روشنی کی ایک مثال جھالاوان کی بیٹی گودی فرزانہ سحر جاموٹ

0 5

روشنی کی ایک مثال جھالاوان کی بیٹی گودی فرزانہ سحر جاموٹ

تحریر:دردانہ بلوچ

یہ دنیا الفاظ سے نہیں، کردار سے بدلتی ہے۔ اور کردار وہی ہوتا ہے جو خاموشی سے، کسی صلے کی پروا کیے بغیر، معاشرے میں بہتری کا چراغ جلاتا ہے۔ اسی کردار کی جیتی جاگتی مثال ایک بیٹی، ایک سماجی کارکن، ایک معلم، ایک راہ دکھانے والی روشنی۔جہاں اکثر لوگ مسائل سے گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، وہاں ایک بیٹی فرزانہ سحرجاموٹ نے خضدار جیسے حساس اور مسائل سے گھِرے علاقے میں دو فلاحی ادارے نہ صرف قائم کیے بلکہ کامیابی سے چلا کر یہ ثابت کر دیا کہ اگر جذبہ خالص ہو تو وسائل کی کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔الفواد فاؤنڈیشن ہو یا سحر اسکلز ڈولپمنٹ ان اداروں کے پیچھے صرف ایک سوچ کارفرما ہےخدمتِ خلق عبادت ہے، اور تعلیم و ہنر وہ ہتھیار ہیں جو کسی بھی پسماندہ معاشرے کو طاقت دے سکتے ہیں۔فرزانہ سحر جاموٹ کا سفر پھولوں سے نہیں، کانٹوں سے بھرا تھا۔ تنقید، مخالفت، کردار کشی، یہاں تک کہ جان کا خوف بھی، لیکن اُس نے ہار نہیں مانی۔ اس نے ثابت کیا کہ اگر نیت پاک ہو اور ارادہ مضبوط، تو ایک عورت بھی تاریخ لکھ سکتی ہے۔آج وہ صرف ادارے نہیں چلا رہی، بلکہ خوابوں، امیدوں اور حوصلوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔یہ محض تعریف نہیں، ایک پکار ہےآئیے، ایسے کرداروں کو پہچانیے، سراہئیے، اور ان کا ساتھ دیجیے، کیونکہ یہی اصل سرمایہ ہیں جو کل کو قوم کی بنیاد بنیں گے۔خضدار، ایک ایسا خطہ جو برسوں عدم استحکام، خوف، خاموشی اور خون میں ڈوبا رہا۔ جہاں دن کے اجالے بھی سائے میں ڈھل جایا کرتے تھے، وہاں سے اگر کسی بیٹی کی آواز ابھرتی ہے، تو یہ محض آواز نہیں بلکہ ایک انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک روشن مثال کا نام فرزانہ سحر ہے:2013 کا وہ وقت جب خضدار کے حالات عام انسان کو گھروں میں قید کر چکے تھے، بازار سنسان اور گلیاں خوف کی تصویر تھیں۔ لوگ نقل مکانی پر مجبور، اور زبانیں خوف کے تالوں میں بند تھیں۔ ایسے میں فرزانہ سحر نے خاموشی توڑ کر آواز بلند کی۔ یہ آواز فقط الفاظ نہیں تھی، یہ پکار تھی مظلوموں کی، امید تھی یتیم بچوں کی، سہارا تھی بیوہ ماں کا، اور ہمت تھی ان سب کے لیے جو جینے کا حوصلہ کھو چکے تھےالفواد فاؤنڈیشن ہو یا سحر اسکلز ڈولپمنٹ سینٹر یہ ادارے صرف عمارتیں نہیں، بلکہ جذبوں، قربانیوں اور خدمت کے استعارے ہیں۔ ایک عورت کا بیک وقت دو ادارے چلانا، وہ بھی خضدار جیسے حساس علاقے میں، ثابت کرتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو، تو حالات کی سختی بھی راہ نہیں روک سکتی۔فرزانہ سحر نے نہ صرف تعصب، نفرت اور تنگ نظری کا ڈٹ کر سامنا کیا بلکہ مستقل مزاجی سے ہر اس طنز، مخالفت اور تنقید کو خندہ پیشانی سے سہا جو ایک عورت کے لیے سماج میں راستہ روکنے کا ہتھیار سمجھے جاتے ہیں خضدار کی سنگلاخ فضاؤں میں، جہاں خوف اور خاموشی کی حکمرانی تھی، وہاں ایک نرم لہجے، پختہ عزم اور جرأت سے لبریز بیٹی فرزانہ سحر جاموٹ نے نہ صرف قدم رکھا بلکہ اپنے ہونے کا احساس بھی دلوایا۔ وہ وقت، جب خضدار جیسے حساس ترین علاقے میں لوگ نقل مکانی پر مجبور تھے، بازار سنسان اور چوک چوراہے خون کی گواہی دے رہے تھے، اس کٹھن گھڑی میں ایک عورت کا باہر نکل کر سچ کی آواز بن جانا، اپنی ذات سے بالاتر ہو کر مظلوم طبقے کے لیے آواز بلند کرنا، کسی معجزے سے کم نہ تھا۔فرزانہ سحر 2013 سے لے کر آج تک ہر تنقید، ہر رکاوٹ اور ہر تعصب کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی کھڑی ہیں۔ انہوں نے الفواد فاؤنڈیشن سے لے کر سحر اسکِلز ڈولپمنٹ تک دو ادارے نہ صرف قائم کیے بلکہ کامیابی سے چلائے وہ بھی ایک ایسے علاقے میں، جہاں عورت کا نام لینا بھی کبھی معیوب سمجھا جاتا تھاان کی مثال ایک ایسے جگنو کی ہے جو اندھیروں سے نہیں ڈرتا، بلکہ روشنی بانٹتا ہے۔ ان کے راستے میں کبھی حوصلہ شکن لہجے حائل ہوئے، تو کبھی سازشوں کے طوفان، مگر وہ ہر قدم پر ثابت قدم رہیں۔ آج وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک کارواں ہیں، ایک تحریک ہیں، ایک امید ہیں۔ اُن کی جدوجہد نے درجنوں بیٹیوں کو قلم، ہنر، شعور اور خوداعتمادی دی۔آج وہ بچیاں جو تعلیم سے محروم تھیں، وہ مائیں جنہیں سہارا نہ تھا، وہ نوجوان جو مایوسی کا شکار تھے—سب فرزانہ سحر کو ایک امید، ایک رہبر، ایک ماں، ایک بہن اور ایک انقلابی کردار کے طور پر دیکھتے ہیں۔یہ محض تعریف نہیں، ایک آئینہ ہے ہمارے معاشرے کے لیے، کہ اگر ہم نے اپنے اصل ہیروز کو نہ پہچانا، تو ہم روشنی کو خود اپنے ہاتھوں سے بجھائیں گے۔ فرزانہ سحر جاموٹ ایک جگنو، جو اندھیروں سے نہیں ڈرتی، بلکہ ان میں روشنی کرتی ہے۔خدا اسے سلامت رکھے، اور اس جیسی بیٹیوں کو ہر گھر میں جنم دے۔یہ کالم ان سب کے لیے پیغام ہے، جو خدمت، سچائی اور ہمت کے راستے پر چل رہے ہیں۔ راہیں مشکل ضرور ہیں، مگر چراغ جلتے رہیں تو اندھیرے چھٹ ہی جاتے ہیں۔ہمیں نہ صرف فرزانہ سحر جیسے کرداروں پر فخر ہے بلکہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان جیسے کرداروں کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی کاوشوں کو سراہیں، کیونکہ یہی وہ چراغ ہیں جو معاشرے کو روشنی دیتے ہیں، اور یہی وہ آوازیں ہیں جو اندھوں کو راستہ دکھاتی ہیں۔
فرزانہ سحر ایک نام، ایک عزم، ایک سوچ… جو جھالاوان کی مٹی سے اُٹھا اور خضدار کی فضا میں امید بن کر چمکا۔ وہ نہ کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، نہ کسی سیاسی وراثت کی وارث ہے، لیکن اُس کے حوصلے اور خدمت کے جذبے نے اُسے ہزاروں دلوں کی دعا بنا دیا۔الفواد فاؤنڈیشن ہو یا سحر اسکلز ڈولپمنٹ، دونوں ادارے اُس کے خوابوں کی تعبیر ہیں، جنہیں اُس نے محض الفاظ میں نہیں، عمل میں ڈھال کر دکھایا۔ خضدار جیسے حساس علاقے میں، جہاں ایک عورت کا باہر نکلنا بھی سوال بن جاتا ہے، وہاں فرزانہ سحر نے دو ادارے نہ صرف چلائے، بلکہ درجنوں لوگوں کو باعزت روزگار، تعلیم اور ہنر سکھا کر معاشرے میں ایک نئی روح پھونکی۔نہ تھکی، نہ رُکی، تنقید سہی، مخالفت برداشت کی، مگر جو نہ سہہ سکی وہ کسی یتیم بچے کی آنکھوں میں آنسو تھا، کسی بیوہ کے چولہے کی بجھی آگ تھی۔فرزانہ سحر صرف ایک فرد نہیں، وہ احساس ہے، ایک جذبہ ہے، جو ہر دل میں جل سکتا ہے۔اگر نیت نیک ہو، دل سچا ہو، تو ایک عورت بھی زمانے کا چہرہ بدل سکتی ہے۔
خداوند کریم فرزانہ سحر جاموٹ کو سلامت رکھے اور ان کی کاوشوں کو مزید کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.