حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کی ہانڈی بیچ چوراہے میں…..
میں نے دو ہفتے پیشتر اپنے کالم میں حلقہ ارباب ذوق کے سیکریٹری شپ کے انتخابات میں سوال اٹھایا تھا کہ پنڈی حلقہ کا آئین جن معتبر اراکین پنڈی حلقہ نے بنا کر قاضی عارف حسین کے پاس جمع کروادیا تھا اور بعد ازاں بقول متحرک اراکین حلقہ عین آئین کی شقوں کے مطابق چل رہا ہے لیکن گذشتہ انتخابات میں بھی بدمزگی دیکھنے میں آی ایک گروپ براے اصلاح حلقہ تشکیل دیا گیا جس کی قیادت معروف شاعر نوید کہوت کررہے تھے اور معقول جواز ہونے کی بنا ہم تمام اراکین حلقہ نے اس گروپ براے اصلاح حلقہ کی پذیرائی بھی کی، جس نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہم تمام ممبران کے دستخطوں سے قرارداد جمع کروا دی لیکن پھر مکمل خاموشی چھائی رہی اور حلقہ کے اجلاس منتخب شدہ سیکرٹری محترمہ نرگس جہانزیب صاحبہ نے بطریق احسن منعقد کیے لیکن ان تحفظات کے ازالہ کی طرف توجہ نہ دی آئین کا سوال بدستور موجود رہا، سوال یہ بنتا ہے کہ حلقہ کے گروپ میں،اگر ووٹر لسٹ جاری کی جا سکتی ہے تو آئین کیوں نہیں؟.. امیدوار براے سیکریٹری کے لیے کیا شرائط ہیں اور ووٹر کو کن شرائط پر ووٹ پول کرنے کا حق ہے کسی کو کچھ نہیں پتہ میرے سوال پر فاضل الیکشن کمشنر ارشد معراج نے ایک جملہ میں جواب دے کر کہ سب آئین کے مطابق ہی کیا گیا ہے مجھے مزید بحث نہ چھیرنے کا مشورہ دیا، مانا کہ یہ الیکشن کسی یونین کونسل، صوبائی یا قومی اسمبلی کے نہیں اور نہ ہی منتخب شدہ ممبران کو کسی قسم کے مالی فوائد مل سکتے ہیں جو کھینچا تانی اور دل برائیاں مول لی جائیں یہ تو اہل ادب کی مجلس ہے جہاں ہفتہ وار اجتماع میں ایک دوسرے کی تخلیقات پر گفتگو ہوتی ہے اور پھر پورا ہفتہ چل سو چل، اب ووٹر کا کیا معیار مقرر کیا گیا ہے اور موجودہ ووٹرز کی لسٹ کب اور کس اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کی گئی، یہ سارا ریکارڈ تو موجودہ سیکریٹری جناب نثار محمود تاثیر صاحب کے پاس ہے جو سیکرٹری شپ کے امیدوار بھی ہیں، نرگس جہانزیب کی خرابی صحت اور استعفیٰ دینے کے بعد خود قایم مقام سیکریٹری ہیں اور اجلاس باقاعدگی سے منعقد بھی کررہے ہیں، میری یہ تشویش تو امیدواران جناب عالی شعار بنگش.جناب ڈاکٹر مجاہد حسین اور جناب وقاص عزیز کو ہونی چاہیے تھی کہ “ووٹ کو عزت دو یا ووٹر کو” ؟ لیکن اب جبکہ الیکشن سر پر ہے اور کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں اسکی، ووٹرز تو گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں، پچھلی صورت حال کے تناظر میں امکان ہے کہ حلقہ سے تین چار دہائیوں سے منسلک وہ ادیب جو بوجوہ اجلاسوں میں شریک نہ ہوسکے انکی یہ عزت افزائی ہو گی کہ عین پولنگ کے وقت ووٹ کاسٹ کرنے سے روک دیا جاے گا… جو ایک شاعر، ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار، صحافی اور سوشل میڈیا جرنلسٹس کی لیے باعث ہزیمت ہوسکتا ہے کہ اپنا وقت ضائع کیا لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ حلقہ کی فیسبک پر آئین آویزاں کیا جائے اور اعلان بھی کہ ووٹر لسٹ متفقہ طور پر منظور کی جاچکی ہے تاکہ کوئی احتمال نہ ہو،….. زبانی جمع خرچ سے….. کب تک چلے گا؟