قربانی کی اہمیت

0 75

تحریر مولانا محکم الدین بروھی

قربانی ایک عظیم الشان عبادت ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوئی اور امت محمدیہ علی صاحبہاالسلام تک مشروع چلی آرہی ہے،ہر مذہب و ملت کا اس پر عمل رہاہے۔قرآن کریم میں ایک جگھ ارشاد ہے
(سورت حج آیت نمبر 34) (ترجمہ۔ہم نے ہر امت کیلئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمائے)
قربانی کا عمل اگر چہ ہر امت میں جاری رہاہے لیکن، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں خصوصی اہمیت اختیار کر گیاہے،اسی وجہ سے اسے ٫ سنت ابراہیمی ؛ کہا گیا ہے۔کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خدا کی رضا مندی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔اسی عمل کی یاد میں ہرسال مسلمان قربانیاں کرتے ہیں۔اس قربانی سے ایک اطاعت شعار مسلمان کو یہ سبق ملتا ہے کہ وہ رب کی فرمانبرداری اور اطاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار رہے اور مال و متاع کی محبت کو چھوڑ کر خالص اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا کرے۔نیز قربانی کرتے وقت یے بات بھی ملحوظ رہنی چائیے کہ قربانی کی طرح دیگر عبادات میں مقصود رضا الاہی رہے،غیر کیلئے عبادت کا شائبہ تک دل میں نہ رہے۔گویا مسلمان کی زندگی اس آیت کی عملی تفسیر بن جائے،
(سورت انعام آیت نمبر 162)
(ترجمہ۔میری نماز ،میری قربانی،میرا جینا،میرا مرنا،سب اللہ کی رضامندی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)
قربانی کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی ہے
(جامع الترمذی ،ج1ص409ابواب الاضحی)
ترجمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے رہے۔
قربانی کے فضائل۔
کئی احادیث میں قربانی کے فضائل وارد ہیں چند یے ہیں ( سنن ابن ماجہ ص226 باب ثواب الاضحیہ)
ترجمہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے سوال کیا،یا رسول اللہ! یے قربانی کیا ہے؟ ( یعنی قربانی کی حیثیت کیاہے؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ( اور طریقہ) ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے میں کیا ملے گا ؟ فرمایا ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ( پہرسوال کیا)یا رسول اللہ!اون (کے بدلے میں کیا ملے گا) فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی،
)جامع ترمذی ج 1 ص 275 باب ما جاء فی فضل الاضحیہ)
ترجمہ۔عیدالاضحی کے دن کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں،سینگوں اور کھروں سمیت ائے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالٰیٰ کیہاں شرف قبولیت حاصل کرلیتاہے،لہذا تم خوش دل سے قربانی کیا کرو۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.