گرین لینڈ
گرین لینڈ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے حوالے سے ’متعدد آپشنز‘ پر غور کر رہے ہیں جس میں فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔ انکے مطابق نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول ’قومی سلامتی کی ترجیح‘ ہے۔
گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ’ضرورت‘ ہے۔ جس کے بعد ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی بھی حملہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بنے گا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار گرین لینڈ میں اپنی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ گذشتہ برس بھی ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت کے استعمال پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کی ضرورت معاشی وجوہات کی وجہ سے ہے۔
2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرکٹک میں ڈنمارک کے ایک خودمختار علاقے اور دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے میں نئی دلچسپی ظاہر کی تھی۔
انہوں نے سب سے پہلے بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران 2019 میں گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس مرتبہ انھوں نے ایک قدم آگے بڑھایا اور گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی اقتصادی طاقت یا فوجی استعمال کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے اس موضوع کو بار بار توجہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ ان کے لیے اس معاملے کی اہمیت کافی بڑھ چکی ہے۔ لیکن آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اسکی اصل وجہ وہ معدنیات کا خزانہ ہے جو گرین لینڈ میں موجود ہے۔
تاریخی اعتبار سے امریکی حکام اس خطے کو سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے توجہ دیتے آئے ہیں۔ روس سے قربت کی وجہ سے سرد جنگ کے دوران اسے یورپ اور شمالی امریکہ کے سمندری تجارتی راستے کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سمجھا گیا۔ امریکی فوج نے دہائیوں تک یہاں ایک اڈہ قائم رکھا جسے بیلسٹک میزائلوں پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
گرین لینڈ جزیرے پر 38 معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر، گریفائیٹ، نیوبیئم، ٹائٹینیئم، روڈیئم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات جیسا کہ نیوڈیمیئم اور پریسیوڈائمیئم جو الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آتی ہیں بھی پائی گئی ہیں۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو جرمنی سے چھ گنا بڑا ہے۔ یہ آرکٹک میں واقع ہے لیکن ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے۔
ٹرمپ اسے ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن یورپی یونین کے کئی رہنماؤں کی اہم اتحادی ہیں اور برطانیہ کی بڑی نیٹو ساتھی بھی ہیں۔
ان ممالک میں سے کوئی بھی ٹرمپ کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا، لیکن واشنگٹن اور کوپن ہیگن میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ، چھ بڑے یورپی ممالک بشمول برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے یوکرین مذاکرات کے موقع پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور اس بیان میں کہا گیا تھا کہ آرکٹک میں سلامتی اجتماعی طور پر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر حاصل کی جانی چاہیے اور یہ کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ سے متعلق معاملات کا فیصلہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو کرنا ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اقدام واقعی ٹرمپ کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہے؟ تو اسکا جواب ہے کہ ’نہیں۔‘
منصوبہ یہ ہے کہ ‘یکطرفہ طور پر گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے ’مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں جزیرے کو خریدنا بھی شامل ہے ‘
ٹرمپ نے جب پچھلے دورِ حکومت گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو خاص طور پر اپنے پہلے دورِیورپ کے کئی رہنما اس خیال پر خفیہ طور پر مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ مگر گزشتہ ہفتے وینزویلا میں ٹرمپ انتظامیہ کی متنازع فوجی کارروائی کے بعد اب کوئی اس پر نہیں ہنس رہا۔
ڈنمارک کی وزیرِاعظم کے مطابق ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق عزائم کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ خصوصاً یوکرین اجلاس کے بعد یورپی رہنما شدید پریشانی میں مبتلا نظر آئے ہیں۔
یہ صورتحال ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف نیٹو اور یورپی یونین کے رہنما امریکی انتظامیہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کو روس کی جارحانہ علاقائی خواہشات سے بچانے میں مدد کرے۔ دوسری طرف امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے اس کے صدر کو گرفتار کر لیا ہے اور ساتھ ہی ایک اور یورپی ملک یعنی ڈنمارک کی خودمختاری کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اس تضاد کی بنا پر یورپی رہنماؤں کے سامنے ایک اور مشکل سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ’کیا وہ امریکہ پر یوکرین کے دفاع کے لیے بھروسہ کر سکتے ہیں، جب کے وہ خود دیگر خودمختار ممالک کی آزادی کو چیلنج کر رہا ہے؟‘
