تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم صرف کاغذی کاروائی

0 90

تحریر۔ طاہر محمود آسی

پاکستان ایک اسلامی اور نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے حصول کے لئے کلمہ طیبہ کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔ ہزاروں قربانیوں اور لاتعداد صعوبتوں اور تکلیفوں کے بعد اس کا حصول ممکن ہوا تھا۔ پاکستان کے اندر ایسا سیکولر طبقہ موجود ہے جو کسی صورت میں بھی اس ملک کو نظریاتی ریاست ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور ہمیشہ سے اس کی کوشش ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو ختم اور منہدم کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسلامی اقدار اور روایات کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا اس مختصر سے طبقے کا فرض اولین ہے۔ اس میں کسی حد تک یہ طبقہ کامیاب ہوا ہے مگر خوف و ہراس کے سائے اس پر چھائے رہے ہیں اور چھائے رہیں گے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کو مہذب اور باوقار بنانے میں نہائت اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ تعلیم روشنی کی مانند ہے اور روشنی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ ہر معاشرہ اپنی نسل نو کی بہتری کے لئے کاوشوں میں مصروف رہتا ہے، اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتا ہے نظام تعلیم کی بہتری کے لئے نصاب تعلیم میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں بھی لے کر آتا ہے۔ مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ نسل نو بہتری کی جانب گامزن ہو اس سے معاشی ترقی ہوگی۔ معاشرتی ک، سیاسی ، صنعتی اور سائنسی ترقی ایک بہترین انداز میں ممکن ہوسکے گی۔ ہمیشہ نظام تعلیم کو ملک ضروریات اور عصر حاضر کے مطابق ہونا چاہئیے ۔ جس قدر نظام تعلیم ہم آہنگ ہوگا اسی قدر ملک ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوگا۔ قرآن پاک کا پہلا لفظ اقراءپڑھنے کی صدا بلند کررہا ہے اور آقائے دوجہاں ﷺ نے علم حاصل کرنے پر بہت زور دیا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم نے ہمیشہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہاں تک کہ تعلیم کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دے کر اس کے حصول کے لئے اقدامات اٹھانے کا کہا گیا ہے۔ اس قدر تعلیمی اہمیت کے باوجود ہم طبقاتی نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندی حقیقت ہے کہ کوئی قوم یا ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ اپنے تعلیمی معیار کو اپنی مذہبی روایات اور ورثہ کے مطابق نہ کرلے۔

پاکستان کی قومی اسبلی 2017میں قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل پاس کرچکی ہے جس کے مطابق پہلی سے بارہویں تک ہرطالب علم کو تعلیم قرآن سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔ جماعت پنجم تک ناظرہ اور چھٹی سے بارہویں تک مترجم تعلیم ہونی چاہئیے۔ بطور اسلامی ملک قرآنی تعلیم کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ حکومت کی طرف سے تمام تعلیمی اداروں کو بار بار آگاہ کیا جاتا ہے کہ طلباءکاو ناظرہ اور مترجم قرآن پاک سے آراستہ کیا جائے کیونکہ قرآن پاک ہمارے لئے ضابطہ حیات ہے۔ مسلمان جب تک قرآن پاک سے جڑے رہیں گے عزت اور وقار ان کا مقدر بنے گی۔
ہر تعلیمی ادارے میں قاری اور عربی ٹیچر موجود نہیں ہوتا ہے بلکہ محکمہ تعلیم کے لئے میسر کرنا بھی نہائت مشکل امر یہاںتک کہ قاری کی پوسٹیں آہستہ آہستہ اختتام کی جانب رواں دواں ہیں۔ عربی ٹیچر کی جو آسامی صدر ضیاءالحق کے دور میں پیدا کی گئی تھی محسوس ہورہا ہے کہ یہ بھی تعلیم کے پالیسی ساز یہ رائے رکھتے ہیں کہ عربی ٹیچر محکمہ تعلیم پر بوجھ ہیں۔ اس میں کچھ حقیقت ہے اور کچھ حقیقت نہیں بھی ہے۔ جعلی عربی ٹیچرزواقعی حکومت اور محکمہ پر بوجھ کے مترادف ہیں کیونکہ کئی ایسے اساتذہ کرام میری نظر میں ہیں جنہیں درخواست تک لکھنا نہیں آتی ہے مگر پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹس پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں عربی اور ناظرہ کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے کیونکہ یہ ایک خصوصی جاب ہے۔
قارئین کرام ! ذرا سوچئے اور اپنے آس پاس نظر دوڑائیے تو کس قدر ناظرہ اور مترجم تعلیم پر عمل ہورہا ہے۔ سکول کی اسمبلی میں بعض اوقات تلاوت کے لئے کوئی بھی طالب علم میسر نہیں آتا ہے۔ یہ حال ایسے سکولوں کا بھی ہے جہاں پر عربی ٹیچر موجود ہیں۔ یہ لوگ قوم پر بوجھ نہیں تو کیا ہیں ۔ ذراسوچئے تو۔۔۔؟ عربی اور ناظرہ کا حال اس وقت سے اور بھی سسکیاں لے رہا ہے جب سے PEC امتحان میں عربی کا پرچہ ختم کردیا گیا ہے۔ اب نظام تبدیلی کی طرف رواں دواں ہے۔ قوم پر قرض کا بوجھ بہت زیادہ ہے مگر نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اساتذہ کرام انگلش، ریاضی اور سائنس سے کلاس کا آغاز کررہے ہیں ۔ ناظرہ کی کاروائی بس فرضی ہے۔ ایسی مملکت جس میں اساتذہ کاروائیوں کے ذریعے اپنے آفیسرز کو خوش کرنے لگے ہوں اس کا مقدر کیا ہوگا۔۔؟ کیسا ہوگا ۔۔؟ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سمجھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے آپ کو تبدیل کریں ورنہ ۔۔تمہاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں تک۔۔ قارئین ہمیں قرآن پاک کی تعلیم سے مثبت نتائج چاہئیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ اللٰہ پر ہم اور ہمارے اہل اقتدار پورا نہیں اتر رہے ہیں۔ اصل مقصد کے حصول کے لئے ہمیں تعلیم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ اور ذریعہ ہے جس سے ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ہرمہذب معاشرہ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے کرتا آیا ہے۔ دنیا بھر کی ریاستیں اپنے شہریوں کو بہتر تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کررہی ہیں۔ ہمیں اپنے نظام تعلیم کو تحقیق اور تخلیق کے عمل سے مربوط کرنا ہوگا۔ اساتذہ کے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور معزز اساتذہ کرام ہی اس میں ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ کاغذی کاروائیوں سے گریز کرکے ہم اپنے طالب علموں کو حقیقی علم کی روشنی عطا کرسکتے ہیں ۔ اس سے عزت اور وقار بھی بڑھے گا اور جنت کے لئے راہیں بھی کھلیں گی۔ حقیقت کو حقیقت میں سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ مغربیت کی للکار ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کردے گی۔
فضائے بدر پیدا کرفرشتے تیری نصرت کو
اترسکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.