نوازشریف کی طلبی کے شواہد اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع

0 1

رسید پرتاریخ اور دن بھی موجود ہے نواز شریف کے اشتہار کی برطانیہ میں تشہیر سے متعلق اضافی دستاویزات بھی عدالت میں جمع کرائی گئیں

اسلام آباد(صحافت ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے حوالے سے دفتر خارجہ نے نواز شریف کو بذریعہ رائل میل اشتہارات کی تعمیل کے شواہد عدالت میں جمع کروا دیئے ہیں. اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے حوالے سے دفتر خارجہ نے نواز شریف کو بذریعہ رائل میل اشتہارات کی تعمیل کے شواہد عدالت میں جمع کروا دیئے 6 نومبر 2020کو رائل میل کے ذریعے اشتہارات پہنچائے گئے، رسید پرتاریخ اور دن بھی موجود ہے

نواز شریف کے اشتہار کی برطانیہ میں تشہیر سے متعلق اضافی دستاویزات بھی عدالت میں جمع کرائی گئیں واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت میں عدم حاضری پر سابق وزیراعظم کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے حوالے سے ایف آئی اے کے افسران اعجاز احمد ، طارق مسعود اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر یورپ مبشر خان کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے بدھ 2 دسمبر کو طلب کررکھا ہے ،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے

عدالت نے آئندہ سماعت پر ایف آئی اے افسران کا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو تمام دستاویزات عدالت میں جمع کرنے کی ہدایت کی جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 25نومبر کو کیس کی سماعت کی تو وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر، وزارت خارجہ سے ڈائریکٹر یورپین افیئر مبشر خان،نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ اور ڈپٹی پراسکیوٹر سردار مظفر عباسی کے علاوہ ایف آئی اے لاہور سے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اعجاز خان اور طارق مسعود عدالت پیش ہوئے دفتر خارجہ کی پیش کردہ رپورٹ میں بتایاگیاکہ سابق وزیراعظم نواز شریف جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہورہے ہیں،دفتر خارجہ نے نوازشریف کی بذریعہ اشتہار طلبی کی تعمیل رپورٹ عدالت جمع کروا ئی تھی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.