یہ معاملہ مزید سنگین اس لیے بھی ہے کہ ڈنمارک اور امریکہ دونوں Ocean Atlantic کے فوجی اتحاد نیٹو کے رکن ہیں۔
اگر ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ اس ٹرانس اٹلانٹک دفاعی اتحاد کا خاتمہ ہو جائے گا، جس پر یورپ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اپنی سلامتی کے لیے انحصار کرتا آیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ کبھی نیٹو کے بڑے حامی نہیں رہے ہیں۔
کوپن ہیگن والوں نے گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک دوطرفہ معاہدے کے تحت امریکہ کا گرین لینڈ میں فوجی اڈہ پہلے ہی موجود ہے، جو سرد جنگ کے آغاز میں قائم کیا گیا تھا۔ اس اڈے پر عملے کی تعداد سرد جنگ کے عروج پر تقریباً 10 ہزار تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 200 رہ گئی ہے۔
ڈنمارک نے حال ہی میں گرین لینڈ کے دفاع پر چار ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعادہ کیا ہے جس میں کشتیاں، ڈرونز اور طیارے شامل ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ اس وقت ’انتہائی سٹریٹجک اہمیت‘ کا حامل ہے اور گرین لینڈ روسی اور چینی جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ کام نہیں کر سکے گا۔‘
ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق تبصروں کے بعد ڈنمارک کے شمالی پڑوسی ممالک نے فوراً زبانی طور پر اس کا دفاع کیا لیکن یورپ کے تین بڑے ممالک برطانیہ، پیرس اور برلن شامل کی جانب سے ابتدائی طور پر مکمل خاموشی رہی۔
اگر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک اور نیٹو اتحادی برطانیہ نے ڈنمارک کی خودمختاری کے حق میں مشترکہ بیان دیا ہوتا تو یہ واشنگٹن کے لیے ایک طاقتور پیغام ہوتا۔’
ابھی تک صرف چھ یورپی اتحادیوں نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر یہ بیان جاری کیا۔
ان بڑی طاقتوں کی سیاست میں جہاں امریکہ اور چین کے ساتھ روس اور انڈیا جیسے ممالک غالب ہیں، یورپ زیادہ سے زیادہ ایک تماشائی کا کردار ہی ادا کرتا نظر آتا ہے اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اسے بھی منٹ لیا جائے گا۔ یہ اتحاد عالمی سطح پر بڑا کردار ادا کرنے کے وعدے کرتا ہے لیکن جب بات ٹرمپ کی آتی ہے تو یہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔
جب ٹرمپ نے 2025 میں یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف لگا دیا، تو یورپی یونین نے اپنی انا کو دبایا اور جواب میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کی وجہ وہ خوف تھا کہ کہیں امریکہ کی وہ حمایت نہ کھو دی جائے جس پر یہ براعظم اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے انحصار کرتا ہے۔
اور اب معاملہ گرین لینڈ اور ڈنمارک تک پہنچ گیا ہے جہاں یورپی ممالک ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں اپنے رویوں میں منقسم ہیں اور اسی وجہ سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وہ کوپن ہیگن کے لیے کس حد تک کھڑے ہوں گے۔
اس کا مطلب صرف صبر کی تلقین سے زیادہ اقدامات کرنا ہے۔ یورپ کی بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ ہنگامی منصوبہ بندی شروع کریں۔ یہ سوچیں کہ وہ کس طرح بین الاقوامی اجلاسات جیسے آئندہ میونخ سکیورٹی کانفرنس اور ڈیووس، جہاں امریکی اعلیٰ حکام موجود ہوں گے، کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی نئے دفاعی معاہدوں جیسے جرات مندانہ اور جدید خیالات پر بھی غور کریں۔
نیٹو کے معاہدے اس بات میں فرق نہیں کرتے کہ کسی اتحادی پر حملہ کسی باہر کے ملک سے ہو یا کسی نیٹو اتحادی کی جانب سے بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اتحاد کا آرٹیکل پانچ جسے ’ایک اور سب کے لیے ایک‘ کہا جاتا ہے، اس وقت لاگو نہیں ہوتا جب ایک نیٹو ملک دوسرے نیٹو ملک پر حملہ کرے۔
بڑی یورپی طاقتوں نے اگرچہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں نیٹو کو آرکٹک سلامتی پر بات کرنے کا فورم قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک اس خودمختاری کی ضمانت دینے کے لیے کتنی دور تک جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف سٹاف سٹیفن ملر کے مطابق گرین لینڈ کے مستقبل پر امریکہ کی فوج کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔‘
گزشتہ موسمِ گرما میں ٹرمپ نے تمام نیٹو اتحادیوں سوائے سپین کے اپنے دفاعی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔ یورپ اب بھی کئی شعبوں میں امریکہ پر انحصار کرتا ہے جن میں انٹیلی جنس، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور فضائی صلاحیتیں شامل ہیں۔ اور واشنگٹن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ اس وقت حتیٰ کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی، یورپی رکن ممالک اس بات پر غور کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے کہ اگر واشنگٹن نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے فوج کی طاقت کا استعمال کیا تو کیا ہوگا؟؟؟؟؟؟