کانٹ اور اخلاقیات

1 146

تحریر ۔ شمس خیال

موجودہ عصر مادیت کا ہے جوکہ اب ابدی شعور یا روحانیت کی جانب بڑھنے کے مراحل میں ہے۔ اس موضوع پر نامور فلسفی سی ای ایم جوڈ (اگست 1891- اپریل 1953) نے ایک اعلی تصنیف Guide to the philosophy of morals and politics کے نام سے رقم کی ہے۔ اس میں بتایا ہے کہ یونان کے زمانے سے انسان نے علمی دنیا میں اعلی پائے کے قدم اٹھائے۔ موجودہ دور میں کلاسکیت اسی دور کی یادگار ہے۔ افلاطون اور ارسطو دونوں نے اخلاق اور سیاست کو یکجاں رکھا۔ عوامی زیست کو ذاتی زندگی کا آئینہ کہا۔ باہر کے سفر کی ابتداء کےلیے باطن کو نقطہ آغاز مانا۔ اخلاقی زیست کو سیاسی زندگی کی سیڑھی قرار دی۔ یہ سفر مذاہب کے طفیل بھی یوں ہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ مذہبی مظالم و استعماریت کی بنا پر قرون وسطیٰ کا زمانہ آیا۔ چرچ کی منجمد فلسفہ زندگی نے اعلی اذہان کو مذہب کی صحیح تعبیر کی سوچ پر مجبور کیا۔ یہاں تک کہ عیسایت میں مارٹن لوتھر آئے اور انھوں نے بقول اقبال کے صدا بلند کی کہ

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہے پردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو

اس دعوت کے بعد اخلاق و سیاست کی راہیں جدا ہوئیں۔ اخلاقیات کو Reasoning کے ماتحت کردیا گیا۔ دل کو عقل کے ہاتھوں ہتھیار ڈھالنے پڑھے۔ ہوس جمہوریت قرار دی گئی۔ مابعدالطبیعیات علم کی تعریف سے خارج ہوگئیں۔ مذاہب عقل کی عدالت میں ملزم کے کھٹرے میں کھڑے ہوگئے۔ ہر وہ چیز جو حس و تجربے میں نہ آئے، کو رد کر دیا گیا۔ انسان گویاں بقول قرآن کے آندھا، گھونگھا اور بہرا ہوگیا جو بظاہر دیکھتا، بولتا اور سنتا ہے لیکن عقل سے کام نہیں لیتا۔ اسی زمانے میں کانٹ گویا خدا کا انتخاب تھا جو آئے اور انسانیت کو راہ زیست پر ڈھالنے کی سعی میں لگے۔

کانٹ نے جہاں اور پہلو زندگی پر روشنی ڈالی اور زندگی کو کل کہا اور اسکا کائنات سے رشتہ جوڑا تو وہی اخلاقیات پر بھی خوب خوب روشنی ڈالی۔ کانٹ کے مطابق انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہے۔ ایک وہ جس سے انسان باہر کی کائنات سے رشتہ جوڑتا ہے جسے کانٹ نے دنیائے اشیاء (world of things) کہا۔ اس کے طفیل کائنات کی رنگینیوں کو اپنے تک لاتا ہے اور اس سے استفادہ کرتا ہے۔ دوسرا پہلو خود اسکی شخصیت کے اندر ہے جس سے وہ کائنات کو معنی مہیا کرتا ہے اسے کانٹ نے دنیائے حقائق کہا۔ یعنی کائنات بذات خود کچھ نہیں یہ انسانی ذہن ہے جو اسے معنی مہیا کرتا ہے۔ ریاضی دان کے لیے یہ تکنیک ہے۔ بائیولوجیسٹ کےلیے یہ جاندار اور بےجان کا مجموعہ ہے۔ انتروپولوجسٹ کےلیے یہ انسان کا خادم ہے۔ اسی طرح جو اسکو اپنی باطن کے عینک میں جس طرح دیکھتا ہے اسی طرح معنی مہیا کرتا ہے۔

