختلف سڑکیں علی آباد روڈ میرواہ روڈ ڈیرہ اللّہ یار روڈ کافی دیر تک بند رہتے ہیں
اس وقت آپ کہاں تھے اب ذخیرہ اندوزی کرنے والے چند بیوپاری جو لاوارث ہیں ان پر پریشر ڈال کر ٹارگٹ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن بلا امتیاز اور گندم کی خریداری کے لئے اقدامات گندم کی مارکیٹ میں آنے سے قبل کی جائے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ٹارگٹ مکمل نہ ہو تو اس وقت انھوں نے میری باتوں سے اتفاق کرکے ایسا کرنے کی یقین دہائی کرائی تھی-
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.