بلوچستان، جعلی لوکل و ڈومیسائل کیخلاف سخت کارروائی کی جائے، ساجد ترین ایڈووکیٹ

0 0

جعلی ڈومیسائل اور لوکل کا مسئلہ ، اور اہم پیشرفت
(ویب ڈیسک)
بلوچستان ہائی کورٹ بار کے سابق صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ اور دیگر درخواست گزار بلوچستان ہائی کورٹ میں جعلی ڈومیسائل سے متعلق اہم سماعت کے دوران موجود

نوشکی ، خاران ، چاغی ، واشوک (رخشان ڈویژن) کی جعلی ڈومیسائل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئ
جس میں سیکڑوں افراد جعلی ڈومیسائل اور لوکلس پر فیڈرل گورنمنٹ میں بلوچستان کی نشستوں پر ملازمت کرتے ہوئے پائے گئے۔

خاران سے وفاقی حکومت میں ملازمت کرنے والے 65 افراد کے لوکلس سرٹیفکیٹ کی تصدیق نہیں ہوسکی ، نوشکی 85 ، واشوک 4 اور چاغی میں 84 لوکلس سرٹیفکیٹ کی تصدیق نہیں ہوسکی

سماعت کے دوران ساجد ترین ایڈووکیٹ نے ایک نکتہ اٹھایا کہ بہت سارے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر دانستہ طور پر عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کر رہے ہیں۔

عدالت نے سکریٹری داخلہ کو سختی سے حکم دیا کہ آئندہ سماعت میں بلوچستان سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کریں اور بلوچستان حکومت کو جعلی ڈومیسائل اور لوکلس کے حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا۔

اس معاملے پر ساجد ترین نے کہا کہ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ صرف رخشان ڈویژن میں سیکڑوں افراد بلوچستان کی نشستوں پر وفاقی ڈیپارٹمنٹس میں جعلی ڈومیسائل پر کام کر رہے ہیں۔ پھر باقی بلوچستان کی کیا حالت ہوگی؟

ساجد ترین ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے اور ہر ممکن طریقے سے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھائیں گے۔
اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کے حوالے سے جلد قانون سازی کریں اور بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.