جانچ پڑتال کے بعد وزیر اعظم کو اچھی طرح رپورٹ پیش کریں گے ‘جہانگیر ترین

0 6

جانچ پڑتال کے بعد وزیر اعظم کو اچھی طرح رپورٹ پیش کریں گے ‘جہانگیر ترین

لاہور(  ویب ڈیسک)سیشن اور بینکنگ جرائم کورٹ نے جہانگیر ترین ، ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی۔جہانگیر ترین اپنے صاحبزادے علی ترین ،وکلاء اور حامیوں کے ہمراہ ایڈیشنل سیشن حامد حسین کی عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا اب تک کیا تفتیش ہوئی ۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ شریک ملزمان کے بیانات قلمبند کررہے ہیں ابھی تفتیش مکمل نہیں ہے ۔ جج نے استفسار کیا جہانگیر ترین اور علی ترین کا کیا کردار ہے ۔ تفتیشی نے جواب دیا اس کیس میں تمام ملزمان کے بیانات قلمبند کرنے اور بنکوں کے ریکارڈ کے ساتھ تفتیش کررہے ہیں ۔جہانگیر خان ترین کے وکیل نے کہا کہ میں عدالت کو بتاتا ہوں اس کیس میں کیا پیشرفت ہوئی ہے ،اس مقدمے میں ابوبکر خدا بخش کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنایا گیاہے،ابھی ابوبکر خدا بخش نے نوٹس نہیں کیا جب بلوائیںگے ہم پیش ہوں گے ۔اس مقدمے میں تفتیشی افسر عدالت کو جواب دے ۔جج نے کہا کہ میںکسی جے آئی ٹی کے سربراہ کا انتظار نہیں کرو ں گا تفتیش مکمل کریں ۔جس کے بعد عدالت نے سماعت19مئی تک ملتوی کر دی۔جہانگیر ترین ،علی ترین اوردیگر نے بینکنگ جرائم کورٹ میں اپنی حاضری مکمل کرائی ۔بینکنگ جرائم کورٹ کے جج امیر محمد خان نے جہانگیر ترین، علی ترین، رانا نسیم اور عامر وارث کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کیخلاف یہ تیسری ایف آئی آر ہے، سیشن کورٹ نے 19 مئی تک ضمانت میں توسیع کر دی ہے ۔عدالت میں یہ موقف بھی اپنایا گیا کہ اس کیس میں یہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ،یہ کسی بھی عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بلکہ اخراج کا کیس ہے۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ہماری عدالت سے استدعا ہے کہ تاریخ عید کے بعد رکھی جائے، عدالت کورونا وبا کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخ دے ۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیش میں مزید چار افراد شامل کیے ہیں، ابھی تفتیشی رپورٹ نامکمل ہے، انوسٹی گیشن تبدیل ہوئی ہے ابوبکر خدا بخش دیکھ رہے ہے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا جب بھی تاریخ ہوتی ہے ہم عدالت میں پیش ہوتے ہیں، تفتیش مکمل نہیں ہے تو دونوں عدالتوں میں19 مئی کی تاریخ ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بیرسٹر علی ظفر کی ڈیوٹی لگائی ہے وہ تفتیش میںدونوں طرف دیکھیں گے او رہمار ے تحفظات سنیںگے ۔ بیرسٹر علی ظفر نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ، وہ بہت اچھے ،سمجھدار او رمنجھے ہوئے وکیل ہیں ، یہ کیس کریمینل نہیں ہے اس میں ایف آئی ا ے کا کوئی کردار نہیں ، یہ کارپوریٹ کیس ہے اور اگر یہ کیس زیادہ سے زیادہ ہوتا تو ایس ای سی پی کے پاس ہوتا ،یہ بزنس ایشو ہے اس میںپبلک فنڈ کا کوئی استعمال نہیں ،اس میںکوئی سیکرٹریٹ اکائونٹ ہے اورنہ منی لانڈرنگ ہوئی ہے ۔ امید ہے کہ بیرسٹر علی ظفر اس کو دیکھیں گے اور اچھی طرح خان صاحب کو رپورٹ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہیں اور اس میں انہوںنے کھل کر باتیں کی ہیںاور اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میں خود اس معاملے کو دیکھوں گا اورانصاف ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تفتیش سے نہیں بھاگتے،میں کبھی اس سے نہیں بھاگا ،گزشتہ ایک سال سے تفتیش جاری ہے اور میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دستاویزات پیش کر چکا ہوں۔ میری کمپنی کی لوگوں کی 75سے 100کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں ، اس کا حل نکلے گا۔ہم نے کبھی نہیں کہا کہ کیس ختم کر دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ شفافیت سے پوری تفتیش کرو اور عوام دیکھیں کہ ہم سر خرو ہوئے ہیں۔انہوں نے شاہ محمود قریشی کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دوں گا یہ ہلکی باتیں ہیں ہم جیسے لوگوں کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں کہ ہم ایسی ہلکی باتیں کریں ۔انہوں نے بجٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم اس کیس پر بات کر رہے ہیں ، ہم نے بجٹ کی بات کی ہے اورنہ غور کیا ہے ۔میر ے ساتھ پارٹی کے بہت سے لوگ ہیں ، ملک بھر سے رہنما اور کارکنان فون کر کے اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہیں،سب کو معلوم ہے اورصاف ظاہر ہو رہا ہے اس کیس کی کوئی بنیادیں نہیں بلکہ یہ کسی اور وجہ سے ہیں ، اس کیس میںکوئی حقیقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ پیپلز پارٹی او رنہ ہی مسلم لیگ (ن) کاکوئی رابطہ ہو اہے ۔عدالت پیشی سے قبل وزراء اورارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر بیٹھک ہوئی جس میں مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.