اگست میں مون سون بارشوں کا 76 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، بھارت کے متعدد علاقے متاثر
نئی دہلی: بھارتی میڈیا کے مطابق رواں برس اگست میں مون سون بارشوں نے گزشتہ 76 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، جس سے ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ اور دہلی سمیت کئی ریاستیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
گزشتہ روز گروگرام شہر میں تین گھنٹے کی بارش نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے سے ہزاروں گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔ دہلی-جے پور ہائی وے پر 6 سے 7 کلومیٹر طویل جام کئی گھنٹے جاری رہا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ شہریوں نے اس صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہماچل پردیش میں 431 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، شملہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔ دہلی میں دریائے جمنا کا پانی خطرناک سطح سے تجاوز کر گیا ہے، جس پر حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جمنا کے کنارے ریت کے باکسز رکھے گئے ہیں جبکہ ہتھنی کُنڈ بیراج سے پانی کا اخراج جاری ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی میں بارشوں سے درجنوں گھر زیرِ آب آ گئے ہیں اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ پنجاب کے ضلع فیروزپور میں دریائے ستلج کے طغیانی سے 107 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب میں گزشتہ ماہ معمول سے 74 فیصد زیادہ بارش (253 ملی میٹر) ریکارڈ کی گئی، جبکہ راجستھان کے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اوڈیسہ، تیلنگانہ اور اروناچل پردیش کے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