ڈی جی آئی ایس پی آر:”مزا نہ آئے تو پیسے واپس
ڈی جی آئی ایس پی آر:”مزا نہ آئے تو پیسے واپس
خواجہ جمشید امام
عالمگیر محبت کا یہ مطلب کہ ”دنیا کے تمام انسانوں سے محبت کی جائے۔“ اپنی بنیاد میں ہی درست نہیں کہ ایسا منطقی طور پر ممکن نہیں کہ آپ ظالم اور مظلوم سے بیک وقت محبت کر ہی نہیں سکتے۔ عالمگیر محبت کا مطلب دراصل:”مظلوم سے محبت اور ظالم سے نفر ت ہے۔“جب تک ظالم کے ہاتھ میں پکڑا وہ خنجر جو انسانیت کے سینے میں اتر رہا ہے اُس کے ہاتھ سے چھین نہیں لیا جاتا۔اُتنی دیر تک دنیا میں امن کا ہر تصور ناقص اور بے معنی ہے۔ سول سوسائٹی کے نام پر چند لوگوں کو جمع کرکے اُسے پاکستان کی آواز بنا کر پیش کردینا سوائے فراڈ اوردھوکے کہ اورکچھ بھی نہیں جبکہ دوسری طرف ریاست کا وہ بیانیہ کھڑ اہو جو قاتلوں اوردہشتگردوں سے نبرد آزما ہو۔ افغانستان کے ”معصوم دہشتگرد“ یا تو عمران نیازی کو نظر آتے ہیں یا پھر ایمان مزاری کو لیکن کیا انسانی حقوق کی بنیاد پر اِن لوگوں نے کبھی اُن شہیدوں کے گھر جا کر تعزیت کی ہے جو اِن دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہو جاتے ہیں۔ میری ضیاء الحق دور کی تحریروں سے لے کرآج تک ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ انتہا پسندی اوردہشتگردی کے خلاف ہیں۔ ضیاء کے زیرعتاب اس لئے رہے کہ ہم لکھتے تھے”کہ افغانستان کی جنگ ایک دن پاکستان کے گلی کوچوں میں آئے گی۔“ سو 1982ء سے لے کر 2006ء تک جیل اور ریل کے کتنے سفر کیے اُن کی گنتی بھی نہیں کی ٗ لیکن اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کل تک جو بیانیہ ہمارا تھا وہی آج افواج ِ پاکستان کا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس حقیقت میں تو صرف اور صرف طالبان ٗ اُن کے طریقے واردات ٗ ماضی کی شہادتوں کی تعداد اور موجود ہ نمبر ز ٗ کے علاوہ پاکستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی اور افغان دہشتگردوں کو ملنے والی سہولت کاری کے بارے میں تھا۔ خدا جانتا ہے کہ تین گھنٹوں سے زائد وقت تک ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو وہی تھی جو نائن الیون کے بعد ہماری تحریروں میں ہے۔ خوش آئند ہے کہ افواج پاکستان وہی کرنے جا رہی ہے اور کر رہی ہے جو ہمیشہ ہمارا خواب رہا ہے۔زندگی میں ایک نینو سکینڈ بھی ایسا نہیں گزرا کے کبھی کسی دہشتگردیا طالبان کے بارے میں دل میں ہمدردی کا وسوسا بھی اٹھا ہو۔ ہم اُن قاتلوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں جو چین سے لے کر ایران اور پاکستان سے لے کر سینٹرل ایشیا تک ہرریاست میں وبال ِ جنگ بنے ہیں۔ افغان جنگ سے پہلے امریکہ اوراُس کے حواریوں نے دنیا بھر کے دہشتگرد5جولائی 1977ء سے لے کر 27دسمبر 1979ء اور اُس کے بعد تادیر ہمارے شمال مغربی محاذ پر اکھٹے کیے جو ازاں بعد پاکستان بھرمیں پھیل گئے۔ آج وہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے اوراس بار شام سے فارغ ہونے والے دہشگر دوسری جانب یعنی افغانستان میں اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ روس کے ٹکرے ہونے کے بعد دنیا دوستونی سے یک ستونی میں تبدیل ہو گئی اور اب دنیا کو ایک مہا سرمایہ داری اورمہا سامراج کا سامنا ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کی نئی پالیسی کے مطابق وہ ریاستوں کو اندر سے توڑتے ہیں کیونکہ افواج کی موجودگی میں باہر سے توڑنے میں سامراجی قوتو ں کو بڑا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ سو عراق ٗ شام ٗ لیبیا ٗ الجزئر اورموجودہ وینز ویلا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وینز ویلا کے صدر کا انجام دیکھ کر پاکستانیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر دفاع کمپرو مائزڈ ہو جائے تو ریاست کا سربراہ بھی محفوظ نہیں رہتا۔