روز محشر کی اھم معلومات قران پاک اور *احادیث مبارکہ کی روشنی میں

0 7

روز محشر کی اھم معلومات قران پاک اور *احادیث مبارکہ کی روشنی میں

شکیل گوندل

اس معلومات میں کسی بھی فرقے کو اختلاف نہیں ھے کہ قیامت جمعہ مبارک کو برپا ھو گی۔پہلا صور پھونکے جانے کے ساتھ ھی تمام ذی روح پھر موت کے منہ میں چلے جائیں گے یہاں تک کہ قبریں شق ھوکر نکلنے والے مردے بھی پھر مردہ ھو جائیں گے۔
اسکے بعد (کچھ روایات کے مطابق)چالیس سال بعد’اللہ کریم ھی جانتے ھیں کہ یہ عرصہ کتنا ھے’ دوسرا صور پھونکے جانے سبھی ذی روح پھر زندہ ھو کر میدان حشر میں اسطرح جمع ھونگے کہ ھاتھ باندھے مودب کھڑے ھونگے۔سبھی ان تمام نقائص اور معزوریوں کمزوریوں سے مبرا ھونگے جو دنیا میں انھیں در پیش تھیں۔بلکہ سب کی بصارتیں سماعتیں وعیرہ بالکل ٹھیک ھونگی۔
اس میدان کی وسعت کا اندازہ اس سے کریں کہ حضرت ادم علیہ السلام سے لے کر روز قیامت تک پیدا ھونے والے تمام جنات اور انسان موجود ھونگے مگر کسی کے جسم پر دنیاوی لباس نہیں ھوگا اسکے باوجود کسی کا ستر بالکل ظاھر نہیں ھو گا۔ ھر ذی روح پسینے میں ھو گا کوئی گھٹنوں تک کوئی کمر تک کوئی چھاتی تک تو کوئی ٹھوڑی تک پسینے میں ڈوبا ھو گا گویا جیسے جیسے دنیا میں اعمال ھونگے اسی طرح سے وہ پسینے میں ڈوب ھو گا۔حساب کتاب سے پہلے اعمال نامے اپنے اپنے انجام کے لحاظ سے دائیں یا بائیں ھاتھ میں دے دئیے جائیں گے۔
کوئی حاضری نہیں ھوگی پھر بھی ھر ذی روح اس دن وھاں موجود ھوگا۔انکے علاوہ اللہ تعالیٰ خود وھاں جلوہ افروز ھون گے۔اس کے علاوہ اللہ کریم کے حکم کئے ھوئے ان گنت فرشتے ھونگے۔دنیاوی نظام کی طرح اواز ھر ذی روح تک پہنچنے کے لئے کوئی لاوڈ سپیکر نہیں ھوگا۔
ھر ذی روح کے اعمال کی تول کے لئیے میزان قائم ھونگے۔
اپنے اپنے اچھے برے اعمال کے حامل لوگوں کو میزان پر وزن ھوتے نظر ائیں گے۔ تا کہ ھر ایک سے مکمل انصاف ھو۔
کسی ذی روح سے نہ کوئی زیادتی ھو گی اور نا ھی کسی قسم کی کوئی رعایت ھو گی۔ اسی لئے قیامت کے بے شمار ناموں میں سے ایک نام یوم ا لحساب بھی ھے۔
اس دن ھر نیک و بد پر شدید دھشت پشیمانی اور بے قراری ھو گی۔ اس دن میں رو سیاہ بھی اپنی کار گزاریوں سمیت حاضر ھونگا جہاں تمام پیغمبر کے ساتھ ساتھ فرعون نمرود شداد اںو جہل ابو لہب جیسے بھی ھونگے۔
پھر دل میں یہی الفاظ ڈھارس بنے ھوئے ھیں:-
عدل کریں تے تھر تھر کمن سچیاں شاناں والے۔
فضل کریں تے بخشے جاون میں ورگے منہ کالے۔
اور اللہ کریم کی امید سے بھر پور خوشخبری تو مزید سوھان روح ھے:-
“میری رحمت سے مایوس نہ ھو-”
اللہ کریم اپنی رحمت اور کرم کے صدقے مجھ رو سیاہ کو اور یہ تحریر پڑھنے والے تمام لوگوں کو بخشش بغیر حساب کے عطا فرما دیں۔بلا شبہ اپ اس پر قادر ھیں۔امین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.