قوم پرست رہنما

0 10

کئی دہائیوں کے دوران بلوچستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان مظلوم اقوام تحریک (پونم) کے سربراہ ، بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ سردار عطاءاللہ مینگل 93 برس کی عمر میں اپنے خالق ِ حقیقی سے جاملے آپ کو ذوالفقارعلی بھٹو اور جنرل پرویز مشرف اپنے لئے ایک مشکل اپوزیشن رہنما سمجھتے رہے۔ سردار عطاء اللہ مینگل 24 مارچ 1929 کو تحصیل وڈھ میں پیدا ہوئے اور کراچی ، سندھ منتقل ہونے سے پہلے اپنے بچپن کا بیشتر حصہ لسبیلہ میں گزارا۔۔ انہیں محض 25 سال کی عمر میں 1954 کے آوائل میںمینگل قبیلے کا سردار مقرر کیا گیا۔ سردار عطاء اللہ مینگل نے 1970ء میں بلوچستان اسمبلی کے پہلے الیکشن میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے۔ سردار عطااللہ مینگل نے یکم مئی کو بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، جبکہ ان کی حکومت جبری طورپر 1973ء میں ختم کر دی گئی تھی ۔ کہاجاتاہے کہ مینگل کو سیاست میں قومی عوامی پارٹی (این اے پی) کے بانی رکن میر غوث بخش بزنجو نے متعارف کرایا تھا ، جنہوں نے 1972-73 میں مختصر طور پر بلوچستان کے گورنر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ 1962 میں ، مینگل مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔ بزنجو نے اپنی انتخابی مہم چلائی۔ مینگل مئی 1972 میں بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے اور فروری 1973 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے ان کی حکومت کو برطرف کیے جانے تک اس عہدے پر رہے۔ قوم پرست رہنماسردار عطاءاللہ مینگل نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔ وہ 1990 کی دہائی میں پاکستان واپس آئے اور بی این پی تشکیل دی۔ مرحوم رہنما کے بیٹے اور موجودہ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے ا پنے والد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف اپنے والدین کو کھویا بلکہ ان کے “رہنمائی روشنی اور استاد” کو بھی کھو دیا۔اور جاگیردار شخصیت تھے ، جن کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ وہ مینگل قبیلے کا سربراہ تھا یہاں تک کہ اس نے اپنے ایک پوتے سردار اسد اللہ مینگل کو اپنا قبائلی جانشین نامزد کیا۔ مینگل کو سیاست میں میر غوث بخش بزنجو نے متعارف کرایا۔ بزنجو مینگل اور اختر مینگل کی انتخابی مہم چلاتے تھے بعد میں کرنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا مغربی پاکستان میں 1962. صوبائی اسمبلی نے مئی 1972 میں، مینگل بلوچستان کے پہلے وزیر اعلی بن گئے اور انہوں نے یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر کی طرف سے مسترد کر دیا گیا تھا کہ وہ اس پوزیشن میں رہے فروری 1973 میں وزیر ذوالفقار علی بھٹو۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مینگل نے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی 31 مارچ 1985 کو عطاء اللہ مینگل نے لندن میں سندھی بلوچ پشتون فرنٹ کے قیام میں شرکت کی۔ 1990 کی دہائی میں وہ پاکستان واپس آئے اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) بنائی۔ مینگل پاکستان مظلوم اقوام تحریک (پونم) کے سربراہ بھی رہے ۔ اپریل 2006 میں ، اختر مینگل اپنے کراچی کے گھر پر پاکستانی پولیس کے ساتھ تصادم میں ملوث تھا جب اس کے محافظوں نے تین سرکاری ملازمین کو اغوا کیا جس پر اس نے اپنے بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ مغوی افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا اور ایک ہفتے کے بعد تعطل ختم ہو گیا مرحوم کے 4 صاحبزادے سردار اسد اللہ مینگل ،سردار منیر مینگل ، سردارجاوید مینگل ، سردار اختر مینگل ہیں جن میں سردار اختر مینگل سیاست میں زیادہ ایکٹو اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ ہیں جن کا کہنا ہے میرے بابا ایک عظیم شخصیت تھے انہوں نے مجھے اچھے اور برے میں فرق سکھایا۔ یقین کے ساتھ ناانصافی کے خلاف لڑنا۔ وہ ہماری قوم اور زمین کے لیے امید کی کرن تھے۔” بہت سے پاکستانی سیاست دانوں صدر پاکستان ، عارف علوی ، اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے بھی مینگل کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔ مینگل کے بیٹے اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی کے موجودہ سربراہ ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، آصف زرداری، چودھری شجاعت، چودھری پرویز الہٰی، بلاول، فرخ حبیب، صادق سنجرانی، نفیسہ شاہ، نیئر بخاری، شازیہ مری و دیگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا انکی خدمات یاد رکھی جائیں گی۔ عطاء اللہ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ مرحوم عطاء اللہ مینگل سے ہمارے خاندان کا دیرینہ تعلق تھا۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم عطاء اللہ مینگل کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ قوم پرست رہنما سردارعطا ءاللہ مینگل کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی ان جیسے رہنما اب خال خال رہ گئے ہیں سیاست میں آپ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.