رضا کاروں کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب

0 11

رضا کاروں کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب

منشاقاضی

حسبِ منشا

لاھور کی سرد لیکن نرم شام، المصطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ کے ہیڈ آفس کی روشن راہداریوں میں ایک ایسی فضا گھلی ہوئی تھی جو محض روشنیوں سے نہیں بلکہ انسانیت کے لیے وقف تھکن سے عاری قدموں کی خوشبو سے بنی تھی۔ یہ تقریب المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے اُن رضاکاروں اور خدمت کی اس عظیم روایت کے سپرد کر دی ہیں۔ تقریب کا اہتمام ٹرسٹ کے ہیڈ آفس، مزنگ، لاہور میں غیرمعمولی وقار اور مہارت سے کیا گیا۔ منتظمین محترمہ نصرت سلیم مینجنگ ڈائریکٹر المصطفٰی آئی ہسپتال ٹرسٹ اور جناب نواز کھرل شعبہ ء ابلاغ کے سربراہ جن کی قیادت میں سیلابی علاقوں میں رضاکار ٹیموں نے دنیا کو ایک پیغام دیا ہے کہ طوفانی لہروں میں پھنسی ہوئی انسانیت کو ساحلِ مراد تک کیوں کر لایا جا سکتا ہے نواز کھرل کی بے بدل شصیت نے اسے ایک بھرپور، منظم اور یادگار پروگرام بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہر نشست، ہر لمحہ، ہر اشارہ اُن کی پیشہ ورانہ مہارت کی گواہی دیتا رہا۔ محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم کے بعد نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا تو حاضرین میں ایک سنجیدگی اور وقار کی فضا قائم ہو گئی۔ انسانیت کے درد سے لبریز یہ اجتماع اصل میں ایک ایسے سفر کی کہانی تھا جو خاموشی سے، بے پناہ جدوجہد کے ساتھ، لوگوں کے دکھ بانٹتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی خدمات المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی پہچان اور اُس کے کارکنان کا اعزاز ہیں۔ مہمان خصوصی جناب پیر سید عمران ولی شاہ کی پرکشش شخصیت تھی اور ان کی دور اس نگاہ کا یہ اعجاز تھا کہ ماحول میں ایک روحانی چاندنی بکھری ہوئی تھی انہوں نے خطاب کرتے ہوئے ٹرسٹ کی جدوجہد کو ’’محبت کی مسلسل لکھی جانے والی داستان‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے کارکن ہر اُس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں انسانیت مدد کے لیئے پکارتی ہے۔ اُن کی باتوں میں اخلاص بھی تھا اور اِس عزم کی روشنی بھی کہ ایسی تنظیمیں ہی معاشروں کو زندہ رکھتی ہیں۔ پیر صاحب نے رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں؛ وہ ہاتھ جو انسانیت کو تھام لیتے ہیں، وہ دل جو لوگوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں، وہ قدم جو منزل کی نہیں بلکہ خدمت کی تلاش میں آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ پیر سید عمران ولی نے اپنے دست مبارک سے رضاکاروں کو ان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں شیلڈیں پیش کی رضاکار سیالکوٹ جنیوٹ جنگ فیصل اباد جیلم منڈی بہت دین سے ائے ہوئے تھے اور ان کے چہروں پر طمانیت کا نور اور خدمت کے جذبات صبحِ صادق کی طرح شفاف تھے ۔۔

