فاروقی ؓ عدل، مسلم حکمرانوں کیلئے اسباق

0 368

نورحسین افضل
حضرت عمر ؓ کا پیکر عدل و انصاف ہونا آپ کو بڑے بڑے حکمرانوں سے ممتاز و مزین کرتا ہے۔ اسی عدل و انصاف کی وجہ سے ساڑھے 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ پر آپ کی خلافت اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ موجود رہی اور رعایا نے آپ کے تمام احکامات کو دل و جان سے قبول کیا۔ آپ عدل و انصاف کا اطلاق بلا امتیاز اور بلا جھجھک یکساں طور پر ہر ایک پر کرتے خواہ آپ کا اپنا بیٹا ابو شحمہ ہی کیوں نہ ہوں۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں عدالت کا محکمہ باقاعدہ قائم ہوا۔ حکومتی نظام کو احسن طریقے سے چلانے اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے آپ نے عدالتی امور کو حکومتی امور سے الگ کردیا۔ ججز کی تقرریاں میرٹ پر کرنے اور تمام فیصلے آزادانہ حیثیت میں قرآن و حدیث کے مطابق کرنے کے باقاعدہ احکامات جاری فرمائے۔
آپ اپنے مقرر کردہ گورنرز، والیوں اور ججز پر سخت گرفت فرماتے۔ ان کی کارکردگی کے جائزہ کے لئے محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کر رکھا تھا۔ جہاں کہیں سے شکایت ملتی یا کہیں بے انصافی کا گمان ہوتا فوراً گرفت فرماتے۔ سیف اللہ حضرت خالد بن ولید، فاتح قادسیہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے کبار صحابہ کو معزول کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔
(تاريخ ابن خلدون، 1: 388)
گورنروں کی تقرری کرتے وقت ان سے حلف لیتے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا، باریک کپڑے نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دروازے پر دربان نہ رکھنا، حاجت مندوں کے لئے ہر وقت دروازے کھلے رکھنا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ صوبوں کے تمام گورنروں کو آپ نے ایک مقام پر اکٹھا کیا۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت سلمان فارسی، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت حذیفہ بن الیمان، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت عتبہ بن غزوان، حضرت عثمان بن عاص، یعلیٰ بن امیہ، نعمان، عمرو بن سعید، مثنیٰ بن حارثہ، عتاب بن اسید رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے متقی، پرہیزگار اور خوف خدا رکھنے والے تمام گورنرز سامنے موجود تھے۔ انہیں اس طرح مخاطب ہوکر نصیحت فرمائی: خبردار! میں نے تمہیں امیر اور سخت گیر بناکر نہیں بھیجا بلکہ امام بناکر بھیجا ہے تاکہ لوگ تم سے ہدایت پائیں۔ عوام کے حقوق ادا کرو اور ان پر بے جا سختی نہ کرو کہ وہ ذلت محسوس کرنے لگیں اور نہ بلاوجہ نرمی کرو کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہو جائیں۔ اپنے دروازے ان پر بند نہ کرنا کہ طاقت ور کمزور کو ستانے لگیں اور نہ ہی ان سے کسی بات میں اپنے آپ کو برتر سمجھو کیونکہ یہ ظلم کے مترادف ہے۔ (تاريخ ابن خلدون، 1: 386)
ایک دفعہ حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ والی مصر کے بیٹے محمد بن عمرو نے ایک مصری غلطی پر کوڑے مارے، مصری حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے محمد بن عمرو کو مدینہ بلوا بھیجا۔ جب دونوں مدینہ پہنچے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مظلوم مصری کو بلوایا اور اس کے ہاتھ میں کوڑا دے کر فرمایا کہ اسے پکڑو اور اپنا بدلہ لو۔ مصری نے کوڑا لیکر بدلہ لے لیا۔ ( کنز العمال 355/6 )
حضرت عمر ؓ کے عدل و انصاف کے پیچھے کار فرما روح صرف اور صرف خوف الہٰی تھی۔ صحابہ کرام میں آپ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حساب سے ڈرنے والے تھے۔
غسان کے حکمران ’’جبلہ بن الایہم‘‘ کا واقعہ عدل فاروقی کی عظیم مثال ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آپ کے نزدیک آقا و غلام، بادشاہ و گدا میں فرق نہ تھا۔ جبلہ بن الایہم نے دوران طواف ایک بدو کو تھپڑ مارا۔ وہ امیرالمومنین سے انصاف طلب کرنے پہنچ گیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جبلہ بن الایہم کو پکڑ کر بدو کے حوالے کیا جائے اور وہ اس کے منہ پر اسی طرح تھپڑ مارے جس طرح اس نے اسے مارا ہے۔ گویا کسی حکمران یا رئیس کی طاقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انصاف میں رکاوٹ نہ بنتی۔
(سيدنا فاروق اعظم رضی الله تعالیٰ عنه، محمد حسين ہيکل، ص604)
حضرت عمر ؓ کے عدل و انصاف کے یہ ہی وہ اسباق ہیں جس پر عمل پیرا ہوکر مسلم حکمران اپنے ملک اور رعایا کی تقدیر کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ دلی دعا ہے اللہ تعالی مسلم حکمرانوں کو ان اوصاف پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.