سریاب دھماکہ: شہداء کے لیے 15 لاکھ روپے امداد کا اعلان
کوئٹہ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور پولیس حکام کی نیوز بریفنگ
کوئٹہ شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے میں شہداء کی تعداد 15 تک پہنچ گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہداء کے لواحقین کیلئے 15 لاکھ روپے فی کس امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے پریس کانفرنس میں صورتحال سے آگاہ کیا۔
سریاب دھماکہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہداء کے لیے مالی امداد کا اعلان
کوئٹہ کے سریاب روڈ خودکش حملے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے جاں بحق ہونے والے ہر شہید کے لیے 15 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ شہداء کے لواحقین کو امداد جلد فراہم کی جائے گی اور زخمیوں کے لیے بھی بہترین طبی سہولیات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
مزید اپ ڈیٹ جاری ہے
کوئٹہ: سریاب روڈ دھماکہ، اموات 17، 38 زخمی
کوئٹہ کے سریاب روڈ پر شاہوانی اسٹیڈیم کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی جبکہ 38 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق واقعے کا مقدمہ قتل، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے اور نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ حملہ آور کی لاش کی باقیات قبضے میں لے کر فارنزک کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔
محکمہ صحت بلوچستان نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کے بہترین علاج کی ہدایت کی اور کہا کہ حملے میں ملوث افراد کی جلد نشاندہی کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس دلخراش واقعے میں 15 افراد شہید اور 32 زخمی ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
حمزہ شفقات نے بتایا کہ یہ واقعہ رات 9 بجکر 40 منٹ پر پیش آیا، جب جلسہ ختم ہو چکا تھا اور دھماکہ جلسہ گاہ سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خودکش حملہ آور کی لاش برآمد کر لی گئی ہے جس کی عمر 30 سال سے کم تھی۔ حملے میں 8 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی این پی (مینگل) جلسہ کرنے پر بضد تھی اور حکومت نے انہیں فراخ دلی سے این او سی جاری کی تھی، جس میں 17 سے 18 سیکیورٹی شرائط شامل تھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عید میلاد النبی کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں اور سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