دو روزہ کل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس

0 140

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیخ فرید
دائرہ علم و ادب پاکستان نے پنجاب کے تاریخی شہر پھالیہ میں 2 کامیاب کل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس کے بعد تیسری کل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس سلام آباد کا اعلان کیا ہے ، قابلِ ذکر اور قابلِ صد اطمیناں بات یہ کہ مذکورہ کانفرنس میں 10فیصد کوٹہ بلوچستان کے ادیبوں ، شاعروں اور بلخصوص نوجوان لکھاریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ، یہ سب ڈاکٹر افتخار کھوکھر صاحب ، پروفیسر احمد حاطب صدیقی صاحب ، ڈاکٹر ریاض عادل صاحب اور ڈاکٹر احسن حامد کی محبتوں کے مرہونِ منت ہی ممکن ہوا ۔
4 اور 5 اکتوبر 2023ء کو ہونے والی کانفرنس میں بلوچستان سے جن لکھاریوں نے اپنی رجسٹریشن کروائی اور اپنے نام آمادگی کے طور پر E.Mail کیئے اور اُن کے نام لسٹ میں شامل کیئے گئے اُن میں پناہ بلوچ ، قیوم بیدار ، عظیم انجم ہانبھی ، سید ایاز محمود ، احمد وقاص کاشی ، طیب فرید ، فرید بگٹی ، پروفیسر اکبر خان اکبر ، علی نواز رند ، ببرک کارمل جمالی ، بقاء بلوچ ، قربان ایری ، احمد شاہ ، نعیم شاہ عبداللہ ، ذوہیب قیصر ، منظور احمد ، عرفان اللہ ، شکیل کاکڑ اور ظریف بلوچ شامل ہیں ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن دوستوں میں سے کون کون دوستی نبھاتے ہوئے علم و ادب کے فروغ اور ترقی و ترویج کیلیے رختِ سفر کا قصد کرتا ہے یا پھر محض شوقیہ ہی اپنا نام لسٹ میں شامل کروایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اُمید ہے مذکورہ اہلِ قلم کانفرنس حسبِ روایت ایک مفید ، کارگر ، فعال ، متحرک اور ادبی مقاصد کے حصول کیلیے سنگِ میل ثابت ہوگی ۔اور اسلام آباد جانے والے دوست کانفرنس سے بھر پور مستفید ہونگے ۔۔
اسلامی تہذیب کے دائرے میں مسلمانوں کے علم، ذہانیت اور توانائی کا بڑا حصہ دو چیزوں پر صرف ہوا ہے۔ ایک مذہب پر اور دوسرا ادب پر۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مذہبی علم کی اتنی بڑی روایت پیدا کی ہے کہ اس کے آگے تمام ملتوں کا مجموعی مذہبی علم بھی ہیچ ہے۔ اسلامی تہذیب کے دائرے میں موجود ادب کی روایت کو دیکھاجائے تو اس کا معاملہ بھی یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن آج مسلم معاشروں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ کروڑوں پڑھے لکھے کہلانے والے افراد بھی چاقو مارنے کے انداز میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ادب کا فائدہ کیا ہے؟ آخر ادب کیوں تخلیق کیا جائے اور اسے کیوں پڑھا جائے…؟
فائدے کے اس سوال کا تعلق عصر حاضر کی اس عمومی معاشرتی صورت حال سے ہے جس میں پیسہ اعلان کیے بغیر معاشرے کا خدا بن کر بیٹھ گیا ہے اور کروڑوں لوگ اعلان کے بغیر اس کی پوجا کررہے ہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ادب کی تخلیق اور اس کے مطالعے کی افادیت کے بارے میں سوال اٹھانے والے دراصل شاعروں ادیبوں کی معاشی حالت اور ادب کے مطالعے کے معاشی اور سماجی فائدے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک ایسی فضا میں ادب کیا مذہبیت تک ’’افادی‘‘ ہوجاتی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں مذہبیت کا ایک پہلو افادی ہوتا جارہا ہے۔ لیکن بعض لوگ جب ادب کے فائدے کا سوال اٹھاتے ہیں تو وہ دراصل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زندگی میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔ اس کا وظیفہ یا Function کیا ہے اور کیا ادب کی تخلیق اور اس کا مطالعہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔؟ جہاں تک پہلی قسم کے لوگوں کے سوال کے جواب اور اس مسئلہ کے طے حل کا تعلق ہے تو اس کے لیے شاعروں، ادیبوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کھلاڑیوں کی طرح ہمارے بینک شاعروں ادیبوں کو لاکھوں روپے کے مشاہرے پر ملازم رکھنے لگیں تو ادب کی افادیت کے سلسلے میں سوال اٹھانے والے اپنے بال بچوں کو شاعر ادیب بنانے کے لیے بیتاب ہوجائیں گے البتہ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو معاشرے میں ادب کے کردار یا اس کے وظیفے کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان کے سوال کا قدرے تفصیل سے جواب دینا ضروری ہے۔ اس لیے کہ ہمارے زمانے میں ادب کیا مذہب کے حقیقی کردار کی تفہیم بھی دشوار ہوگئی ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ معاشرے میں ادب کی اہمیت کیا ہے۔؟
