کوئٹہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ

0 56

کوئٹہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی لا کالج کیلئے پرنسپل کی مشتہر کی گئی خالی اسامی پر تقرری فوری طور ممکن بنائی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ 8 جون 2016 کے المناک سانحے میں سابقہ پرنسپل لا کالج بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کی شہادت کے بعد سے ادارہ یتیم ہوچکا ہے۔ اس افسوسناک سانحے کے بعد عارضی طور پر ایک پرنسپل ایکٹنگ چارج پر تعینات کیا گیا جو کہ اب تین سال گزرنے کے باوجود منظور نظر ہونے کی وجہ سے اس کرسی سے چمٹ کر بیٹھا ہے جبکہ ادارے کو اپنی جاگیر سمجھ کر بادشاہت قائم کر رکھی ہے۔ ادارے کے اندر کلاس رومز میں کیمرے نسب کرکے طلبا کی سیکورٹی کی بجائے جاسوسی کی جا رہی ہے جو کہ طلبا کی ذہنی صلاحیتوں پر نہایت ہی منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ طلبا کی جاسوسی کرکے معاشرے اور قوم کے مستقبل کا کونسا پیغام دیا جارہا ہے۔ انہی جاسوسی کیمروں کی وجہ سے آج بلوچستان یونیورسٹی میں انتظامیہ کی جانب سے طلبا و طالبات بلیک میلنگ کا شکار ہیں جوکہ ادارے میں اخلاقی بحران کا سبب ہے جس کے واضح ثبوت بلوچستان کی اعلا عدلیہ کی جانب سے ادارے میں سیکورٹی پر مامور بااثر اور منظور نظر ملازمین کا معزول کرنا ہے۔ بیان میں بلوچستان اور کوئٹہ بار کونسلز سے مطالبہ کیا گیا کہ لا کالج کو اس بااثر اور بلیک میلر ٹولے سے فوری نجات دلایا جائے۔ جبکہ صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ مزید ایکٹنگ چارج پر تقرریاں قابل قبول نہیں لہذا پرنپسل لا کالج کی تقرری فوری ممکن بنائی جائے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.