نایاب وسائل کی جنگ اور ہم
نایاب وسائل کی جنگ اور ہم
تحریر، عنایت الرحمان
دنیا کی ترقی کا دوسرا صنعتی دور تیزی سے اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا جس کی بنیاد فوسل ایندھن، تیل اور کاربن پر مبنی مصنوعات پر رکھی گئی۔ قوی امکان ہے کہ کسی بڑی عالمی جنگ یا شدید جیو پولیٹیکل تصادم کے نتیجے میں یہ صنعتی ماڈل ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن جائے۔ دنیا اب پوری توجہ کے ساتھ تیسرے صنعتی دور کی طرف دیکھ رہی ہے، جس کی روح سبز انقلاب، صاف توانائی اور معدنی وسائل پر استوار ہے۔
حال ہی میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے خلاف جارحانہ اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ، تقریباً 303 ارب بیرل، موجود ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تیل اب ایک Declining Asset بن چکا ہے۔ آج کی عالمی معیشت کسی ایسے اثاثے کے لیے جنگ نہیں لڑتی جو زوال کی راہ پر ہو۔ اصل مسئلہ تیل نہیں، مستقبل ہے۔
آئل اسٹریٹیجک طور پر اپنی اہمیت کھو رہا ہے، اور آنے والی معیشت کی بنیاد کریٹیکل منرلز اور انڈسٹریل منرلز پر رکھی جا رہی ہے۔ یہی وہ معدنی وسائل ہیں جن پر اس وقت امریکہ کے سب سے بڑے مدِمقابل، چین، کا نمایاں کنٹرول ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ کہنا کہ اگلا نمبر کولمبیا، پیرو اور میکسیکو کا ہو سکتا ہے، محض وقتی سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک گہرے جیو اکنامک منصوبے کا عندیہ ہے۔
اگرچہ ان ممالک کے خلاف پیش کی جانے والی وجوہات سطحی اور بظاہر بچکانہ نظر آتی ہیں جیسے کیوبا کو ناکام ریاست قرار دینا، کولمبیا کو کوکین سے جوڑنا اور میکسیکو کو ڈرگ مافیا کے حوالے سے بدنام کرنا مگر اصل کہانی ان الزامات سے کہیں آگے ہے۔ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کو ایسا مستقبل کسی صورت قبول نہیں جہاں اس کی صنعتیں چینی پروسیسنگ پر اور اس کا دفاع چینی دھاتوں پر انحصار کرے۔
آج امریکہ کے سامنے ایک ہی راستہ بچا ہے وہ ہےچین کی کریٹیکل منرلز کی سپلائی چین کو توڑ دینا۔تاکہ یہ معدنی وسائل چینی معیشت کو مزید مضبوط نہ کر سکیں۔
ان معدنیات کا سب سے بڑا عالمی ذخیرہ جنوبی امریکہ کے اینڈیز (Andes) ریجن میں واقع ہے، جس میں چلی، پیرو، بولیویا، ارجنٹائن اور وینزویلا کے کچھ حصے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ان ممالک کے لیے بھی سخت پیغامات دیے ہیں۔ میکسیکو دنیا کا سب سے بڑا سلور پروڈیوسر ہے، مگر چونکہ اس سلور کی پروسیسنگ چین میں ہوتی ہے، اس لیے کنٹرول بھی چین کے پاس رہتا ہےاور جدید معیشت سلور کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔
جنوبی امریکہ کا اینڈیز ریجن مستقبل کی معیشت کی کان ہے۔یہاں سلور، کاپر، لیتھیم اور Rare Earth Elements (REEs) جیسے وسائل موجود ہیں، جو آنے والی عالمی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان میں سے 60 سے 90 فیصد وسائل یا ان کی پروسیسنگ پر چین کا براہِ راست یا بالواسطہ قبضہ ہے۔ امریکہ کی اصل بے چینی یہی ہے کہ چین اپنی کمپنیاں، سرمایہ اور اثر و رسوخ کے ساتھ اس کے جغرافیائی عقب میں آ بیٹھا ہے۔
ٹرمپ کا جنوبی امریکہ میں جارحانہ طرزِ عمل محض علاقائی سیاست نہیں، بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹیجک منصوبہ ہےایک طرف اپنی معیشت اور دفاع کو محفوظ بنانا، اور دوسری طرف چین کی صنعتی طاقت کو کمزور کرنا۔ چلی اور پیرو کاپر کے بڑے پروڈیوسر ہیں، بولیویا لیتھیم کا عالمی مرکز ہے، اور امریکہ ان معدنیات تک براہِ راست رسائی چاہتا ہے، تاکہ اپنی صنعت کو مضبوط اور چین کی سپلائی چین کو محدود کیا جا سکے۔
اس تناظر کو سمجھنے کے بعد اب ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ یہ معدنیات اصل میں ہیں کیا، آئندہ کی معیشت میں ان کی اہمیت کیوں فیصلہ کن ہے، اور کیوں دنیا کی بڑی طاقتیں ان کے حصول کے لیے ہر حد پار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں۔ اور ہمارا کیا پوٹینشل ہے اور ہم اس سے کس طرح سے استفادہ کر سکتے ہیں
گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا کے اہم اور مضبوط معیشت رکھنے والے ممالک کا مطمع نظر کریٹیکل منرلز کی دستیابی ہے کیونکہ یہ معدنیات جدید معیشت کے لیے ضروری اور ہائی ٹیک الات کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں. پروفیسر ایمرٹیس یونیورسٹی آف میسوری امریکہ کےمطابق ان آلات میں سمارٹ فونز، ڈیجیٹل نوٹ بکس، سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز، ایمیٹنگ ڈایوڈس(emitting Diodes) شامل ہیں. LEDs, فائبر اپٹکس, ایس جی نیٹ ورک, خلائی جہاز کے پرزہ جات. اٹو موبائل کیٹلک، کنورٹرز، سپر کمپیوٹرز، ونڈ مل کے پارٹس، جدید دفاعی آلات، الیکٹریکل وہیکلز اور بہت سی دوسری ایپلیکیشن کے لیے یہ معدنیات انتہائی ناگزیر ہیں موبائل فونز میں ان دھاتوں کا استعمال اس بڑھتی ہوئی طلب کی بہترین عکاسی کرتا ہے امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق کوبالٹ، گیلیم، گریفائٹ، لیتھیم، میگنیشیم اور کئی دیگر پلاٹینیم گروپ منرلز(PGMs) کی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ REEs ہیں جبکہ پلاٹینم، پلاڈیم، روڈیم کی سپلائی کم ہے اور ان کی بلا روک ٹوک سپلائی و فراہمی قومی معیشت اور سیکیورٹی کے لیے لازمی ہے دوسرے جیولوجییکل مٹیریلز بشمول کرومیم, نکل, پوٹاش, سلیکان, تانبہ، چاندی، تھینیم اور سیسا کو بھی اہم مٹیریل سمجھا جاتا ہے.