اسلامی تہذیب میں ادب کی حیثیت مذہب کے تو سیعی دائرے کی ہے۔ ہماری تہذیب میں ادب نہ کبھی معنی کا سرچشمہ رہا ہے نہ وہ کبھی مذہب سے جدا ہوا ہے۔ اس کے برعکس مغربی تہذیب میں ایک زمانہ وہ تھا جب ادب کی ضرورت ہی کا انکار کردیا گیا اور پھر ایک دور وہ آیا جس میں کہا گیا کہ مذہب ختم ہوگیا اب ادب مذہب کی جگہ لے گا۔ ہماری تہذیب میں ادب کے حوالے سے یہ افراط وتفریط کبھی موجود نہیں رہی۔ اس لیے کہ اسلامی تہذیب میں معنی کا چشمہ مذہب ہے چنانچہ ہماری تہذیب میں ادب کا کام یہ ہے کہ وہ معلوم کو محسوس، مجرّد کو ٹھوس اور غیب کو حضور بنائے۔ ادب کے اس کردار نے ہماری روایت میں حقیقت اور مجاز یا Reality اور Appearance کی اصطلاحوں کو جنم دیا ہے اور ہمارے یہاں بڑا ادب اس کو سمجھا جاتا ہے جو بیک وقت حقیقت اور مجاز سے متعلق ہو۔ ہماری تہذیب میں حقیقت کا مطلب خدا اور مجاز کا مطلب ایک سطح پر انسان اور دوسری سطح پر یہ پوری مادی کائنات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حقیقت اور مجاز میں تعلق کیا ہے؟ ہماری تہذیبی اور ادبی روایت میں مجاز حقیقت کا جلوہ، اس کی علامت اور اس کا ایک اشارہ ہے اور ان کے درمیان تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ انسان مجاز کے ذریعے حقیقت سے رشتہ استوار کرتا ہے۔ اس کا فہم حاصل کرتا ہے۔ اس طرح مجاز کی محبت بھی حقیقت کی محبت بن جاتی ہے۔ ہمارے ادب میں محبت اور ہوس کی اصطلاحیں مروج ہیں۔ محبت کو اچھا اور ہوس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ مگر لوگ ان اصطلاحوں کے فرق پر مطلع نہیں ہیں۔ محبت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مجاز کے وسیلے سے بیک وقت مجاز اور حقیقت دونوں سے جڑا ہوا ہے۔
ادب اور ادیب کے درمیان باہمی رابطے کو استوار کرنے میں دائرہ علم و ادب پاکستان نے ہمیشہ مثالی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
4,اور 5 نومبر 2022ء کو اسلام آباد میں ہونے والی دوروزہ کل پاکستان اہلِ قلم کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہی نہیں خوش گوار احساس کو بھی پروان چڑھانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہو گا ۔
دائرہ علم و ادب کے چیئر مین ڈاکٹر افتخار احمد کھوکھر ، صدر پروفیسر احمد حاطب صدیقی ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد ریاض عادل اور رابطہ سیکرٹری ڈاکٹر احسن حامد کی بے لوث کوششوں کے طفیل دو روزہ اہلِ قلم کانفرنس کا خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے ۔
کانفرنس کا افتتاح 4 نومبر کو ہو گا ۔ تفصیلات کے مطابق افتتاحی تقریب 2 بجے ہوگی ۔جس میں تلاوت کی سعادت ثاقب حمید حاصل کرینگے جبکہ عبدالرحیم متقی بارگاہِ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کرینگے ۔
سہہ پہر 3 بجے ن القلم کے عنوان سے خصوصی سیشن۔ہو گا جس کی صدارت خلیل الرحمٰن چشتی فرمائیں گے ، مہمانِ اعزاز ڈاکٹر گل زادہ شیر پاوُ ہونگے ، نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد ریاض عادل ادا کرینگے ۔ اِس سے قبل تعمیری ادب کے تقاضے کے موضوع پر سیشن ہو گا ، صدارت پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کرینگے ، مہمانِ خصوصی میں ڈاکٹر عبدالروُف رفیقی ، سیدعارف شاہ شیرازی ، نصر اللہ رندھاوا اور حسن آفتاب ہونگے .
4نومبر کو سوا پانچ بجے “دائرہ علم و ادب کے درخشاں ستارے” کے حوالے سے تعارفی پروگرام ہو گا جس میں دائرہ علم و ادب پنجاب کے صدر اشفاق احمد ، سندھ کے صدر عطاء محمد تبسم ، آذاد کشمیر کے سید سلیم گردیزی خیبر پشتونخواہ کے احمد حسن بلوچستان کے صدر کامران قمر ، اسلام آباد کے صدر اکرم الحق سلہری اور گلگت بلستان کے صدر تنویر حسین حیدری گفتگو کریں گے ۔ صدارت ڈاکٹر ظفر حسین ظفر فرمائیں گے جبکہ اِس کے کمپیئر ڈاکٹر احسن حامد ہونگے ۔
بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) کوئٹہ نے دائرہ علم و ادب پاکستان کی دو روزہ اہلِ قلم کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ مذکورہ ادبی کانفرنس کے انعقاد سے علم و ادب کی ترقی و ترویج کیلیے نئی راہیں استوار ہونگی اور ادباء برادری کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور ادبی رجحانات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی ۔۔۔۔ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔?۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.