ھارون عباسی ۔۔۔۔ ماضی کی خوشگوار یادوں کے پیکر متحرک

0 181

دیکھ تجھے کتنا چاہا ہے کبھی غور تو کر

ایسے تو ہم کبھی اپنے بھی طلبگار نہ تھے

اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی ھارون عباسی کی شخصیت محبت کا پیکر اور اخوت کا بیان ہے ، محبت گو اندھی ہوتی ہے لیکن اس کی آنکھیں بڑی حسین ہوتی ہیں ، میں جب بھیڑ میں کھو جاتا ہوں تو اس جم غفیر میں سے کسی ایک انسان کو تلاش کر لیتا ہوں ، ہجوم میں نجوم تلاش کرتا ہوں اور ایک روز میں نے چراغ ھاتھ میں لیا اور انسان کی تلاش میں نکل پڑا تو مجھے جس آبادی سے عظیم انسان ملا وہ اشرافیہ کی بستی ہے اور مجھے اس بستی سے پیار ہو گیا ، اس بستی میں رھائش پذیر ہمارے ہمدم و دمساز محترم المقام جناب ہارون الرشید عباسی مل گئے تو میرے ھاتھ آسمان کی طرف اٹھ گئے اور بیساختہ پکار اٹھا کہ

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ✋ ھاتھ میرے اس دعا کے بعد

ھارون الرشید عباسی کا شمار بھی عبقری شخصیات میں ہوتا ہے ، جو اپنی مثال آپ ہوتے ہیں اور یہ مثالی لوگ یوں ہی مثالی نہیں بن جاتے ، انہیں پہلے مثال بننا پڑتا ھے ، میں نے اشرافیہ کی رہائشی بستی سے ایک ایسی ہستی تلاش کر لی جو ہمدرد اور دل میں درد رکھتے ہیں اور درد کی دولت کو عام کرتے ہیں ، ان ہی جلیل القدر انسانوں میں ھارون عباسی کا نام سر فہرست آتا ہے ، ہارون الرشید عباسی نے میٹرک تک تعلیم ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن لاہور سے حاصل کی۔ بعد ازاں ایف اے گورنمنٹ کالج ملتان اور گریجویشن ایف سی کالج لاہور سے کی۔ ایف سی کالج میں دوران تعلیم ہارون الرشید عباسی بزم ادب کے صدر رہے۔ اس دوران انہوں نے یادگار پروگرام کروائے جن میں تقریری مقابلے, سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیمینار, مختلف علمی اور ادبی شخصیات کی طلبا سے گفتگو اور ڈرامے شامل ہیں۔ ان تقریبات میں ملک کی نامور شخصیات حصہ لیتی تھیں جن میں قابل ذکر جسٹس ایس اے رحمان, اشفاق احمد اور سید ضمیر جعفری جیسی شخصیات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ہارون الرشید عباسی مشرق اخبار میں ایف سی کالج کی ڈائری جبکہ کالج میگزین میں مضامین لکھتے تھے۔
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کیا۔ جہاں ان کے اساتذہ میں معروف شخصیات ڈاکٹر عبدالسلام خورشید, پروفیسر وارث میر اور ڈاکٹر مہدی حسن شامل تھے۔
یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ مشرق اخبار کے لئے یونیورسٹی راؤنڈ اپ لکھتے تھے۔
اس کے علاوہ روزنامہ امروز, نوائے وقت اور اخبار جہاں اور پیمان میں ملکی اور بین الاقوامی امور, سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل کے علاوہ فکاحیہ مضامین بھی لکھتے رہے۔
یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوکر انہوں نے ریڈیو پاکستان میں بحیثیت سب ایڈیٹر ملازمت کا آغاز کیا اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بطور ڈائریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز ریٹائر ہوئے۔
دوران ملازمت انہوں نے لاتعداد ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں اور سربراہان مملکت کے دوروں کی کوریج کی۔ انہوں نے امریکہ, عوامی جمہوریہ چین, برطانیہ، سویٹزرلینڈ، سعودی عرب، یمن، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانی صدور اور وزرائے اعظم کے ہمراہ متعدد غیر ملکی دوروں کی کوریج بھی کی۔ اور حکمرانوں کی طبیعتوں سے بھی آشنا ہوئے ، عباسی صاحب کا سینہ رازوں کا دفینہ ہے ،
ہارون الرشید عباسی نے ریڈیو نیدرلینڈز کے زیر اہتمام ہونے والے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے متعلقہ 6 ماہ پروفیشنل کورس میں شرکت کی جس میں بیس سے زائد ممالک کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن ایڈیٹرز شامل تھے۔ انہوں نے پاکستان براڈکاسٹنگ اکیڈمی اسلام آباد میں ہونے والے متعدد پروفیشنل کورسز میں بھی شرکت کی۔
ہارون الرشید عباسی نے سربراہان مملکت کی نیوز کانفرنسوں, مختلف نوعیت کے بین الاقوامی کانفرنسوں اور جلسوں کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات کی نیوز کوریج بھی کی۔
بحیثیت ڈائریکٹر نیوز انہوں نے پہلی بار صدر مملکت کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا پندرہ زبانوں میں ترجمہ کروایا اور اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔
اس کے علاوہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے قومی سطح پر سرائیکی زبان کا بلیٹن شروع کیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ہارون الرشید عباسی روزنامہ ایکسپریس کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی وجاہت مسعود کی ویب میگزین ہم سب میں مختلف موضوعات پہ لکھ رہے ہیں۔
آج کل وہ اسپیشل ٹیلی ویژن کے پروگرام تعلیم اسپیشل کے اینکر کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں جہاں انہوں نے متعدد یونیورسٹیوں اور کالجوں کے سربراہان, وائس چانسلرز، ریٹائرڈ بیوروکریٹس, سائنسدانوں، سفارت کاروں اور علمی اور ادبی شخصیات کے انٹرویوز کر رہے ہیں جس کا سلسلہ جاری ہے۔ ھارون سے مل کر عباسی خاندان کی مروت و محبت کی قندیلیں فروزاں ہو جاتی ہیں ،

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.