انسانی زندگی کی بچاو ¿ میں فارمیسی کا کردار
تحریر :کامران نبی
ایک زمانہ تھا۔ جب ادویات کی دریافت ابتدائی مراحل میں تھی۔انسان مختلف بیماریوں کی تشخیص و علاج میں نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر پایا تھا۔ ایسے میں ملیریا جیسے مرض سے بھی لاکھوں ہلاکتیں ہوتی تھی۔ ماضی میں جدید ادویات کی نہ ہونے کے باعث معمولی بیماریاں بھی جان لیوا ثابت ہوتی تھی۔ انسان بےبسی کی تصویر بنے اپنے بیمار افراد کو اپنے سامنے مرتا دیکھتا تھا۔
پھر وقت بدلا۔ ادویات کے شعبے میں جدت آگئی۔ اور اگر میں یہ کہوں کہ یہ سب اکیسویں صدی میں ہوا تو یہ ناانصافی ہوگی۔ کیونکہ انسانی جسم کی ساخت کو سمجھنے اور پھر ادویات کی دریافت تو مسلمانوں کے عہدزرین میں شروع ہوچکا تھا۔ جب مشہور مسلمان حکیم اور اگر آج کی زبان میں انہیں فارماسسٹ کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ جی ہاں میری مراد ” ابنِ سینا ” سے ہے۔ جنہوں نے مشہور کتاب الشفائ تحریر کی۔ جس میں انہوں نے مختلف بیماریوں اور ان کی طریقہ علاج پہ روشنی ڈالی۔ یہی نہیں مسلمان طلبائ نے اس موضوع پر دن رات کام کیا۔
اور بعد میں یورپ کی حکمائ نے ان علوم پر مزید تحقیق کی تو کئی لاعلاج امراض کے علاج اور ان کی ادویات دریافت ہوگئیں۔
مقامِ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک “MBBS” ڈاکٹر کو فارماسسٹ سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ کم عالمی کے باعث ایک ڈاکٹر کو ادویات تجویز کرنے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر ڈاکٹر ایسی ادویات بھی مریض کو استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ جس کے فوائد و نقصانات سے وہ واقف تک نہیں ہوتا۔ میں اپنے دعوے کو دلیل سے ثابت کرنے کے لئے صرف اینٹی بائیوٹکس کی مثال دینا چاہوں گا۔ کہ عطائی ڈاکٹروں سے لیکر اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹروں تک مریضوں کو بےدریغ اینٹی بائیوٹک جیسے ادویات استعمال کراتے جارہے ہیں۔
یورپ سے شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اینٹی بائیوٹک کے استعمال میں سرفہرست ہے۔ جس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ انسانی جسم ان ادویات کہ عادی ہو جاتا ہے۔ جس کے باعث ان ادویات کی اثرپزیری کم ہوتی جارہی ہے۔
میری گفتگو کا لب لباب یہ ہےکہ معاشرے میں فارماسسٹ کو اس کا مقام دلایا جائے اور ادویات کے استعمال میں MBBS ڈاکٹروں کو فارماسسٹ پر ترجیح نہ دی جائے۔ کیونکہ ادویات کی بناوٹ کو ایک قابل فارماسسٹ سے بہتر کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