برادرم حامد میر نے بلوچ صحافیوں کی پریس کانفرنس میں موجودگی کی طرف توجہ دلا کر دراصل بلوچوں کو پہلے نہ بلائے جانے کا گلہ کیا تھا کیونکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ حامد میر کا پاکستان مخالف بلوچ قیادتوں سے کیا تعلق اور رابطہ ہے۔ داعش اور طالبان کے درمیان وار انڈسٹری کے ہم پیشہ جیسی رفاقت ہے لیکن حامد میر کے سوال کا مطلب یہ ثابت کرنا تھا کہ آپ نے پکڑے جانے والوں کی تفتیش ہی نہیں کی۔ بہرحال ریاستی کاروبار میں ریاست سے اہم کوئی نہیں ہوتا۔ کے پی کے کی سرزمین سے اگر طالبان کی سہولت کاری ہو رہی ہے تو یہ نئی بات نہیں ہے جب عمران نیازی طالبان کو اپنی حقیقی فوج سمجھتا ہے تو پھر اُس کے بچے بچونگڑوں کے نزدیک تو طالبان یقینا اوتار ہی ہوں گے۔ کے پی کے زرخیز ترین صوبہ ہے لیکن گزشتہ بارہ سالوں میں اُس کے وسائل سے سب سے زیادہ طالبان مستفید ہوئے ہیں۔جو وسائل کے علاوہ کے پی کے ٗ کے وزیروں سے بھتہ بھی وصول کرتے رہے ہیں اوراس میں صرف صوبائی وزیر ہی نہیں عمران نیازی کی کابینہ کے وزیر بھی شامل تھے۔
مجھے تنگ دست رہنے کی عادت ہے اور ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ یہی میرا کل اثاثہ ہے ٗ مجھے اس اثاثے سے اگر کوئی شے عزیز ہے تو وہ صرف پاکستان اور اس کے ادارے ہیں یقینا میں بھی ان اداروں کی کارکردگی کو مزید بہترکرنے کیلئے بہت سی تبدیلیاں چاہتا ہوں لیکن میں اپنی خواہش کیلئے لوگوں کو اپنا ہم خیال ضرور بناتا ہوں لیکن اداروں پر حملے کرنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی تفصیلی پریس کانفرنس صر ف اور صرف پاکستان کیلئے تھی لیکن ”کچھ“ پاکستانیوں کو ”کلٹ“ کی وجہ سے بات سمجھ نہیں آ رہی لیکن ”میرے منہ میں خاک“ جس دن طالبان نے اُن کے دروازے پر دستک دی اُس دن انہیں سارے شہیداورغازی یاد آ جائیں گے۔ بھارت ہمارا دشمن ہے اور اِس میں کوئی شک نہیں۔ بھارت افغانستان اور دہشتگردوں کے ساتھ مل کر اگر کسی جنگ کا خواہشمند ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ”مزا نہ آئے تو پیسے واپس۔“ ماضی قریب میں بھارت اور افغانستان کی بننے والی درگت کے نتیجہ میں یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ امریکہ اور روس کو شکست دینے کا پروپیگنڈا کرنے والوں کو معلوم پڑ جائے گا کہ حقیقی ہیرو کون تھا۔ پاکستانیوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ عمران نیازی اور فیض حمید کا طویل شوق ِ حکمرانی نیست و نابود ہو گیا ورنہ اب تک نہ جانے کتنے لیڈر تحتہ ء دار پر جھول چکے ہوتے۔ افواج پاکستان دہشتگردوں اور پاکستانیوں کے درمیان واحد بیان المرصوص ہے۔ دعا کریں کہ یہ قیامت کی صبح تک قائم و دائم رہے۔ باقی جو مسائل ہمارے اندرونی ہیں انہیں مل بیٹھ کرحل کیاجا سکتا ہے لیکن یہ ریاست کسی فرد واحد کی خواہش پر تو ہرگز نہیں چل سکتی۔عمران نیازی کوقید تنہائی میں اُن کی زوجہ محترمہ سے تنہا ملاقات کروا دی گئی ہے جس کے اثرات جلد سہیل آفریدی پر اثر انداز ہوں گے اور وہ کسی نئے مطالبے کی صورت میں افواج پاکستان کے سامنے ہوں گے۔