عائشہ رضی اللہ عنہا

0 60

حمیراعلیم
ہم پاکستانیوں میں جہاں کئی خوبیاں ہیں وہاں چند خامیاں ایسی بھی ہیں جو تباہ شدہ اقوام کی یاد دلا دیتی ہیں خصوصا بنی اسرائیل کی۔ ان میں سے ایک خرابی ہے بلاوجہ کی بحث و تکرار اور غیر ضروری سوال۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بہت سوالات پوچھے جاتے تو آپ فرماتے:” میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا“۔ مسلم وبخاری
میں نے جب بھی کوئی تحریر کسی موضوع پر لکھی چند قارئین ایسے ضرور ملے جنہوں نے پوری تحریر میں اس کے مقصد کو نہیں پایا اور کوئی ایسا نکتہ نکال لیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ایسا ہی کچھ کل ہوا جب ایک تحریر جو کہ لوگوں کے بہووں کو ہر کام کا ماہر چاہنے کے متعلق تھی اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی کم سنی اور کسی کام کا علم نہ ہونے کے بارے میں ذکر کیا ۔تو چند بھائیوں نے کہا کہ ان کی عمر 17 سے انیس سال تھی۔لہذا یہ جواب دینا مجبوری ہے۔
چند باتیں ذہن نشین کر لیجیے۔مغرب خصوصا یہود، عیسائی، قادیانی اور منکرین حدیث کا ایجنڈا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر سوال اٹھاو، انہیں مشکوک بناو، پھر حدیث کو جھوٹا ثابت کر دو اور آخر میں قرآن کو بھی یوں مسلمان ملحد بن ہی جائے گا۔
اور اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نو سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی۔ پیڈوفائل کا لفظ سنتے ہی ہم شرمندہ ہو کر بجائے اپنے دین اور رسول کو سچ جاننے کے اس پراپگنڈے پر امنا صدقنا کہتے ہیں اور نکل کھڑے ہوتے ہیں تحقیق کرنے جس میں یہ ثابت ہو جائے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بوقت رخصتی 17سے 19 سال کی تھیں۔ تاکہ ہمارے نبی کی ذات پر یہ الزام غلط ثابت ہو جائے۔نیت بہت اچھی ہے مگر ذرا دھیرج رکھیے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پڑھیں تو ان کی عمر تھی 64سال 614 سے 678عیسوی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی نو سالہ رفاقت تھی۔آپ کی وفات کے بعد 47 یا 48 سال علم پھیلایا۔اب حساب آپ خود کر لیجئے کہ شادی کی عمر کیا تھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شادی اللہ کے حکم پر کی تھی۔اگر اس وقت نو عمر لڑکیوں اور بڑی عمر کے مردوں کی شادی کا رواج نہ ہوتا تو یقینا دشمن اس پر اعتراض کرتے مگر کسی کے متعلق ایسا کوئی اعتراض یا الزام ہسٹری میں نہیں ملتا۔کیونکہ یہ بڑی عام سی بات تھی۔عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی کی آپ کے خیال میں ان کی عمر کیا ہو گی؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حبیبہ بن خارجہ سے آخری نکاح کیا جن سے ام کلثوم ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئیں۔آپ کے خیال میں حبیبہ کی عمر کیا ہو گی؟ ایسی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں۔آج بھی ہمارے پاکستان، افغانستان، سوڈان سعودیہ حتی کہ اس بات پر معترض مغرب خصوصا امریکہ میں بھی دس گیارہ سالہ بچی سے بڑی عمر کے مردوں کی شادی کا نہ صرف رواج ہے بلکہ مغرب میں اسے لیگل حیثیت بھی حاصل ہے۔اگر وہ اکیسویں صدی میں اسے برا نہیں جانتے تو اس دور میں یہ کیسے برائی بن گئی۔
سورہ الحق آیت 4 میں ایسی لڑکی کی عدت بھی لکھی ہے جسے ابھی پیریڈز نہ آئے ہوں ۔ کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نکاح کے وقت بالغ نہیں تھیں۔
ڈیفینسو ہونے کی بجائے پہلے حدیث کا مطالعہ کیجئے جس میں خود عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی شادی کا حال بتاتی ہیں۔

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کا مدینہ میں تشریف لانا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کا بیان۔

حدیث نمبر: 3896
حدثني فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت:” تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم وانا بنت ست سنين , فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن خزرج , فوعكت فتمرق شعري فوفى جميمة فاتتني امي ام رومان وإني لفي ارجوحة ومعي صواحب لي فصرخت بي , فاتيتها لا ادري ما تريد بي , فاخذت بيدي حتى اوقفتني على باب الدار وإني لانهج حتى سكن بعض نفسي , ثم اخذت شيئا من ماء فمسحت به وجهي وراسي , ثم ادخلتني الدار فإذا نسوة من الانصار في البيت , فقلن على الخير والبركة وعلى خير طائر , فاسلمتني إليهن فاصلحن من شاني فلم يرعني إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى , فاسلمتني إليه وانا يومئذ بنت تسع سنين”.

مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا۔ یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس کی وجہ سے میرے بال گرنے لگے۔ پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں۔ اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے۔ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا۔ پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں۔ وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں، جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی کہ خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو۔ میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالہ کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی۔ اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے آپ کے سپرد کر دیا میری عمر اس وقت نو سال تھی۔”
کون سی سترہ انیس سالہ لڑکی گھر سے باہر سہیلیوں کے ساتھ کھیلتی ہے جسے اس کی ماں منہ ہاتھ دھلاتی ہے؟ باقی کی احادیث راویوں کی چین ان ٹیکٹ ہونا آپ خود پڑھ لیجئے گا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کی منگنی جبیر بن مطعم کے بیٹے سے ہو چکی تھی جسے اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے توڑ دیا گیا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی رضامندی شامل تھی۔کیونکہ نبی کے خاندان سے رشتہ جڑنا اعزاز کی بات ہوتی ہے۔کیا کبھی کسی روایت سے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس نکاح پہ راضی نہیں تھیں یا انہوں نے انکار کیا تھا؟جب انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا تو آپ کو کیوں ہے؟؟؟ اور اگر انہیں اعتراض ہوتا تو وہ خلع لے سکتی تھیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس بارے میں بتا سکتی تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہزاروں دشمن تھےجنہوں نے ان کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں اور ہر وقت اس کھوج میں رہتے تھے کہ کوئی ایسی بات ملے جس پہ وہ انہیں تنگ کر سکیں۔اور انہیں بدنام کر سکیں تاکہ لوگ مسلمان نہ ہوں۔ان میں سے بھی کسی نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی پہ انگلی نہیں اٹھائی نہ ہی کثرت ازدواج پہ۔کیونکہ یہ دونوں عام سی چیزیں تھیں۔ہر امیر غریب شخص تین چار یا زائد شادیاں کرتا تھا اور کم عمر لڑکیوں سے شادی عام تھی۔
تمام ازدواج میں سے آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سب سے لاڈلی بیگم تھیں۔اس کے باوجود آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دوسری بیگمات پہ رشک کرتی تھیں۔عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:” مجھے کسی خاتون سے اتنا حسد نہیں ہواجتنا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ۔وہ میری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شادی سے تین سال قبل انتقال فرما چکی تھیں۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کا اس قدر ذکر کرتے تھے، اور اللہ تعالٰی نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتیوں کے محل کی بشارت بھی دی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب کبھی قربانی فرماتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو گوشت ضرور بھجواتے تھے۔”بخاری 5658۔مسلم 2435
ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تعریف فرما رہے تھےکہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں:” یا رسول اللہ! آپ ایسی بڑھیا کے بارے میں کیوں بات کرتے ہیں جس کے مسوڑھے بھی سوج چکے تھے؟ اللہ تعالٰی نے آپ کو انکے بعد بہتر ازدواج سے نوازا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”نہیں عائشہ! اللہ تعالٰی نے خدیجہ سے بہتر کوئی بیوی مجھے عطا نہیں فرمائی۔وہ مجھ پہ اس وقت ایمان لائیں جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا ۔جب دوسروں نے اپنا،مال مجھ سے روک لیا توانہوں نے اپنی ساری دولت میرے لیے وقف کر دی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صرف ان سے میری اولاد ہوئی۔”
عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بہت سی جنگوں میں شرکت کی۔اور انہوں نے ہزاروں صحابیات اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہ سب سکھایا جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سیکھا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے گھر میں ان کی گود میں فوت ہوئے۔اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کے بارے میں سب سے زیادہ واقف تھیں۔
جب انہیں اس شادی پہ اعتراض نہیں تھا اور وہ اس شادی سے خوش تھیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے کہ عمر ابن العاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے صرف گیارہ سال بڑے تھے۔یعنی کہ ان کی شادی نو یا دس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ذرا سوچیے ان کی بیگم کی عمر کیا ہو گی؟؟؟
یہ سب اسلام سے قبل بھی جاری تھا۔یہ سوال بالکل احمقانہ ہے کہ وہ کون سا دودھ استعمال کر رہے تھے یا کون سا انجن استعمال کر رہے تھے۔اس لیے یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ 1400 سال پہلے کا معاشرہ آج کے معاشرے سے مختلف تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ زمانہ بھی بدلا ہے اور لوگ بھی۔1400 سال پہلے کم سن لڑکیوں کی بڑی عمر کے مردوں سے شادی نارمل بات تھی۔تاریخ گواہ ہے ایشیا، افریقہ اور یورپ میں بھی 9 سے 13 سالہ لڑکیوں کی شادی ہوتی رہی ہے۔
چلیے اپنی مغربی اور عیسائی تاریخ کو دیکھ لیجئے۔آپ کو بہت سی یورپی ملکائیں ایسی ملیں گی جن کی شادی عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی کم عمر میں ہوئی۔کیونکہ یہ مذہبی یا سماجی طور پر ایک نارمل چیز تھی۔سینٹ اگسٹین نے 350 عیسوی میں دس سالہ لڑکی سے شادی کی۔
فرانس کے بادشاہ چارلس ششم کی بیٹی ملکہ ازابیلا کی شادی 1396 میں برطانوی بادشاہ رچرڈ دوئم سے چھ سال کی عمر میں ایک معاہدے کے تحت ہوئی۔بادشاہ اس سے تئیس سال بڑا تھا۔
اراکا 1109 میں کوئین آف گلیشیا اینڈ اسپین بنی ،کی شادی 8 سال کی عمر میں ہوئی۔
