معاشرتی اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے آسمانی تعلیمات کو بے دخل کیا جارہا ہے،مولانا عبدالقادر لونی

0 26

جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سنئیر نائب امیر مولناعبدالقادر لونی مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین نے یورپی پارلیمنٹز کی جانب سے ملک میں توہین رسالت کے قانون کے حوالے قرار داد کی منظوری کے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کی دینی حمیت اور غیرت کے سامنے ایسے قرار دادوں کی کوئی حیثیت نہیں C 295 کے نفاذ میں اقلیتوں کو اس قانون سے کوئی خطرہ نہیں ہے یہ قانون صرف توہین رسالت کی ناپاک جسارت کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچاریےہیں اسلام نے اقلیتوں کے بنیادی حقوق کوتحفظ دی ہے اور ان کے  بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی ضمانت ملک کی آئین نے بھی دی ہے .مغربی قوتیں اور ادارے اس قانون کو صرف تنقید کا نشانہ نہیں بلکہ اس قانون کو ختم کر دینے کے لیے دباؤ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ملک میں قایادنیت کے لیے راہ ہموار ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ کفری قوتوں نے ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین کی ناپاک جسارت سے اُمت مسلمہ کو ذہنی اور روحانی اذیت میں مبتلا کرنے کی کوشش کی. اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم پراپیگنڈہ مہم چلانے پر پوری شدومد سے کاربند رہے ہیں معاشرتی اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے آسمانی تعلیمات کو بے دخل کیا جارہا ہےفرانس اور دیگر یورپی ممالک کے اس مبنی برتعصب رویے اور منافقانہ طرز عمل دنیا پر عیاں ہو چکی ہےکہ ہولوکاسٹ کا انکار پر سزائے موت ہے اور کئی معروف مصنفین اس جرم کے ارتکاب میں سزا بھگت چکے ہیں اور توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر ماضی میں شاتمِ رسول سلمان رشدی ملعون کو کتاب تحریر کرنے پر باقاعدہ طور پر سرکاری اعزاز دیا جائے۔ اسی طرح گیرٹ ویلڈرز کے توہین رسالت اور بدنام زمانہ جریدہ چارلی ہیبڈو اور پادری ٹیری جونز کے قرآن سوزی کرنے کی ناپاک اقدامات اور جسارتوں کے محرکات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر یورپی یونین نے ایک لفظ بھی نہیں اور یہ گستاخانہ خاکے محض اتفاق کے طورپر شائع نہیں کیے تھے بلکہ یہ واضح طور پر مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے اور ان کے رد عمل کی سطح اور کیفیت کوجانچنے کی ایک منظم کوشش ہے انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ گستاخ رسول ﷺکو مسلمان نے معاف نہیں کیا گستاخ رسولﷺکے لیے اسلام نے چودہ سو سال پہلے قتل کاسزا مقرر کیا رسول اللہ ﷺ کی گستاخی ناقابل معافی جرم ہے عالم اسلام کےحکمران ایمانی غیرت کامظاہرہ کرتے ہوئے فرانس سے تعلقات منقطع کریں اور سفیروں کو ملک بدر کیاجائے انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا مشن دو ارب مسلمانوں کا مشن ہے اور حرمت رسول کے دفاع کے لئے مسلمانوں کی نظروں میں حرمت رسول کی حفاظت سے بڑھ کر اور کسی چیز اہمیت نہیں ہونی چاہئے ناموس رسالت کے دفاع کے لیےایک نہیں ہزاروں ،لاکھوں،کروڑوں اربوں مسلمان غازی علم دین شہید عامر چیمہ ،ممتازقادری ،خالد، بن کر میدان میں نکل جائینگے انہوں نے کہا کہ محض کسی شخص ہتک عزت سے بچانے کے لیے قوانین موجود ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔ تو انبیاء علیھم الصلوٰت والتسلیمات اور مسلمہ دینی ہستیوں کے لیے یہ حق تسلیم کرنے سے کیوں انکار کیا جا رہا ہے۔ مغرب آزادیٔ رائے کے مصنوعی نعرہ کی آڑ میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تک کی حرمت و عزت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فرانس آسمانی تعلیمات اور مذہب کے خلاف محاذ جنگ پر ہے اور نہ صرف وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دینی حوالہ سے مقدس شخصیات کی توہین اور استہزاء کا پرچم بھی اس نے اٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قرار دادوں ہم قدم کی نوک پر رکھتے ہیں ناموس رسالت کی قانون سزائے موت پر مسلمان کھبی سمجھوتہ نہیں کرینگے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.