امید کی شمع . درد سے دعا تک
امید کی شمع . درد سے دعا تک
رحمٰن فاؤنڈیشن
منشاقاضی
حسبِ منشا
انسانیت کا سب سے روشن لمحہ وہ ہوتا ہے جب دل، کسی اور کے درد کو اپنا درد سمجھ کر دھڑک اٹھے۔ یہی احساسِ ایثار، یہی روحانی شمع — رحمٰن فاؤنڈیشن — کی اولین روشنی ہے۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں قائم اس ادارے کا وجود محض طبی سہولت نہیں بلکہ ایک انسانی تحریک ہے جو امید، وقار اور شرافت کے ساتھ زندگیوں کو بحال کرتی ہے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کا فلسفہ سادہ مگر معنی خیز ہے: دوسروں کے دکھ میں شریک ہونا، انہیں عزت و احترام کے ساتھ سہارا دینا، اور علاج کے ذریعے انہیں زندگی کی طرف واپس لانا۔ یہ فلسفہ صرف طبی خدمات تک محدود نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیان بھی ہے — معاشرہ جب ایک دوسرے کے لیئے کھڑا ہوتا ہے تو سب کی بقا ممکن ہو جاتی ہے۔
گردوں کی بیماری مہنگا علاج مانگتی ہے — ڈائیلاسز، مستقل نگرانی، اور معالجین کی مہارت۔ رحمٰن فاؤنڈیشن نے انہی خدمات کو غریب اور نادار مریضوں کے لیے مفت اور معیاری انداز میں قابلِ حصول بنا دیا ہے۔ جدید ڈائیلاسس مشینیں، تربیت یافتہ عملہ، اور تجربہ کار ڈاکٹر یہاں ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔
لیکن فاؤنڈیشن کا کام صرف طبی مداوا تک محدود نہیں۔ یہ ادارہ:
* عوامی آگاہی اور صحتِ عامہ کے سلسلے میں ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کرتا ہے،
* خون کے عطیات کی مہمات چلاتا ہے،
* طبی خدمات کے علاوہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کو نفسیاتی سہارا اور رہنمائی فراہم کرتا ہے،
* چھوٹے مالی امداد کے ذریعے مریضوں کی زندگی کی بنیادی ضروریات میں ہاتھ بٹاتا ہے۔
اس طرح یہ مرکز نہ صرف ایک کلینک بلکہ امید کا گھر بن جاتا ہے جہاں مریض کو عزت، تسلی اور حوصلہ ملتا ہے — اس سے علاج کا اثر مستقل اور زندگی ساز بنتا ہے۔
تقریباً دو دہائیوں پر پھیلے اس سفر کے رہنما بانی و چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز ہیں۔ وہ محض معالج ہی نہیں؛ محقق، مقرر اور ایک انسان دوست رہنما بھی ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق کو عبادت کی طرح اپنایا۔ اُن کی قیادت میں فاؤنڈیشن نے رنگ، نسل، مسلک یا طبقے کی بندش سے آزاد رہ کر ہر ضرورت مند کو سہارا دیا ہے۔
ڈاکٹر نیاز کا وژن قابلِ تقلید ہے: ایسے ادارے قائم کرنا جہاں شفافیت، غیر جانبداری اور اعلیٰ معیارِِ طبی خدمات اولین ترجیح ہوں۔ ان کے فیصلے کا محور ہمیشہ مریض کی عزت و وقار اور خدمات کا تسلسل رہے ہیں۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی شفاف مالی پالیسی ہے۔ کوئی سرکاری امداد نہیں؛ تمام اخراجات عوامی عطیات، صدقات اور زکٰوۃ سے چلتے ہیں۔ اس ماڈل نے عطیہ دہندگان میں ایک پختہ اعتماد پیدا کیا ہے — لوگ جانتے ہیں کہ ان کے دیئے ہوئے وسائل براہِ راست ضرورت مندوں تک پہنچتے ہیں۔
ادارہ کے اندر مالیاتی ریکارڈز کی کھلی دستاویزات، شفاف آڈٹ پریکٹسز اور باقاعدہ رپورٹنگ نے اس اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ شفافیت نہ صرف مالیاتی یقین دہانی ہے بلکہ اخلاقی عزم کا مظہر بھی ہے۔
یہ ادارہ ہر انسان کو بغیر کسی امتیاز کے سہارا دیتا ہے، خواہ وہ دولت مند ہو یا محتاج۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد، جہلم، فیصل آباد، سیالکوٹ، پینسرا کامونکی اور سرائے عالمگیر میں قائم مراکز روزانہ سینکڑوں مریضوں کو مفت علاج فراہم کر کے انسانی خدمت کا عظیم باب رقم کر رہے ہیں۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کی خدمات نے افراد کی زندگیاں بچانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور میں بھی اضافہ کیا ہے۔ جب کوئی خاندان اس ادارے کی بدولت دوبارہ سے معمول کی زندگی کی طرف لوٹتا ہے تو اس کا اثر پورے محلے اور نسل پر محسوس ہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم جاری رہتی ہے، گھر کا معاشی وزن کم ہوتا ہے، اور برادری میں ہمدردی کی روایت مضبوط ہوتی ہے۔