کوئین آف نوآر جون کی شادی 11 سال کی عمر میں فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم سے 1284 میں ہوئی۔
جون آف انگلینڈ کوئین آف سسلی کی شادی 11 سال کی عمر میں 1177میں سسلی کے ولیم دوئم سے ہوئی۔
ایڈولیڈ ڈیل ویسٹو کہ شادی 13 سال کی عمر میں 1112 میں سسلی کے راجر اول سے ہوئی۔
کنگ رچرڈ دوئم نے 1400 عیسوی میں سات سالہ لڑکی سی شادی کی۔ہنری ہشتم 1500عیسوی میں چھ سالہ بچی سے شادی کی۔کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق مریم علیہ السلام کی عمر شادی کے وقت بارہ سال تھی جب ان کی شادی 99 سالہ جوزف سے ہوئی۔1929 سے قبل برطانوی چرچ کے منسٹرز 12 سالہ لڑکی سے شادی کر سکتے تھے۔1983 سے قبل بھی کیتھولک کینن لاء پادریوں کو 12 سالہ لڑکیوں سے شادی کی اجازت دیتا تھا۔
بہت سے لوگ لاعلم ہیں کہ 1988 میں امریکہ کی ریاست ڈیلور میں شادی کی کم سے کم عمر 7 سال، کیلیفورنیا میں دس سال میساچوسس میں 12 سال اور نیو ہمسور میں 13 سال جب کہ نیویارک میں 14 سال تھی اور آج بھی کئی امریکی ریاستوں میں نو دس سالہ بچیوں کی شادی بڑی عمر کے مردوں سے ہو رہی ہے۔
یہ بہت اہم بات ہے کہ اسلام میں بلوغت کی عمر سے پہلے شادی کی ممانعت ہے۔اور بلوغت کی عمر ہر خطے، علاقے اور ملک اور دور میں مختلف ہے۔سائنسدان کہتے ہیں کہ بلوغت کی عمر 9 سے 15 سال کے درمیان ہو سکتی ہے۔لائیو سائنس۔کوم۔
بلوغت کے بعد یہ مردو زن کی استعداد پر ہے کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پہ شادی کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔یا پھر اسپیشلسٹس اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کینیڈین تاریخ داں مارگریٹ ویڈ لیبارج کے مطابق،جو کہ 2009 میں فوت ہوئیں،قرون وسطی میں بھی عورتوں کی شادی نو سے دس سال کی عمر میں ہوتی رہی ہے کیونکہ صحرائی لڑکیاں جلد بالغ ہو جاتی ہیں۔”بینی ایس لیکس ۔
شکاگو کی سات ریاستوں کے ججزکے سربراہ رچرڈ اے پوسنر اوربوسٹن یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف لاء کی پروفیسر کیتھرین بی دونوں اپنی کتاب ” آ گائیڈ ٹو امریکاز سیکس لاء” میں صفحہ 44 میں کہتے ہیں:”1900سے قبل شادی کے لیے قانونی عمر دس سال تھی اور اس دور میں یہ نارمل بات تھی۔لیکن اب عمر کی حد تبدیل ہو گئی ہے۔انیسویں صدی میں امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں شادی کی عمر دس سال ہی تھی۔”
سر جان کم انز اور اسٹیورڈ کڈ اپنی کتاب ” ڈائجسٹ آف دا لاز آف انگلینڈ” کی جلد دوئم کے صفحہ 73 میں کہتے ہیں :” قانون کہتا تھا کہ لڑکیوں کی شادی کے لیے قانونی عمر نو سال ہے۔یعنی کہ نو سال کی لڑکی اس عمر میں اتنی میچور ہوتی ہے کہ شادی کر سکے۔لیکن قانون نو سال سے پہلے لڑکی کو شادی کی اجازت نہیں دیتا۔”
امریکی پروفیسر اور سوشیالوجسٹ انتھونی جوزف ” آپوزنگ ہیٹ اسپیچ” کے صفحہ 10میں کہتے تھے” ساٹھویں دہائی کے وسط میں دس سال کی عمر میں شادی کی اجازت تھی۔امریکن لاء سینٹر بھی اسی عمر کو تجویز کرتا تھا۔”
مائیک اے میلز اپنی کتاب ” ٹین ایج سیکس اینڈ پریگنینسی” کے صفحہ 40 میں لکھتے ہیں۔
” امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں شادی کے لیے عمر کی حد 10 سے 12 سال تھی ماسوائے ڈیلور کے جو کہ برطانوی لاء کے مطابق 7 سال کی عمر میں بھی شادی کی اجازت دیتی ہے۔”
ماتھا روزنتھال اپنی کتاب ” ہیومن سیکچوئلٹی: فرام سیلز ٹو سوسائٹی ” کے صفحہ 422 میں کہتی تھیں:” مائیک نے جو کچھ لکھا درست تھا اور ڈیلور میں شادی کی عمر 7 سال تھی۔”
میرل ڈی اسمتھ اپنی کتاب:”انسائیکلوپیڈیا آف ریپ” کے صفحہ 40 میں بیان کرتی ہیں:” ماضی سے حال تک کے دور میں بہت سے معاشروں نے بچوں کو زیادتی اور جنسی بگاڑ سے بچانے کی کوشش کی، اگرچہ جنسی بگاڑ ہر دور اور علاقے میں مختلف رہا ہے۔۔۔۔لیکن تاریخی طور پر بات کہ جائے تو 10 سے 13 سال کی عمر میں شادی کی اجازت تھی۔اور یہ حد اس دور کے معاشروں کے وقت اور ثقافت کے مطابق تھی۔اور ہر معاشرے میں بلوغت کی عمر مختلف تھی۔”
پاولا ایس فاس اپنی کتاب” دا رٹلیج ہسٹری آف چائلڈ ہڈ ان ڈاکٹرز ویسٹرن ورلڈ” کے صفحہ 253 میں لکھتی ہیں:”انیسویں صدی میں فرانس میں شادی کی عمر 10 سال تھی پھر اسے بڑھا کر 13 کر دیا گیا۔ ”
اگر آپ کے ہاں 7 سال شادی کی عمر ہو تو جائز ہے لیکن اگر ایک پیغمبر 9 سالہ لڑکی سے شادی کرے تو غلط ہے۔یہ دوہرا معیار کیوں؟؟؟ آج بھی سب سے کم عمر والدین کی عمریں 5 سال کی لڑکی سے لے کر دس سالہ لڑکے تک کی ہیں۔
ڈیلی مرر کی ایک رپورٹ کے مطابق 2011 میں ایک رومانین جیسی لڑکی بارہ سال کی عمر میں ایک بچی کی ماں بنی جس نے 11 سال کی عمر میں ایک بچے کو جنم دیا۔
آپ کے دس سال کے لڑکا لڑکی زنا کریں اور اس کے نتیجے میں بچے پیدا کریں تو بہت قابل فخر کارنامہ ہے لیکن ایک نبی نو سالہ لڑکی سے شادی کر لے تو غلط ہے۔غیر ضروری تنقید اور تعصب کی عینک اتار کر تجزیہ کریں توآپ کو حق و باطل میں فرق واضح نظر آئے گا۔
میرا موقف وہی ہے جو مفتی اسماعیل منک کا ہے کہ میرے ایمان عمل اور اطاعت رسول پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بوقت رخصتی عمر کتنی تھی۔ہاں اگر کسی کا ایمان خطرے میں ہو تو اسے چاہیے کہ ایسے فتنے سے بچے۔کیونکہ شروعات صرف ایک خیال وسوسے اور شک سے ہو گی پھر یہ شک پختہ یو گا اور آخر کار یہ ثابت کر دے گا کہ حدیث تو بندوں نے لکھی ہے جس میں اپنی مرضی سے جو چاہا لکھ لیا ہے۔اور انہی بندوں نے قرآن لکھا ہے اس لیے دونوں ہی مشکوک ہیں تو چلو دونوں سے بچ کے رہو۔
نوٹ:میری وال پر مختلف جید علماء کی ویڈیوز بھی موجود ہیں ۔اگر آپ خود دیکھنا چاہیں تو جس بھی عالم کو چاہیں یوٹیوب پر ان کی اس موضوع پر ویڈیو دیکھ لیجئے۔یا ان کے اس بارے میں آرٹیکلز پڑھ لیجئے اگر ممکن ہو تو ان سے مل کر سیر حاصل بحث بھی کر لیجئے۔بحث برائے بحث سے گریز کیجئے۔یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ آپ اختلاف میں ذاتی حملے کرنے لڑنے مرنے پر تیار ہو جائیں۔اختلاف ہے سر آنکھوں پر ۔آپ اپنی رائے پر قائم رہیے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔یہی رویہ میں اپنے بارے میں آپ سے روا رکھنے کی گزارش کرتی ہوں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.