تعلیمی درسگاہ یا سینما تھیٹر

1 290

انفرادی طور پر کسی شخص کی غلطی کو کسی ادارے جماعت یا اجتماع سے جوڑنا مناسب نہیں ، مثلاً اگر کسی مدرسے یا سکول کے استاد سے غلطی سرزد ہوجائے، آپ پورے ادارے یا اس سے متعلقہ تمام شعبوں کو برا بھلا کہیں تو یہ انصاف نہیں، اگر غلطی انتظامیہ یا سربراہ کی منشائ کے مطابق ہو تو یہ ناقابل معافی جرم تصور ہوگا ، کیوں کہ یہ اجتماعی غلطی تصور ہوگی ، عین اسی طرح گزشتہ دنوں بلوچستان کی ایک معروف یونیورسٹی بیوٹمز میں وائس چانسلر /انتظامیہ کی اجازت اور سرپرستی میں مرد وزن کی مخلوط محفل سجائی گئی، اسٹیج پر لڑکوں اور لڑکیوں نے موسیقی وسرود کی سونگز پر مخلوط ڈانس کرتے ہوئے اسلامی، پشتون اور بلوچ کلچر کی دھجیاں اڑائیں ، یقیناً اس حیائ سوز محفل میں وائس چانسلر یا کسی پروفیسر کی بیٹی یا بہن نہیں ہوئی ہوگی ، کیوں کہ یہ ان کی غیرت و حمیت کے خلاف ہے، یہ دوسروں کی بیٹیاں بہنیں تھیں جن کو نچاکر ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنادی گئیں، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تعلیمی درس گاہوں اسلامی تعلیمات پر مبنی سوسائٹی کی تشکیل کے بجائے بے ہودہ مغربی کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے ذمہ داران دوسروں کے بچوں کو استعمال کررہے ہیں، اب یہ تمیز ختم ہوگئی کہ یہ تعلیمی درسگاہ ہے یا کوئی فلمی یا ڈرامہ تھیٹر ، اس قسم کی بے ہودگی بلوچستان کی دیگر نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں پہلے بھی رپورٹ ہوچکی ہے، نوجوانوں کے سامنے دختران قوم کو نچوانا غیرت وحمیت پر زور دار طمانچہ ہے، صوبے کی نامور یونیورسٹیوں میں مخلوط پروگراموں کے اندر مرد وزن کیلئے گناہ اور بے راہ روی کا ماحول بنانا اسلامی تعلیمات سے کھلی بغاوت ہے، اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیئے، کیوں کہ اسلامی اور قبائلی معاشرے میں یونیورسٹی رقص و سرود کی محفلیں سجانا اور اخلاق سوز سر گرمیوں سے معماران قوم کی ذہنی اور اخلاقی کر دار سازی کی بجائے فحاشی ،عریانی اور مغربی تہذیب کے راہ پر ڈالنے کی کوشش ہے جو شعائر اسلام اور پشتون بلوچ روایات اور آئین پاکستان کے یکسر منافی ہے۔ ایسے حالات میں بچوں کی شحصیت سازی ضروری ہے نہ کہ مخلوط بے ہودہ ناچ گانے سے منفی افکار کو فروع دیا جائے۔ بدقسمتی سے جامعات علم کے نور پھیلانے کی بجائے ظلمت پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اگر دوسری طرف دیکھا جائے پشتون بلوچ قوم پرست جماعتیں جو اپنے آپ کو اپنے کلچر اور غیرت کے نام پر سیاست کرتی ہیں مکمل خاموش ہیں۔ مجموعی طور پر یونیورسٹیوں میں طلبائ و طالبات کی بے راہ روی میں وہاں قائم کردہ غیر اسلامی ماحول کا بڑا دخل ہے ، وزارت تعلیم اور حکومت پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہئیے، یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے، تعلیم حاصل کرنے کے بعد ،نوجوان نسل نے آئندہ وقت میں پاکستان کے مختلف شعبوں میں اپنا کردارادا کرنا ہے، لیکن ان دونوں کا تعلق ہماری نوجوان نسل سے ہے اور وہ مسئلہ ”اخلاقی بے راہ روی “ ہے جس کاآغاز ”دوستی اور فرینڈشپ“ سے ہوتا ہے۔ یونیورسٹیز خاص طور پر پرائیویٹ یونیورسٹیز اس کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔
صورت حال یہ ہے کہ ایسے تعلقات کا اظہار برملا کیا جاتا ہے۔ دوستوں کو تمام تعلقات و واقعات کی خبر ہوتی ہے، تعلیمی اداروں کے بہترین ماحول کے لئے صحت مند اور علمی سرگرمیوں کے علاوہ ایک اخلاقی ضابطے کا ہونا ازحد ضروری ہے جس کامقصد کسی کی شخصی آزادی کوسلب کرنا نہیں
یونیورسٹی کے تعلیمی مقاصد کوحاصل کرنا ہو، اس اخلاقی بے راہ روی کے سدباب کی گزارش کر رہاہوں جس نے کئی زندگیاں تباہ ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کو انکے بنیادی مقصد سے ہی دور کردیاہے جووہ یونیورسٹی لے کر آتے ہیں۔یہ مسئلہ ایک تعلیمی ادارے کا نہیں ہے یہ تقریباً تمام اداروں کا مسئلہ ہے۔ اس کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں۔ بیرونی سبب فلموں ، ڈراموں اور گانوں کا وہ آزادانہ ماحول ہے جس نے نوجوانوں کوجذبات اور خواب کی دنیا کا باسی بنادیا ہے۔اس سے چند دن قبل کوئٹہ کے شاپنگ مال میں بے ہودگی پر مبنی مردوزن کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی سماجی اور دینی حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شاپنگ مال کے مالک کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اگر دیکھا جائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بے ہودگی،شرمناک عریانی،شراب نوشی اور تمام شرمناک افعال وغیرہ اسی طرح کھل کر ہر برا کام نہ صرف کرنا بلکہ اس کو پھیلانا فحش کہلاتا ہے۔مثلاً بد کاریوں پر ابھارنے والے افسانے ،فحش عریاں تصویریں،عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر انا ،مردوں اور عورتوں کا اختلاط ،سٹیج پر عورتوں کا گانا ناچنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا فحاشی پھیلانے میں اتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاﺅ۔وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔ارشاد باری تعالیٰ ہے “اے لوگو! جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقش قدم پر نہ چلواسکی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا”( النور۔ 21)

You might also like
1 Comment
  1. تعلیم

    […] تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کیلئے ترقی کی ضامن ہے، ڈی ڈی او چمن […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.