2010 کی دہائی کی وسط کے آس پاس REEsکی عالمی مارکیٹ میں سالانہ طلب10500 ٹن تھی اور 2026 تک بڑھ کر21000 ٹن سالانہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے چین کے پاس REEsکا 58 فیصد اس کے بعد آسٹریلیا 17 فیصد، روس اور امریکہ میں ہر ایک کے پاس سات فی صد ہے جب کی باقی دنیا کے پاس 11 فیصد ہے پاکستان اپنے وسائل استعمال کر کے ان عناصر کا ایک بڑا سپلائر بن سکتا ہے دوسری جانب بہت سے ترقی پزیر ممالک تیزی سے جاری صنعت کاری کے عمل اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے اپنے الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے استعمال میں اضافہ کر کے ای ویسٹ کی بڑھتی ہوئی مقدار میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جس سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے الیکٹریکل اور الیکٹرونک حالات جیسا کہ سمارٹ فون، ڈیجیٹل ٹیبلٹس، کمپیوٹرز، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ، الیکٹریکل وہیکلز، سولر پینلز، ونڈ ملز، دفاعی ہارڈ ویئرز، سپیس وہیکلز میں بے مثال ترقی اور عالمی سطح پر اس کے بے تحاشہ استعمال سے ای ویسٹ میں بھاری اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر اس کی مقدار بڑھ رہی ہے 2014 میں یہ 44.4 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024 میں 62.3 ملین ٹن ہو گیا اور2030 میں یہ 74.7 ملین ٹن تک بڑھ جانے کا امکان ہے جس میں بڑا حصہ ایشیائی ممالک کا ہوگا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں لوگ کسی بھی دوسرے ذاتی الیکٹرانک ڈیوائس سے زیادہ موبائل فون استعمال کرتے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں موبائل فونز کا بڑا حصہ جن مواد پر مشتمل ہوتا ہے ان میں پلاسٹک 40 فیصد میٹلز 35 فیصد اور سیرا میکس کا 25 فیصد حصہ ہے اور موبائل کا ایک بلک 64 عناصر سے مل کر بنتا ہے جن میں اسٹریٹیجک اور اعلی قدر والی ٹیکنالوجی کی حامل دھاتیں جیسا کہREEs اورPGMs, سونا، انڈیم لیتھیم اور کوبالٹ شامل ہیں امریکہ اور یورپی یونین نے ان دھاتوں کی درجہ بندی کریٹیکل مٹیریل یا کریٹیکل را مٹیریلز کے طور پر کی ہے
ایک اندازے کے مطابق ہزار کلو گرام discarded موبائل فونز میں 270 گرام چاندی، 141 گرام سونا، 18 گرام بیلڈیم، 10 گرام پلاٹینم، 53 ہزار گرام کاپر اور 3300 گرامREEs ہوتے ہیں جن کی قیمت اکتوبر 2025 میں 30 ہزار ڈالر تھی 100 گرام فی سمارٹ فون کے وزن کے برابر تقریبا 13 ہزار سمارٹ فونز کی قیمت 83 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے یعنی کہ ملین کی تعداد میں خراب شدہ ناقابل استعمال اسمارٹ فونز سے قیمتی دھاتوں کی بڑی مقدار حاصل کی جا سکتی ہے
2025 تک پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 200 ملین موبائل فون صارفین ہیں ہیں جن میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 73 ملین تھی اگر پاکستان میں موبائل فونز کی اؤسط استعمال کی عمر 10 سال بھی لگا لی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک مخصوص سال 20 ملین موبائل فون ناقابل استعمال رہ جائیں گے ان فونز میں ہائی ٹیک دھاتیں ہیں جو ملک کی معیشت میں سالانہ 2. 2 ملین ڈالر کا اضافہ کر سکتی ہے اسی طرح کانوں کا فضلہ جسے ٹیلنگ tailing کہا جاتا ہے REEs کے حصول کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے مائننگ سیکٹر بلوچستان کی ترقی کی بنیاد ہے اور مایننگ ویسٹ سے کافی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے. اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے.
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مائنز اونر ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں کہا کہ حکومت اس شعبے میں شفافیت جدید ٹیکنالوجی مضبوط ریگولیشن اور بین الاقوامی معیار کی نگرانی کا نظام متعارف کرا رہی ہے جب کہ عالمی سرمایہ کاروں کو بلوچستان کے معدنی ذخائر تک رسائی دینے کے اقدامات جاری ہیں جس سے صوبے کی معیشت کو دیر پا تقویت ملے گی REEs کے حصول کے بغیر اکیسویں صدی میں ترقی کا خواب ادھورا ہے اور پاکستان کی ناقابل تسخیر دفاع کی طرح ان قیمتی معدنیات پر توجہ اور بہتر منصوبہ بندی اور دور رس نتائج کے حامل معاہدات سے معیشت بھی غیر متزلزل و مستحکم ہو سکتی ہے. بیریل beryl جو ماضی میں میکا مائننگ کے فضلے کے طور پر ڈس گارڈ کر دیا جاتا تھا اب اس کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اسی طرح فاسفیٹ اور المونیم کی مائننگ کے فضلے سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے اور یہ پروجیکٹ نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی ان کا بجٹ زیادہ ہے پاکستان میں خصوصی طور پر گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کریٹیکل منرلز کی دستیابی کا کافی پوٹینشل موجود ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ای ویسٹ سے بھی (جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے) REEsحاصل کی جا سکتی ہیں اور عالمی مارکیٹ سے منافع حاصل کر کے معیشت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے.
