پاک افغان سرحد کی بندش کا معا ملہ، وزیراعلیٰ بلو چستان کی ہدایت پر تشکیل دی جا نے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین چمن پہنچ گئ

0 134

چمن: پاک افغان سرحد کی بندش کا معا ملہ، وزیراعلیٰ بلو چستان کی ہدایت پر تشکیل دی جا نے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اراکین چمن پہنچ گئے، کمیٹی کے اراکین نے دھر نے کے شرکا ء، تا جر تنظیموں،چیمبر آ ف کا مرس، سیاسی جما عتوں کے اراکین اور دیگر سے تجا ویز لے لیں۔ کمیٹی میں اے این پی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر و ایم پی اے اصغرخان اچکزئی،صوبائی وزیرداخلہ ضیا ء لانگو،صوبائی وزیر پی ایچ ای نورمحمد دمڑ اور ایم پی اے مبین خان خلجی شامل ہیں کمیٹی نے گزشتہ روز چمن میں اصغرخان اچکزئی کی رہائش گاہ (دہ شہیدا کور)مردہ کاریز میں چیمبرآف کامرس کے وفد حاجی داروخان اچکزئی کی سربراہی میں اور دھرنے پر بیٹھے آل پارٹیز انجمن تاجران ودیگر سماجی تنظیموں کی جانب سے بنائی گئی کمیٹیوں سے تجاویز طلب کرلی جسے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیر اعلی بلوچستان کے وفد کے ممبر وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے کہا کہ ہم چمن کی عوام کے روزگار اوردہشت گردی کے روک تھام کیلئے لائحہ عمل بنائیں گے کیونکہ سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق جب سے کروناء وائرس کے خطرے کے پیش نظر سرحدیں بند ہوئی ہیں اس وقت سے صوبہ بلوچستان اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہیں اورحکومت یہ چاہتی ہیں کہ کوئی محفوظ طریقہ ہو جس سے پاک افغان سرحد اور دیگر سرحدوں پر تجارتی سرگرمیاں شروع ہوسکے اور دیگرممالک سے پاکستان میں دہشت گردی کی غرض سے اسلحہ،گولہ بارود اوردیگر ممنوع اشیاء کی منتقلی ممکن نہ ہو، اس کے ساتھ ساتھ مر کزی اور صو با ئی حکومتیں چاہتی ہیں کہ چمن کے عوام بارڈر کی بندش سے بے روزگاری سے دوچار نہ ہو، احساس پروگرام کے تحت چمن کے مستحقین کو اسکیم دیاجائے گا۔ اے این پی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر چیئرمین پی اینڈ ڈی ایم پی اے اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ علاقے میں پاک افغان سرحد کی بندش سے بے روزگاری کی شرح میں انتہائی حد تک اضافہ ہواہے کیونکہ چمن کے عوام کا روزگار کی دار ومدار صرف پاک افغان سرحد سے وابستہ ہیں جس کی بندش سے یہاں کے عوام متاثر ہوئے ہیں ہم حکومتی ارکان پر مشتمل کمیٹی بھی یہی چاہتی ہیں کہ پاک افغان سرحد کو کھول دیاجائے ہما ری کو شش ہے کہ اس با بت سیکورٹی اداروں اور حکومت کو مطمئن کرکے پاک افغان سرحد کو کھولا جائے اسی لئے وزیراعلیٰ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی دھرنے میں شریک آل پارٹیز تاجراتحاد کے بنائی گئی کمیٹی،چیمبرآف کامر س اور دیگر پارٹیوں اور تاجرتنظیموں کے شرکاء سے تجاویز لینے کیلئے چمن پہنچی ہے۔ اس موقع پر پاکستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر حاجی داروخان اچکزئی نے وفد کو بتا یا کہ چمن کو فوری طور فری فورٹ کا درجہ دیا جائے جبکہ عرصہ دراز سے پاک افغان بین الاقوامی شاہراہ پر ہم کلیئرنگ ایجنٹس کاروبار کررہے ہیں آج تک کسی ٹرک سے غیرقانونی اشیاء یابارود اور یا کوئی اسلحہ برآمد ہوا۔ ہمیں ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا لامحدود اجازت دیاجائے کیونکہ حکومتی نوٹیفیکشن میں تجارتی سرگرمیوں کا واضح اجا زت ہے مگر سیکورٹی فورسز اپنے شرائط مسلط کرلیتے ہیں جس میں ٹرکوں کی تعداد کاکہاجاتاہے اور ہمیں مختلف حکم دئیے جاتے ہیں جس میں ٹرانزٹ ٹریڈ اوردیگر ٹرکوں کی محدود اجازت شامل ہیں جوکہ یہاں تجارت کی بربا دی کا سبب ہے انہوں نے بتا یا کہ اس وقت بھی با رڈر پر امپورٹ اور ایکسپورٹ کے ما ل برادار کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس سے وابستہ افراد کو نقصان کا سا منا ہے اس موقع دھرنے کے شرکاء نے بھی اپنے مطالبات تحریری طور پر دئیے دھر نے کے شرکا ء کی جا نب سے مطا لبا ت عوامی نیشنل پارٹی کے تحصیل صدرمنورخان اچکزئی،انجمن تاجران کے ضلعی صدر صادق اچکزئی،لغڑی اتحاد کے امیرمحمد عرف امیری ودیگر نے کمیٹی کے حوالے کئے انہوں نے بتایاکہ باڈر کی بندش سے عوام بری طرح متاثر ہو ئے ہیں جس کیلئے ضروری ہیں کہ حکومت پوری اقدا ما ت اٹھا ئے حکومتی کمیٹی نے قلعہ عبد اللہ سے منتخب ایم این اے مولانا صلاح الدین ایوبی کی رہائش گاہ پر موجود پشتونخوامیپ اور جمعیت علماء اسلام وانجمن تاجران دوکانداران کے وفد سے بھی ملاقات کی جس کی سربراہی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء وایم این اے مولانا صلاح الدین ایوبی نے کی انہوں نے بھی با رڈر سسے متعلق تجا ویز کمیٹی کے حوالے کئے اور پاک افغان سرحدکی بندش سے چمن کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کے حوالے سے بھی مکمل طورپر آگاہ کیاکمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ با رڈر سے متعلق تجا ویز وزیراعلیٰ اوردیگرکو پیش کئے جا ئیں گے جس کے بعد پاک افغان سرحد کے حوالے سے پیش رفت کی توقع ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.