الیکشن کمیشن کی جانب سے جانبدارانہ حلقہ بندیاںکسی صورت قابل قبول نہیں،پشتونخوامیپ
پشین ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کی رہنماﺅں نی کہا ہی کہ غیور عوام کی پارٹی میںجوق در جوق شمولیت پارٹی قیادت ، پارٹی پروگرام اور پارٹی کی جاری جدوجہد پر عوام کی اعتماد کا مظہر ہی۔ پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نی قومی کانگرس کی اہداف کیلئی جدوجہد تیز کرنی ہوگی ، الیکشن کمیشن کی جانب سی جانبداری اور تعصب پر مبنی حلقہ بندیاں پشتون غیور عوام کو قابل قبول نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کی صوبائی سینئر نائب صدر محمد عیسیٰ روشان، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری حاجی عبدالحق ابدال ، صوبائی کمیٹی کی رکن خلیل خان ترین ، سینئر معاون سیکرٹری عبدالولی پشتون ، انجمن تاجران کی صدر ملک بہادر خان ترین ، ڈاکٹر شکر الدین اور حاجی ملک قطب الدین لالا نی کلی ملیزئی میں 33افراد کی پارٹی میں شمولیت کی تقریب سی خطاب کرتی ہوئی کیا۔ انہوں نی کہا کہ پارٹی کو تنظیمی بنیادوں پر مزید منظم اور متحد کرنی کی ضرورت ہی اور ابتدائی یونٹوں کی سطح پر پارٹی کو مزید وسیع کرتی ہوئی نئی ابتدائی یونٹوں کی قیام اور تمام ابتدائی یونٹوں کی انتخابات بروقت کرانا از حد ضروری ہی پارٹی کی علاقائی یونٹوں نی اپنی فعالیت دوبالا کرتی ہوئی تنظیمی کام میں تیزی پیدا کرنی ہوگی ۔ انہوں نی کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سی ضلع کوئٹہ سمیت جنوبی پشتونخوا کی حلقہ بندیوں میں واضح طور پر پشتون دشمنی پر مبنی فیصلی کیئی ہیں اور جنوبی پشتونخوا کی عوام کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنی کی ناروا سازش کی ہی جو قابل مذمت اور قابل گرفت ہی۔ انہوںنی کہا کہ جنوبی پشتونخوا کی غیور عوام سیاسی جمہوری قوتیں اور ہر شعبہ زندگی سی تعلق رکھنی والی باشعور عوام الیکشن کمیشن کی اس تعصب اور پشتون دشمنی پر مبنی اقدام کی خلاف آواز بلند کریں۔انہوں نی کہا کہ حالیہ حلقہ بندیوں میں الیکشن کمیشن نی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی فیصلوں کو نظرانداز کرکی درحقیقت توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہی اور اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کا مقصد یہ ہی کہ الیکشن کمیشن کی حکام اپنی آپ کو کسی کی سامنی جوابدہ نہیں سمجھتی اور الیکشن کمیشن کا یہ طرز عمل اور منفی رویہ قابل مذمت اور قابل گرفت ہی ۔