ایکسپولوریشن، ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر سے متعلق موجود چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے نئے عزم، دور اندیشی، اسٹریٹیجک منصوبہ بندی اور موثر عمل درامد کی ضرورت ہے. کمپیٹیشن کمیشن اف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق نایاب معدنیات سے مالا مال پاکستان میں سونا چاندی تانبہ پلاٹینیم اور جیم سٹونز کے وسیع ذخائر موجود ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکوڈک منصوبے سے 37 سال میں 74 ارب ڈالر کی امدنی متوقع ہے. دوسری جانب پاکستان سے اربوں ڈالر کی معدنی برامدات کے لیے پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمٹڈ اور ریکوڈک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پی آئی بی ٹی کو تانبہ سونا معدنیات دھاتیں اور دیگر قدرتی زمینی وسائل سمیت کا پر, گولڈ کموڈیٹیز کو ہینڈل ذخیرہ اور برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہو گئی ہے.
ریکوڈک دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے کان کنی منصوبوں میں سے ایک ہے جس سے پاکستان کو طویل مدتی معدنی برامدات اور معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اس معاہدے کے تحت پی آئی بی ٹی ریکوڈک کی معدنی پیداوار کے لیے مرکزی لاجسٹکس اور برامدتی گیٹ وے کے طور پر خدمات انجام دے گا جس سے پاکستان کو خطے میں قائم معدنی مرکز کے طور پر تقویت ملے گی اس منصوبے کی عملی سرگرمیوں کا آغاز 2028 سے متوقع ہے. اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کے مطابق ایگزم بینک آئندہ برسوں میں تقریبا دو ارب ڈالر مالیت کے کانکنی کے جدید الات اور خدمات پاکستان کو فراہم کرے گا تاکہ ریکوڈک منصوبے کو مکمل طور پر فعال کیا جا سکے اس منصوبے کے نتیجے میں امریکہ میں 6 ہزار جبکہ پاکستان میں تقریبا ساڑھے سات ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں گے امریکی سرمایہ کاری بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کرے گی. بلوچستان کے معدنی شعبے میں گزشتہ دنوں ایک اور بھی بڑی پیشرفت سامنے ائی ہے جب پاکستان کے پانچ بڑے کاروباری گروپس نے صوبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا اس سرمایہ کاری کو معدنی ترقی روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے ان کاروباری گروپس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریبا پانچ ارب امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے جس سے صوبے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ اور مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اس دوران ماری انرجیز لمٹڈ نے بھی بلوچستان میں معدنیات کی تلاش کے لیے گلوبہ کور منرل لمٹڈ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے اس معاہدے کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے معدنی ذخائر کی تلاش و ترقی کے اقدامات کو تیز کیا جائے گا بلوچستان حکومت نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اس شعبے میں شفافیت، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط ریگولیشن اور بین الاقوامی معیار کی نگرانی کا نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ ان منصوبوں اور معاہدات سے حتی الامکان فائدہ اٹھایا جا سکے.
ارضیاتی اعتبار سے پاکستان عالمی ہائی ٹیک میٹل مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بننے کے لیے اپنی REEs کی دولت کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے جس سے مختصر مدت میں ملک اقتصادی خوشحالی کی منزل کو چھو سکتا ہے جس کے لئے منصفانہ پالیسیوں اور شفاف انداز میں انکا نفاذ انتہائی ضروری ہے تاکہ پاکستان کی معیشت مضبوطی سے پھلے پھولے اور یہ عوام کے لئے خوشحالی کی نوید ہو اور اس بدلتے عالمی نظام کی قیادت پاکستان کے حصے میں آئے.