پی ڈی ایم عوام کے حقوق، جمہوریت کی بحالی اورتمام اداروں کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے

0 1

(ویب ڈسک)
حکومت نے اس مرتبہ آئی جی پولیس کے ذریعے یوٹرن لیا، پی ڈی ایم عوام کے حقوق، جمہوریت کی بحالی اورتمام اداروں کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے، مرکزی قیادت کو یہ باور کرواتے ہیں کہ بلوچستان اسمبلی سے استعفیٰ تو کیا ہم اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں، اسلام آباد اور لاہور کے جلسوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پورے بلوچستان کو جام اور سخت مذاحمت کریں گے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے عظیم الشان احتجاجی جلسہ سے مولانا عبد الواسع ،عثمان خان کاکڑ،آغاحسن بلوچ، رشیدناصر ،خیرجان بلوچ اور دیگر کا خطاب

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملتان کے جلسے پر کریک ڈاؤن کے بعد حکومت نے آئی جی پولیس کے ذریعے یوٹرن لیا، پی ڈی ایم کو احتجاج پر مجبور کر کے حکومت نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے، پی ڈی ایم عوام کے حقوق، جمہوریت کی بحالی تمام اداروں کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے،عمران خان اور انکی ٹیکنوکریٹ کابینہ کے خلاف عوامی احتجاج اور جلسے ریفرنڈم ثابت ہوئے ہیں، بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے اغواءبرائے تاوان، قبضہ مافیا ،جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کو یہ باور کرواتے ہیںبلوچستان اسمبلی سے استعفیٰ تو کیا ہم اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں، اسلام آباد اور لاہور کے جلسوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پورے بلوچستان کو جام اور سخت مذاحمت کریں گے ۔

یہ بات جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، پشتونخواءملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثما ن خان کاکڑ، بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے رشید خان ناصر، مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے عصمت اللہ سالم، پاکستان پیپلز پارٹی کے ولی محمد قلندرانی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالوہاب اٹل نے جمعہ کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی صدر مولانافضل الرحمن کی کال پر ملتان میں جلسے اور پی ڈی ایم رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن مقدمات درج کرنے اور گرفتاریوں کے خلاف میزان چوک پر احتجاجی ریلی اور مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ، پشتو نخواءمیپ کے رہنماءسابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیاتوال، ارکان صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو ، نصر اللہ زیرے، احمد نواز بلوچ، حاجی نواز کاکڑ، جمعیت علماءاسلام ضلع کوئٹہ کے امیر عبدالرحمن رفیق، مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ،نیشنل پارٹی کے رہنماءعطاءاللہ بنگلزئی، پشتونخوا میپ کے رہنماءکبیر افغان و دیگر بھی موجودتھے

۔مقررین نے کہا کہ کورونا بہانہ ہے پی ڈی ایم نشانہ ہے تمام سازشوں کے باوجودملتان کا جلسہ کامیاب ہوا جو کہ حکومت کے منہ پر تمانچہ ثابت ہوا عظیم الشان جلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے ملتان کے جلسے میں حکومت نے پسپا ہوکر اس مرتبہ ایک آئی جی کے ذرےعے یو ٹرن لیااور سارے وزراءبھاگ نکلے، انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج پی ڈی ایم کے شیڈول میں شامل نہیں تھا لیکن حکومت کی حماقت نے ہمیں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج پر مجبور کر کے حکومت نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ سیاسی مذاحمت سے بخوبی آشنا ہیں احتجاج ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے،یہ مذاحمت ہمیں ورثے میں ملی ہے ہم پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان اسمبلی سے استعفیٰ تو کیا ہم اپنی جان بھی قربان کر سکتے ہیں ۔

مقررین نے کہا کہ 1971کے بعد 2020میں حالات بہت نازک ہیں جسکی وجہ سے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی جنگ لڑ رہی ہیں جو کٹھ پتلی وزیراعظم اپنے گھر کو چلا نہیں سکتا وہ پورے ملک کو کیسے چلا پائےگا، مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اس حکومت کا جنازہ پڑھا کر دم لیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم تمام اداروں کو اپنی حدود میں دیکھنا چاہتے ہیںپی ڈی ایم ملک میں عدلیہ، میڈیااور تمام اداروںکی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک پر غیر آئینی اور غیر جمہوری قوتیں مسلط ہیں پہلے تو صرف جمعیت علماءاسلام نے آزادی مارچ کیا تھا

اب تو 11جماعتیں متحد ہوکر عوام کی بقاءکی جنگ لڑ رہی ہیں اب عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے حکومت نے جو وعدے کئے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے کروڑوں نوکریاں اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے بلند و بانگ دعوے کئے گئے مگر لاکھو ں لوگوں کو بے روزگاری کردیا گیا، معیشت صفر ہوچکی ہے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے ذمہ دار عمران خان اور انکی ٹیکنوکریٹ کابینہ ہے

کابینہ میں شامل افراد پرویز مشرف کی باقیات ہیںانہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سولین حکومت نہیںگوادر تا ژوب سینکڑوں چیک پوسٹ موجود ہیں لیکن لینڈ مافیا ،قبضہ گروپوں اور اغواءبرائے تاوان والے عناصر دنددناتے پھر رہے ہیں حکومت کی رٹ عملی طور پر ختم ہوچکی ہے جبکہ حکومت کے اختیار میں کچھ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ 1947سے لیکر اب تک سب سے بڑا مسئلہ آئین و جمہوریت کی حقیقی بحالی ہے آئین کی بالا دستی کی بات کرنے والوں کو غدار کہا جاتا ہے غدار دراصل وہ ہیں جنہوں نے آئین کی مقدس کتاب کو پاؤں تلے روند ا ہے

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ایک ایسی جماعت کو حکومت دی گئی جسکی عمر نو ماہ تھی” باپ “کی شکل میں بلوچستان کو لوٹا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور کے جلسے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی گئی تو بلوچستان میں ضلع ضلع ،یونٹ یونٹ صوبہ جام اور سخت عوامی مذاحمت ہوگی یہ بات اٹل ہے کہ پی ڈی ایم کی تشکیل الیکشن کے لئے نہیں

بلکہ کے عوام کے جمہوری حیثیت کو بحال کرنے اور ان کے آئینی حقو ق دلوانے کے لئے ہے، انہوں نے کہا کہ آج وزیراعظم ہاوس، وزیراعلیٰ ہاوس کی کوئی حیثت نہیں ہے، اگر حیثیت ہے تو بقول شیخ رشید گیٹ نمبر 4کی ہے وہ خود کہتے ہیں کہ طاقت کاسرچشمہ عوام نہیں چھاؤنی ہے درحقیقت وہ سچ کہہ رہے ہیں انہوں کہا کہ پی ڈی ایم کے قائدین حکم دیں تو بلوچستان کے عوام کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.