اسکے علاوہ انسان جن آلات سے ظاہر و باطن کی شخصیت سے مستفید ہوتا ہے وہ تین ہیں۔ حس، علم، اور ارادہ ( Sense, knowledge and will) حواس سے انسان بہرونی ماحول سے ڈیٹا لیتا ہے، ذہن اس ڈیٹا کو تشکیل دیتا ہے جس سے علم بنتی ہے۔ یہ دونوں باہر کی دنیا سے متعلق ہے۔ ارادہ یا will انسان میں ایسا ہے جو اسکی شخصیت کے باطن میں موجزن ہے۔ جس سے انسان صحیح و غلط اور علم و ناقص کی رہنمائی لیتا ہے۔ اخلاقیات کی تعریف یہ ہے کہ انسان کو زندگی گزارنے کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیے جو صحیح ہے اور کن امور و عوامل سے پرہیز کرنا چاہیے جوکہ غلط ہے۔ سب سے ضروری یہ ہے کہ انسان کو یہ رہنمائی کہاں سے ملے کہ صحیح کیا اور غلط کیا ہے؟ سائنس کی عوامل و نتائج (cause and effect) کے تصور نے یہ رہنمائی باہر ماحول پر چھوڑ دیا تھا کہ جو انسان کو خوش کرے وہ صحیح اور جو غمگین کرے غلط ہے، اس فلسفے کو ہیڈوئیزم کہا جاتا ہے۔ اخلاقیات کی تعریف بھی اسی رو میں کی گئی تھی۔ جوکہ سطحی پہلو تھا۔ عقل سلیم پر یہ بات عیاں ہے کہ ہر لذت حق نہیں ہر غم پریشانی نہیں! یہی کانٹ نے گویا اپنے فلسفے سے واضح کیا۔

کانٹ نے بتایا کہ will انسان میں سماوی (transcendental) ہے۔ یہ ایسا ہے جسے سیکھا نہیں جاسکتا۔ یہی حتمی رہنما ہے جو آگاہ کرتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ یہی باطنی شخصی پہلو ہے جو سب کو بتاتا ہے کہ جھوٹ بری عادت ہے، سچ نیکی ہے، ہمدردی انسانیت، نفرت شیطانی ہے۔ یہی آفاقی اصول ہیں جس سے کسی کا باطن انکاری نہیں۔ یہ ابدی و اٹل ہیں۔ یہ حس و مشاہدے میں سیکھے نہیں سیکھے جاسکتے بلکہ بذات خود فطری طور پر انسان میں ودیعت کی گئی ہیں۔ اسکےلیے فری ویل یعنی آزادی ضروری ہے کہ انسان تمام تر بہرونی بناوٹوں سے پاک ہو۔ اس کے پاس مکمل اختیار ہو کہ وہ اپنی شخصیت کے اصل پہلو سے ملے۔ جب وہ یوں ملےگا تو وہ اخلاقی طور پر مکمل انسان ہوگا۔ اور اسکا باطن اسکی راست رہنمائی کرے گا۔ اسے نیکی کی راہ پر ڈالے گا اور برائی سے روکے گا۔

گویا یہی باطن، اور حس و مشاہدے و تجربے میں نہ آنے والا، پہلو کانٹ کی نظر میں معمار کل ہے اور زندگی کو آباد کیے ہوئے ہے۔ یہ تعبیر زیست و اخلاق کانٹ نے اس زمانے میں کی جب Enlightment moment عروج پر تھی۔ تھامس ہوبز، والٹیئر اور روسو حس و مشاہدے کے پجاری بن چکے تھے۔ ہر چیز فطرت تھی نہیں تو کچھ نہیں تھا۔ مافوق الفطرت رد کیا جاچکا تھا۔ کانٹ نے ان سب کو لگام ڈالا۔ اور سب کو ساتھ لیکر چلے۔ یہ وہ کام تھا جوکہ منشاء مشرق تھی اور مغرب کی کھوری آنکھ کو نظر آنا مشکل ہو گیا تھا۔ کانٹ نے یہ کام کرکے اب تک عظیم فلسفی کے ٹائٹل کو خود سے منسوب کیے ہوئے ہیں۔ آج تک کانٹ سے بڑا فلاسفر پیدا نہ ہوا۔ سب جو آتے ہیں تو کانٹ سے سند لیے بنا اپنا سیکہ نہیں جما سکتے۔ کانٹ سے اپنی علمیت یا verify کرائنگے یا justify کرائینگے۔ نہیں تو تیسری راہ کوئی نہیں ہے۔ اقبال نے the reconstruction of religious thoughts لکھی تو پوزیشن بجائے verify کرانے کا justification میں عافیت جانی اور مذہب کا دفاع کیا۔ اس کے برعکس کانٹ نے ببانگِ دہل خود کے افکار مغربی تعریف علم کی رو سے verify کرایا کہ میرا کہا ہی علم ہے اور اپنی کتاب the critique of pure reason میں مغربی اپروچ کی خوب خوب کلاس لی۔ فی زمانہ ادب، فلسفے اور مذہبی و سائنسی ہر طالب علم کو چائیے کہ کانٹ کو پڑھے تاکہ وہ زبان سمجھی جا سکے جس زبان میں آج کے علماء، ادباء اور فلاسفر ہم کلام ہیں۔

You might also like
1 Comment
  1. Azad khan says

    بہت زبردست طریقے سے آپ نے سمجھایا میں آپ کا بہت زیادہ مشکور ہوں

Leave A Reply

Your email address will not be published.