اس کے بعد جناب عبدالرزاق ساجد صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں ٹرسٹ کی عملی جدوجہد اور زمینی حقیقتوں پر روشنی ڈالی۔ عبدالرزاق ساجد ایک خاموش سماجی سائنسدان ہیں انہیں ادارے قائم کرنے ان کو چلانے کا ہنر آتا ہے کیونکہ ادارے محض اینٹوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتے یہ احساس۔ اخلاص اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑے ہوتے ہیں محترم عبدالرزاق ساجد نے المصطفی آئی ہسپتال ٹرسٹ کو گھر کا درجہ دے رکھا ہے کیونکہ گھر میں تعلقات مفاد کے نہیں اعتماد کے ہوتے ہیں اور یہی جذبہ کسی بھی ادارے کو زندگی بخشتا ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح یہ ٹیم دن رات ایک کر کے صحت، امداد، بحالی، تعلیم اور سماجی فلاح کے متعدد منصوبوں کو کامیابی سے چلانے میں مصروف ہے۔ ان کے لہجے میں کارکنان کے لیئے فخر اور محبت جھلکتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’خدمت ایک عبادت ہے، مگر وہ عبادت تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک نیت میں اخلاص اور عمل میں تسلسل نہ ہو، اور یہ دونوں خوبیاں اس ٹیم میں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔‘‘ تقریب کے دوران رضاکاروں کے چہروں پر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ وہ خوشی جو کسی ایوارڈ یا تمغے سے نہیں بلکہ اس اطمینان سے پیدا ہوتی ہے کہ اُن کا سفر رائیگاں نہیں جا رہا؛ کہ کہیں نہ کہیں اُن کی ایک کوشش نے کسی کے درد کو کم کیا، کسی کے دل میں امید جگائی۔ آخر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹرسٹ کی یہ روایت محض سماجی خدمت نہیں بلکہ کردار سازی اور اجتماعی ذمہ داری کا آئینہ ہے۔ معاشرے میں خیر کے یہ چراغ روشن رہیں تو تاریکی کبھی طاقت نہیں پکڑ سکتی۔ اس تقریب کی ایک خاص انفرادیت یہ تھی کہ اس میں تقریریں کرنے والے بہت زیادہ تھے لیکن آج نواز کھرل کی بولنے والی زبان سننے والے کانوں کی محتاج تھی اور سننے والوں کے کان نواز کھرل کی بولنے والی زبان کے لیئے ہم تن گوش تھے ۔ جی چاہتا تھا کہ وہی بولتے رہیں اور ہم سنتے رہیں اگر مجھے نواز کھرل کا حافظہ مل جائے تو میں تمام احباب کے نام اس کالم میں لکھوں ۔ لیکن ہم تو غالب کہ قبیل کے لوگ ہیں انہوں نے کہا تھا۔۔

کہ

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

لیکن آج محسوس ہوتا ہے کہ یادِ ماضی ثواب ہے یارب

نہ چھین مجھ سے حافظہ میرا

نواز کھررل کا حافظہ لفظوں کی ڈکشنری اور تعلقات کی ڈائریکٹری ہے نواز کھرل نے تقریروں کی بجائے ان رضاکاروں کو ان کی کارکردگی کی بنا پر انہیں اعزازات سے نوازا جنہوں نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیئے ایک ایک مہینہ اپنے گھر سے دور رہے اور وہاں کشتیوں میں بیٹھ کر لوگوں کو کھانا کھلایا انہیں تسلی دی میڈیکل کیمپوں کا انعقاد کیا اور طوفانوں میں اطمینان افروز ماحول تخلیق کیا ۔ ہمارے رہبروں کے رہنما خواجہ جمشید امام نے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی ایسے کی کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ مسیحائی کر رہے ہیں انہوں نے جنگ بدر سے لے کر غزہ تک رضاکاروں کا ہی تذکرہ کرتے ہوئے تاریخ کے اوراق پلٹے تو اس میں طرابلس کی جنگ میں پانی پلانے والی رضاکارہ فاطمہ بنت عبداللہ کا بھی تذکرہ ہوا جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ۔

فاطمہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے

ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے

خواجہ جمشید امام مغرب اور مشرق کے مفکرین کے افکار و نظریات کہ حافظ ہیں وہ حوالہ جات کے بغیر بات نہیں کرتے وہ دلائل و براہین سے آراستہ گفتگو کے امام ہیں ہم ان کی گفتگو کی جستجو میں اپنی آرزو جگا لیتے ہیں ۔ط ایسے جلیل القدر جواں فکر رہنما کا ہمارے درمیان ہونا ہمارے لیئے حوصلے کا باعث ہے ۔ ہم خواجہ جمشید امام اور نواز کھرل کی رہنمائی میں منزلِ مراد کی طرف بڑھ رہے ہیں انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب یہ قافلہ ء نو بہار اپنی منزلِ مراد پر پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ خوشحالی کا سورج آسمان کے افق پر کیوں کر طلوع ہوتا ہے ۔ عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کا کام بولتا ہے محترمہ نصرت سلیم مینجنگ ڈائریکٹٹر کی کاوش اللہ کی نوازش ہے اور ان کے ساتھ سائرہ ملک۔ عائیشہ جاوید ۔ ثمر شاہد ۔ سائرہ اعجاز ۔ شہناز گیلانی۔ مہک عامر۔ یاسمین مشتاق۔ فائزہ صغیر ۔ناظمہ اجمل عالیہ عامر جیسی عظیم سماجی سائنسدان خواتین موجود ہیں جن کی محنت ِ شاقہ اور مہارتِ تامہ کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے ثمر شاہد نے اپنے خطاب میں المصطفی آئی ہسپتال کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہمارے ملک کے نامور شاعر جنہیں مجیب الرحمٰن شامی مولانا ظفر علی خان کے قبیل کا فردِ فرید قرار دیتے ہیں پروفیسر ناصر بشیر بھی موجود تھے ۔ محترم نواز کھرل صاحب نے جہاں رضاکاروں کو شیلڈیں پیش کیں ۔ وہاں وہ اپنے قبیلہ ء قلم و قرطاس کے ساتھیوں کو بھی نہیں بھولے ۔ آپ نے خواجہ جمشید امام ۔ فضیلت مآب جناب عامر خاکوانی ۔ پروفیسر ناصر بشیر اور عادل وحید کو بھی اعزازات سے نوازا اور یہ اعزاز کیا تھا خوبصورت شیلڈ کی صورت میں ہمیشہ یادوں اور خیالوں میں روشنی بکھیرتی رہے گی ۔

تقریب ختم ہوئی تو ایسا لگ رہا تھا جیسے فضا میں بھی ایک دعا رچی ہوئی ہو۔۔محبت کی، خدمت کی، اور اس یقین کی کہ انسانیت کا سفر اُن لوگوں کی وجہ سے جاری ہے جو اپنا آج دوسروں کے کل کے لیئے وقف کر دیتے ہیں۔ ہمارے قلم قبیلے کے سردار سید ارشاد عارف جن کا قوم کے اجتماعی ضمیروں میں بے پناہ احترام موجود ہے ۔ ان کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی اور ان کے دستِ مبارک سے رضاکاروں نے شیلڈیں وصول کیں تو رضاکاروں کے چہروں پر باطنی حسن کی چاندنی پھیل گئی۔ سید صاحب کی آمد پر وفاقی وزیر پیر سید عمران ولی شاہ خود نشست سے اٹھے اور سید صاحب کا خیر مقدم کیا تو سامعین بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ ملک کے نامور شاعر انجینیئر توقیر احمد شریفی جن سے نیکی ۔ بھلائی اور خیر کے کام جتنی سریع الحرکتی سے انجام پاتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی وہ بہترین سماجی سائنسدان اور اعلیٰ ترین بلند خیالات کے بے بدل شاعر ہیں۔ المصطفی ہسپتال کے علاوہ رحمٰن فاؤنڈیشن کے بھی وہ ڈونر ہیں ایسے لوگوں کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے توقیر احمد شریفی کئی فلاحی تنظیموں کے معاون ہیں ان کا تعاون کسی بھی فلاحی ادارے میں جزوِ اعظم کی حیثیت رکھتا ہے ۔

ایسے لوگ قیمت سے نہیں ملتے قسمت سے ملتے ہیں اور ان سے مل کر زندگی سے پیار ہو جاتا ہے بقول شاعر

جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.