پہلا پنجابی حکمران :مہاراجہ رنجیت سنگھ

0 145

الیاس محمد حسین
پنجاب کا سب سے پہلا پنجابی حکمران مہاراجا رنجیت سنگھ موجودہ پاکستان کے شہرگوجرانوالہ کے مقام پر 13 نومبر1780ءمیں پیدا ہوا اسے پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی ہونے کااعزاز بھی حاصل ہے مہاراجا رنجیت سنگھ کی بچپن ہی میں اس کی بائیں آنکھ چیچک سے ضائع ہو گئی تھی۔ اس لئے کہاوت ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ ہرکسی کو ایک آنکھ سے دیکھتے تھے وہ سکرچکیہ مثل کے سردار مہان سنگھ کا بیٹا تھا بارہ برس کا تھا کہ اس کا باپ مر گیا اور وہ مثل کا سردار بنا آپ نے 11 اپریل 1801ءبحیثیت سربراہ سکرچکیہ مثل (9 سال) کی عمر میں سنبھال لیا تھا جبکہ باقاعدہ بادشاہت کااعلان 12 اپریل 1801ء(بحیثیت مہاراجہ سکھ سلطنت) کیا ان کی حکومت کی مدت 38 سال 2 ماہ 15 دن بنتی ہے ۔ سولہ برس کی عمر میں اس کی شادی کھنیا مثل میں ہوئی اور ان دو مثلوں کے ملاپ سے رنجیت سنگھ کی طاقت اور بھی مضبوط ہو گئی۔ اس کی ساس سدا کور ایک قابل اور مقتدر عورت تھی۔ اس نے رنجیت سنگھ کی فتوحات میں بڑی مدد کی۔اس وقت پنجاب پر درانی قبیلہ کی حکومت تھی، مگر یہ صوبہ سکھوں کی بغاوتوں کی وجہ سے درانی حکمرانوں کے اثر سے باہر تھا۔ شاہ زماں والی ¿ کابل نے پنجاب پر حملہ کیا، مگر سکھ باغی اسے دیکھ کر اپنی پنا ہ گاہوں میں جا چھپے۔ شاہ زمان نے انہیں ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی، کیونکہ وہ جنگلوں، پہاڑوں اور اپنے مضبوط قلعوں میں چھپ چکے تھے۔ شاہ زمان کو کابل واپس جانا پڑا کیونکہ اس کی عدم موجودگی کے باعث دار الحکومت میں بغاوت کے آثار نمایاں ہوچکے تھے لہذا اس نے لاہور اور پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ ان دنوںلاہور شہر سکھ لٹیروں کے قبضہ میں تھا آئے روز کی لوٹ مارسے عوام (ہندو، مسلم، سکھ) سبھی تنگ اور پریشان تھے۔ تب اہالیان لاہور کو رنجیت سنگھ کی شکل میں ایک وسیلہ نظر آیا، چنانچہ معززین لاہور نے رنجیت سنگھ کو خطوط لکھے کہ لاہور آکر حکومت سنبھالے۔ یہ حکم اسے شاہ زمان والی ¿ کابل بھی دے چکا تھا۔مہاراجا رنجیت سنگھ کی تین بیویاں رانی موراں،رانی گل بیگم اورجند کور تھیں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں مئی 1799ءمیں لاہور پر قبضہ کرکے اسے اپنی راجدھانی بنایا۔ اس سے پہلے فاتح فوجیں مقامی لوگوںکا مال اسباب لوٹ کر نوجوان عورتوںکے ساتھ بدسلوکی کرتیں اور جو پسند آجاتیں انہیں کنیزیں بناکر ساتھ لے جاتے لاہور پر قبضہ کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اہالیان لاہور سے بہترین سلوک کیا اور اپنی سپاہ کو لوٹ مار کرنے سے منع کیا، جس سے وہ لاہوریوں میں مقبول ہو گیا اس کے تین سال بعد اس نے 1802ءمیں امرتسر فتح کیا۔ وہاں سے بھنگیوں کی مشہور توپ اور کئی اورتوپیں ہاتھ آئیں۔ چند برسوں میں اس نے تمام وسطی پنجاب پر ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ 1809ءمیں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد اس نے اٹک، ملتان، کشمیر، ہزارہ، بنوں، ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لئے۔ مہاراجا رنجیت سنگھ نے تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں ا±س کی فتوحات کے سبب سکھ سلطنت پنجاب ،بھارت سے کشمیر سے موجودہ خیبر پختونخوا اور جنوب میں سندھ کی حدود سے مل چکی تھیں اس لحاظ سے اس نے ایک طاقتور،مضبوط اور مستحکم حکومت قائم کرلی آپ انتہائی بہادر،زیرک اور معاملہ فہم تھے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات27 جون 1839ءمیں ہوئی اسے لاہورکے معروف شاہی قلعہ کے باہر( آج کے منٹوپارک)کے بالمقابل دفن کیا گیا ان کی سمادھی پر ہرسال اس کی سمادھی پر دنیا بھر سے سکھوںکے جتھے حاضری دیتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.