ججز کیخلاف خط، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں آگئے

0 28

 

ججز کیخلاف خط، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں آگئے

 

سپریم کورٹ نے اسلام ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت 29 اپریل تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی بینچ نے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اخترافغان بھی شامل تھے۔سماعت کے آغاز پر وکیل حامد خان نے کہا ہم نےلاہورہائیکورٹ بارکی طرف سے ایک پٹیشن کل دائر کی ہے، لاہور بار سب سے بڑی بار ہے جس نے پٹیشن دائر کی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا حامد خان آپ سے زیادہ قانون کون جانتا ہے، اب وہ زمانےچلے گئے جب چیف جسٹس کی مرضی ہوتی تھی، اب تین رکنی کمیٹی ہے جو کیسز کا فیصلہ کرتی ہے، نہ کمیٹی کو عدالت کا اختیار استعمال کرنا چاہیے نہ عدالت کو کمیٹی کا اختیار استعمال کرنا چاہیے۔

 

ان کا کہنا تھا کمیٹی کو عدالت اور عدالت کو کمیٹی کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، آج کل ہم گوبلز کا زمانہ واپس لا رہے ہیں، پروپیگنڈا ! (جوزف گوبلز ہٹلر کا پروپیگنڈا وزیر تھا)۔عدلیہ کی آزادی پرکسی قسم کا حملہ ہوگا تو سب سے پہلے میں اور میرے ساتھی کھڑے ہوں گے: چیف جسٹسچیف جسٹس نے وکیل حامد خان سے استفسار کیا آپ نے کوئی درخواست دائر کی ہےتو کمیٹی کو بتائیں، پٹیشنز فائل ہونے سے پہلے اخباروں میں چھپ جاتی ہیں، کیا یہ پریشر کیلئے ہے؟ میں تو کسی کے پریشر میں نہیں آتا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے نئی چیز شروع ہو گئی ہے، وکیل کہہ رہے ہیں ازخود نوٹس لیں، جو وکیل ازخود نوٹس لینے کی بات کرتا ہے

اُسے وکالت چھوڑ دینی چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا عدلیہ کی آزادی پرکسی قسم کا حملہ ہوگا تو سب سے پہلے میں اور میرے ساتھی کھڑے ہوں گے، عدلیہ کے کام میں مداخلت ہم پسند نہیں کرتے، اگر کسی کا اور ایجنڈا ہےکہ میں ایساکروں یا ویسےکروں تو چیف جسٹس بن جائیں، ہم دباؤ نہیں لیں گے، ہم ایڈمنسٹریٹولی کام کر رہے ہیں، ہم نے ایگزیکٹو سے چھپ کر گھر میں میٹنگ نہیں کی، چیمبر میں میٹنگ نہیں کی، ہم نے ایڈمنسٹریٹو حیثیت میں میٹنگ کی، اس میں قانون میں فرق واضح ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.