مالکانہ حقوق کی فراہمی کےلیے میر محمد صادق عمرانی کی جدوجہد

0 7

مالکانہ حقوق کی فراہمی کےلیے میر محمد صادق عمرانی کی جدوجہد

تحریر:- اخترمنگی آرٹیکل رائٹر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآبادڈویژن

نصیرآباد ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈکوآرٹر ڈیرہ مراد جمالی صوبہ بلوچستان کا وہ اہم اور مرکزی شہر ہے جس کی تاریخ، جغرافیائی اہمیت، سیاسی کردار اور عوامی جدوجہد ہمیشہ نمایاں رہی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ شہر ایک طویل عرصے تک ایک ایسے بنیادی اور سنگین مسئلے کا شکار رہا جس نے یہاں کے باسیوں کو معاشی، سماجی اور نفسیاتی اذیت میں مبتلا کیے رکھا، اور وہ مسئلہ تھا اپنے ہی گھروں اور دکانوں پر مالکانہ حقوق کا فقدان، ڈیرہ مراد جمالی کی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اس احساس محرومی کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی کہ وہ جن گھروں میں نسل در نسل آباد ہیں، جن زمینوں پر ان کے آباؤ اجداد نے محنت کی، جن دکانوں سے انہوں نے اپنے بچوں کا پیٹ پالا، وہ قانونی طور پر ان کے نام نہیں، اس مسئلے کی جڑیں 1970 کی دہائی سے جا ملتی ہیں جب مختلف انتظامی، قانونی اور پالیسی وجوہات کی بنیاد پر ڈیرہ مراد جمالی کے رہائشیوں کو باقاعدہ مالکانہ حقوق فراہم نہ کیے جا سکے، وقت گزرتا رہا، حکومتیں آتی جاتی رہیں، وعدے ہوتے رہے، فائلیں بنتی رہیں، کمیٹیاں تشکیل پاتی رہیں مگر عملی طور پر یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا، جس کے باعث عوام میں مایوسی، بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا چلا گیا، اگر نصیرآباد ڈویژن کے دیگر علاقوں یا قریبی اضلاع کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کے مکین اپنے گھروں اور املاک کے باقاعدہ مالک ہیں، انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے، وہ اپنی زمینوں پر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، بینکوں سے قرض لے سکتے ہیں، تعمیر و ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مگر ڈیرہ مراد جمالی کے باسی ان تمام سہولیات سے محروم تھے، یہی تقابل یہاں کے عوام کے دلوں میں کرب، اضطراب اور ناانصافی کا احساس پیدا کرتا رہا، کیونکہ وہ یہ سوال کرنے میں حق بجانب تھے کہ اگر دیگر علاقوں کے شہری اپنے گھروں کے مالک ہو سکتے ہیں تو ڈویژنل ہیڈکوارٹر کے باسی کیوں اس حق سے محروم ہیں، یہی وہ احساس تھا جس نے اس مسئلے کو محض ایک انتظامی یا قانونی معاملے کے بجائے ایک عوامی تحریک اور اجتماعی مطالبے کی شکل دے دی، شہیدِ جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے ادوار حکومت میں ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوریت، مساوات اور سماجی انصاف کی بات کی، اور یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ڈیرہ مراد جمالی کی عوام کو پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں ان کے جائز مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں گے، محترمہ بینظیر بھٹو کا یہ اعلان محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی عہد تھا، جس کی بنیاد عوام کی ملکیت، خودمختاری اور باوقار زندگی کے تصور پر رکھی گئی تھی، اسی نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بھی ڈیرہ مراد جمالی کے عوام کو مالکانہ حقوق دلانے کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کیا، انہوں نے اس مسئلے کو اسمبلی کے فلور پر اٹھایا، متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کی، مگر بدقسمتی سے اس وقت مختلف رکاوٹوں، انتظامی مسائل اور حکومت کی مدت پوری ہونے کے باعث یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور ڈیرہ مراد جمالی کی عوام ایک بار پھر امید اور ناامیدی کے درمیان معلق ہو کر رہ گئی، تاہم عوامی لیڈر میر محمد صادق عمرانی نے کبھی بھی اس ادھورے مشن سے دستبرداری اختیار نہیں کی، وہ شہیدِ جمہوریت کے عہد کو محض الفاظ تک محدود رکھنے کے بجائے عملی شکل دینے کے لیے پرعزم رہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آئے تو انہوں نے سب سے پہلے ان منصوبوں اور وعدوں کو ترجیح دی جو براہِ راست عوام کے بنیادی حقوق سے جڑے تھے، مالکانہ حقوق کی فراہمی ان کی سیاسی ترجیحات میں سرفہرست رہی، اس بار حالات بھی سازگار تھے، قیادت بھی پرعزم تھی اور نیت بھی واضح تھی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی دلی خواہش اور مضبوط سیاسی عزم نے اس دیرینہ مسئلے کے حل کی راہ ہموار کی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا کہ ڈیرہ مراد جمالی کے عوام کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے گا اور انہیں ان کا قانونی حق فراہم کیا جائے گا، اس مقصد کے حصول کے لیے انتظامی مشینری کو متحرک کیا گیا، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کے احکامات کی روشنی میں دن رات محنت کرتے ہوئے اس پیچیدہ معاملے کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے تمام ضروری قوانین، ضابطہ کار اور طریقۂ کار کو حتمی شکل دی، یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کیونکہ اس میں زمینوں کی نشاندہی، ریکارڈ کی درستگی، قانونی ملکیت کے اصول، شہری منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات سب کو مدنظر رکھنا تھا، مگر ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ نے پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تاریخی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد معاملہ حکامِ بالا کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں منظوری ملنے کے بعد ڈیرہ مراد جمالی میں باقاعدہ طور پر مالکانہ حقوق کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، یہ لمحہ ڈیرہ مراد جمالی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز تھا، اس حوالے سے گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال میں ایک عظیم الشان، تاریخی اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی، سابق وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی، سیاسی و سماجی شخصیات میر جعفر کریم بھنگر، ایڈووکیٹ نذر محمد عمرانی، حاجی گل محمد جتک، میر دوران خان کھوسہ سمیت دیگر معززین، عمائدین، قبائلی رہنماؤں، نوجوانوں، بزرگوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس تقریب نے نہ صرف ایک سرکاری اقدام کی نمائندگی کی بلکہ یہ عوام کے اعتماد کی بحالی، برسوں کی جدوجہد کی کامیابی اور سیاسی عزم کی فتح کی علامت بن گئی، اس موقع پر صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر میر بلال صادق عمرانی کے ہمراہ عوام میں مالکانہ حقوق کے فارمز بھی تقسیم کیے، جو اس بات کی عملی علامت تھے کہ اب یہ معاملہ محض وعدوں تک محدود نہیں بلکہ ایک باضابطہ، قانونی اور عملی عمل بن چکا ہے، تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر نصیرآباد کیپٹن ریٹائرڈ ذوالفقار علی کرار اور اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ مراد جمالی بہادر خان کھوسہ نے مالکانہ حقوق کی درخواستوں، طریقۂ کار، مطلوبہ دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی، تاکہ عوام حکومت کی جانب سے بنائے گئے قوانین اور ضابطوں پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس تاریخی موقع سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں، صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی کی عوام کو مالکانہ حقوق کا مسئلہ عرصۂ دراز سے درپیش تھا، ہم نے ہمیشہ اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی خدمت کو ترجیح دی ہے اور اپنی سیاسی بصیرت کا عملی ثبوت دیا ہے، انہوں نے کہا کہ مالکانہ حقوق کی فراہمی محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ یہ عوام کو بااختیار بنانے، انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ان کی معاشی خودمختاری کو مضبوط کرنے کا عمل ہے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں بھی اس مقصد کے لیے عملی جدوجہد کی گئی مگر حالات سازگار نہ ہونے کے باعث یہ خواب پورا نہ ہو سکا، تاہم الحمدللہ اس مرتبہ عوام کو باقاعدہ مالکانہ حقوق فراہم کر کے شہیدِ جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو کے عہد کو وفا کر کے دکھایا گیا ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی عوامی خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا اور ڈیرہ مراد جمالی سمیت پورے نصیرآباد ڈویژن میں ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر میر بلال صادق عمرانی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں ڈیرہ مراد جمالی کی عوام کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کی فراہمی کا عمل شروع ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر میر محمد صادق عمرانی نے ہمیشہ عوامی حقوق کی پاسداری کی ہے اور آج کی یہ عظیم الشان و تاریخی تقریب اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ان کے اپنے گھروں اور دکانوں کا باقاعدہ مالک بنانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مخلصانہ اور عملی جدوجہد کی بدولت مقامی آبادی کو ان کا حق ملا ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں عوام ہمیشہ مستفید ہوئے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی گئی ہے، آخر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ مالکانہ حقوق کی فراہمی کا یہ عمل اگرچہ حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے مگر اس کی تکمیل عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا عوام پر بھی لازم ہے کہ وہ موجودہ حکومت کے ان مثبت اقدامات سے جلد از جلد استفادہ حاصل کریں، تمام قوانین اور ضابطوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں، اپنی درخواستیں بروقت جمع کروائیں اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ یہ تاریخی عمل شفاف، منظم اور کامیابی سے مکمل ہو سکے، ڈیرہ مراد جمالی کے باسیوں کے لیے یہ وقت محض خوشی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا بھی ہے، کیونکہ اب انہیں اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہوگا، یہ اقدام نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک محفوظ، باوقار اور خودمختار مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا، اور یہی وہ وژن ہے جس کے تحت ڈیرہ مراد جمالی کو ایک بااختیار، ترقی یافتہ اور خوشحال شہر بنانے کا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.