ہرنائی  پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع ہرنائی کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ

0 164

ہرنائی  پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع ہرنائی کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہرنائی زیارت سے منتخب ایم پی اے صوبائی وزیر اور خواتین کی مخصوص نشست سے منتخب صوبائی اسمبلی ممبر اور اسی حلقے سے منتخب ایم این اے کے ہوتے ہوئے تقریباً وفاق اور صوبے سے منظور اسکیمات جن کی مالیت 10ار ب روپے ہیں کو وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی سے نکالنا قابل افسوس ہے ۔ اور اسی طرح عوامی مفاد کے ضلع ہرنائی کے درجنوںاور کروڑوں مالیت کے اسکیمات نکالنے کا ناقابل قبول عمل کیا گیا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں دونوں اضلاع میں منظور خرچ کرنے کا رقم ایک ارب 50کروڑ ہیں اس رقم میں زیارت ٹائون ڈویلپمنٹ وفاق سے منظور ایک ارب اسکیم بھی شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ ہرنائی اور ہرنائی سنجاوی روڈ ایکنک سے منظور تھا روڈ کے ٹینڈرنگ میںوفاقی حکومت لیت ولعل سے کام لے رہے تھے اور اب وفاقی حکومت نے اس اہم روڈ کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ہے ۔اسی طرح 1886میں انگریزی دور حکومت میں سبی ہرنائی اور کوئٹہ ریلوے لائن مکمل ہوئی اور ہرنائی سبی ضلع کا سب ڈویژن تھا ہے ۔ 2007میں ہرنائی ضلع بنا لیکن 133سال کے بعد بھی ہرنائی اپنے ڈویژنل ہیڈکوارٹر سے روڈ کے ذریعے لنک نہیں ہے ۔ڈویژنل ہیڈکوارٹر کو جانے کیلئے ہرنائی کے عوام کو ضلع زیارت ،ضلع پشین ،ضلع کوئٹہ ،ضلع مستونگ، ضلع بولان اور ضلع جھل مگسی کے 6اضلاع اور 360کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ۔ صرف چالیس کلو میٹر روڈ نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسافت طے کرنا ہوتا ہے ۔ 2017-18میں صوبائی حکومت نے اس روڈ کیلئے 400ملین مختص کیئے تھے لیکن پی سی ون کے مطابق روڈ کی لاگت 1280ملین بنتی ہے ۔ لیکن روڈ کی تعمیر کی بجائے صوبائی حکومت نے اس اہم ہرنائی سبی لنک روڈ منصوبے کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا ہے جبکہ دوسری جانب ضلع ہرنائی میں 35کروڑکے نئے اسکیمات پر خوشیاں منائی جارہی ہے جو قابل افسوس ہے اور ضلع ہرنائی کے عوام کو رسلورسائل سے محروم کرنے کے مترادف ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی گورنر ، صوبائی وزیر اعلیٰ اور صوبے کے اعلیٰ حکام سے ان دو اہم سڑکوں کی وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں بحال کرنے کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اسے فوری طور پر وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایا جائے اور ہرنائی کے عوام کو 350کلو میٹر کی بجائے صرف 90کلو میٹر کی مسافت سے سبی پہنچنے کی سہولت مہیا کی جائے اور اسی طرح اس روڈ کی تعمیر سے پنجاب جانے کا فاصلہ تقریباً200کلو میٹر شار ٹ کٹ راستہ کوہلو بارکھان رکھنی سے ہوتے ہوئے پہنچ جاتا ہے۔لہٰذا فیڈرل پی ایس ڈی پی میں کچھ ہرنائی اور ہرنائی سنجاو ی روڈ اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں ہرنائی سبی روڈ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.