آزاد کشمیر کا بجٹ اور پاکستان پر الزامات: حقیقت کیا ہے؟
آزاد کشمیر کا بجٹ اور پاکستان پر الزامات: حقیقت کیا ہے؟
تحریر نعیم اشرف
آزاد جموں و کشمیر کا حالیہ بجٹ ایک بار پھر اس حساس موضوع کو متحرک کر رہا ہے جو سوشل میڈیا پر جذباتی انداز میں اکثر زیرِ بحث آتا ہے: کیا پاکستان آزاد کشمیر کو مالی طور پر سہارا دے رہا ہے یا اس کا استحصال کر رہا ہے؟ حقائق بذاتِ خود سیدھے اور واضح ہیں۔* آزاد کشمیر کا کل بجٹ 310 ارب روپے ہے جن میں سے آمدنی ٹیکس *67 ارب، دیگر ٹیکس 17 ارب، داخلی محصولات 25 ارب اور پانی کے استعمال کے چارجز 1 ارب روپے بنتے ہیں۔ اس طرح آزاد کشمیر کی اپنی مجموعی آمدنی 111ارب روپے بنتی ہے اور *بقیہ 199 ارب روپے حکومتِ پاکستان کی جانب سے شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا بڑا حصہ وفاقی مالی معاونت پر منحصر ہے اور یہاں “سہارے” کا مطلب واضح ہے، نہ کہ “چوسنے” یا “استحصال” جیسا کہ بعض شورشیانہ بیانات میں دکھایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ خیال میں انقلاب لایا ہے مگر اسی انقلاب نے بے بنیاد پروپیگنڈے اور یکطرفہ بیانیے بھی عام کر دیے ہیں۔ ہر کوئی اپنی مایوسی یا غصہ اس آن لائن اسٹیج پر ڈال دیتا ہے جہاں حقائق کی چھان بین کم اور جذباتی تقاریر زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ جو لوگ چھوٹے مسائل یا کسی مخصوص ادارے کے خلاف سخت لہجے میں بات کرتے ہیں، وہ اکثر پورے قومی سروے یا اعداد و شمار کو نظر انداز کر کے اپنی رائے کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے معاملے میں بھی یہی منظرنامہ نظر آتا ہے: کچھ حلقے یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ پاکستان آزاد کشمیر کے “وسائل” ضائع کر رہا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اور مالی اعداد و شمار اس کے برعکس واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستِ پاکستان نے آزاد کشمیر کو دفاع، خارجہ پالیسی، بنیادی ڈھانچے اور مختلف شعبوں میں مالی امداد فراہم کی ہے، امداد جو نہ تو احسان کے زمرے میں آتی ہے اور نہ ہی ایکطرفہ استحصال کی تصویرکھینچتی ہے۔ یہ امداد ایک ذمہ داری کی صورت ہے جس کا تعلق آئینی اور جغرافیائی حقائق کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار کو پرکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ آزاد کشمیر کی خود مختاری کے باوجود بڑے سرکاری شعبوں میں وفاقی کردار اہم رہا ہے، اور یہ کردار مسلسل رہا ہے تاکہ عوامی سہولیات، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح و بہبود جاری رہ سکیں۔ یہ کہنا کہ “پاکستان ہمیں کھا رہا ہے” نہ صرف غیر مستند ہے بلکہ اس سے عوام میں بےچینی پھیلتی ہے۔ اختلاف رائے کا حق سب کو ہے اور صحافتی طور پر مسائل کے نوٹس لینا ضروری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ طنز و تنقید کی آڑ میں قومیت، اتحاد اور ریاستی اداروں کو بےبنیاد الزاموں کا نشانہ بنایا جائے۔ ریاست اور اس کے ادارے کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتے ہیں؛ جب ہم انہی بنیادوں کو بےوجہ کمزور کرنے لگیں گے تو خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائیں گے۔ تنقید تعمیری اور شائستہ انداز میں ہونی چاہیے تا کہ اسے سن کر اصلاح ممکن ہو، نہ کہ وہ زبان جو صرف تفرقہ اور اشتعال پیدا کرے۔ موجودہ دور میں صحافتی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، صحافتی انداز احتیاط اور توازن کا متقاضی ہے کیونکہ ایک طرفہ یا ناقص رپورٹنگ سے نہ صرف رائے عامہ متاثر ہوتی ہے بلکہ قومی مفادات کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ آزاد کشمیر کے بارے میں بات کرتے وقت شواہد اور اعداد و شمار کو سامنے رکھنا لازمی ہے، اس کے بجٹ، وفاقی گرانٹس اور مقامی محصولات کا ڈیٹا عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ بحث معروضی اور معلوماتی رہے، نہ کہ جذباتی اور گمان پر مبنی۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان نے تاریخی و جغرافیائی وجوہات کی بنیاد پر آزاد کشمیر کے مسائل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ اپنی خارجہ، دفاعی اور اقتصادی پالیسیاں اسی تناظر میں ترتیب دیتا آیا ہے۔ سوال اٹھانا اور جواب طلب کرنا جمہوریت کا حصہ ہے، مگر جواب طلبی کا عمل شائستگی اور دانش مندی کے ساتھ ہو تو اس کا فائدہ ہوتا ہے؛ بصورتِ دیگر وہ عمل افواہوں اور غلط معلومات کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ آزادی اظہارِ رائے کی مہم میں ہمیں ایک بار پھر یاد رکھنا ہوگا کہ ریاست لاوارث نہیں، اور نہ ہی عوامی جذبات کو کسی بھی وقت ریاست یا اداروں کے خلاف تباہ کن انداز میں پیش کرنا درست ہے۔ اصلاحی تجاویز، شفافیت کےمطالبات، اور احتساب سب جائز ہیں مگر ان سب کا مقصد بیگانگی یا دشمنی فروغ دینا نہیں ہونا چاہیے۔ قومیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب اختلاف کو احترام اور دلائل کی بنیاد پر سامنے رکھا جائے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے اور اس کا مطلب محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم ہے۔ آزاد کشمیر اور اس کے عوام کے مسائل کا حل بحث اور شفافیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ جذباتی تبصروں اور مبہم الزامات کے ذریعے قومی ہم آہنگی کو کمزور کرکے۔ ہمیں اپنی گفتگو میں شائستگی، دانش مندی اور معروضیت کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مسائل کا حل ملحوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھا جا سکے، اور یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مضبوط اور ہم سب کو محفوظ رکھے گا۔