مزید برآں، فاؤنڈیشن کی آگاہی مہمات نے قبل از وقت تشخیص اور بیماریوں کی روک تھام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے — یہی روک تھام طویل المیعاد سوچ کا نتیجہ ہے جو صحتِ عامہ کو بہتر بناتی ہے۔
ہر عظیم ادارے کی طرح رحمٰن فاؤنڈیشن بھی چیلنجز سے خالی نہیں۔ بڑھتی ہوئی طبی ضروریات، ٹیکنالوجی کی اپگریڈنگ، اور مستقلاً وسائل کی فراہمی ایسے امور ہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے۔
مگر فاؤنڈیشن کے پاس ایک واضح حکمتِ عملی ہے:
1. مراکز کی جغرافیائی توسیع تاکہ دور دراز علاقوں تک خدمات پہنچ سکیں؛
2. تربیتی پروگرامز کے ذریعے مقامی طبی عملے کی صلاحیت بڑھانا؛
3. عوامی شراکت داری اور مقامی خیرات کے ساتھ تعاون بڑھانا؛
4. ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور مینجمنٹ سسٹمز اپنانا تا کہ خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکیں۔
ان اقدامات سے نہ صرف علاج کی دستیابی بڑھے گی بلکہ فاؤنڈیشن کی پائیداری بھی مضبوط ہوگی۔
ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کی ٹیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو وسائل خود راہ بناتے ہیں۔ رحمٰن فاؤنڈیشن امید کا چراغ ہے، اندھیروں میں روشنی ہے، اور بے بس لوگوں کے لیئے سہارا ہے۔ یہ ادارہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ خدمتِ انسانیت وقت، مقام یا وسائل کا محتاج نہیں، بلکہ خالص نیت، دل کی پاکیزگی اور عمل کی سچائی سے جنم لیتی ہے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن محض ایک ادارہ نہیں، ایک تحریک ہے — ایک ایسی تحریک جو انسانی وقار کو مقدم رکھتی ہے اور دکھ کو بانٹنے کی قوت میں ایمان رکھتی ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر یہ ادارہ کسی ماں کے دل میں امید جگاتا ہے، کسی باپ کے کندھوں پر بوجھ ہلکا کرتا ہے، اور کسی بچے کو روشن مستقبل کی راہ دکھاتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ خالص نیت، ثابت قدمی اور عوامی اعتماد کے ملاپ سے وسائل اپنی راہیں خود بنالیتے ہیں۔ رحمٰن فاؤنڈیشن اسی صداقت کا زندہ ثبوت ہے۔ دردِ دل کی روشنی جو زندگیوں کو دوبارہ بحال کرتی ہے۔ ملک کے نامور صحافی کالم نگار فاروق چوہان اور قلم فاؤنڈیشن کے سربراہ علامہ عبدالستار عاصم نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے کندھوں پر جب دو کروڑ روپے ماہانہ کا بوجھ دیکھا ان کے دل میں آیا کہ یہ بوجھ اتار دیا جائے اور اس سلسلے میں انہوں نے تہیا کر لیا کہ مخیر حضرات کو یہاں دعوت دی جائے اور وہ اس ادارے کو دیکھیں اور اس کی شفافیت اعتماد اور اعتبار کا معیار دیکھیں انہوں نے اس سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی کی شعبہ کمیونیکیشن اور فلم براڈکاسٹنگ کی سربراہ ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر اور سابق ڈی سی عبد الغفور چوھدری کو دعوت دی اور وہ تشریف لائے اور انہوں نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور اس سلسلے میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے اس مالی بوجھ کو ہلکا کرنے میں خصوصی مدد کا اعلان ہی نہیں کیا اس پر عمل شروع کر دیا ہے ۔مجھے یقین ہے فاروق چوہان اور علامہ عبدالستار عاصم اپنی سریع الحرکت کارکردگی کی بنا پر گردوں کے مریضوں کے نزدیک خوش نظری اور احترام کی سزاوار قرار پائیں گے میری مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ اپنے عطیات اپنی خیرات اپنے صدقات اور اپنی زکوٰۃ گردوں کے مریضوں کی حیات کے لیئے وقف کر دیں ۔