: فرزانہ سحر جاموٹ عزم، استقامت اور خدمت کا روشن استعارہ
: فرزانہ سحر جاموٹ عزم، استقامت اور خدمت کا روشن استعارہ
تحریررقیہ باجوئی خضدار
خضدار میں ایک ایسا دور تھا جب لوگ گھروں میں محصورہوکر رہ گئے تھے اور غیر یقینی حالات میں ، راستے سنسان تھے، بازار ویران اور دلوں میں خوف کی فضا چھائی ہوئی تھی، اُس وقت خدمت کا جذبہ لے کر باہر نکلنا کسی عام انسان کا کام نہیں تھا۔ یہ کام اُس بیٹی نے کیا جو نہ صرف جرات مند تھی بلکہ دردِ دل سے سرشار بھی۔
جانتی تھی کہ دروازے بند ہیں، مگر ضرورتیں کھلی ہوئی ہیں۔ وہ جانتی تھی کہ دنیا رک گئی ہے، مگر بھوک، بیماری اور بے بسی رکی نہیں۔ تب اُس نے نہ اپنے بچوں کا سوچا، نہ اپنے آرام کا۔ بس ایک سوچ دل میں تھی کہ اگر میں نہ نکلی، تو کون نکلے گا؟ یہی سوچ اُسے ہر خطرے سے بے نیاز کر گئی۔
نہ کسی وبا کا ڈر، نہ افواہوں کا اثر، اُس کا ایک ہی مقصد تھا: خدمتِ خلق یہ بیٹی صرف فرد نہیں، ایک عزم ہے۔ ایک مثال ہے ان سب کے لیے جو سوچتے تو ہیں، مگر قدم نہیں بڑھاتے۔
ایسی خواتین معاشرے کا فخر ہوتی ہیں، جو اندھیرے وقت میں اُمید کا چراغ بن جاتی ہیں، خاموشی کے موسم میں آواز بن جاتی ہیں، اور مشکل وقت میں مسیحا۔ وہ ایک عام سی اکیلی بیٹی تھی، نہ کسی بڑی کرسی کی مالک، نہ کسی سرکاری پروٹوکول کی عادی۔ لیکن اس کے اندر کچھ غیر معمولی تھاایک تڑپ، ایک درد، ایک خواب، ایک بے مثال جذبہ۔ اس نے زندگی کو دوسروں کے لیے جینا سیکھا، اور اپنے وجود کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیا۔مشکل حالات، تنگ معاشی وسائل، معاشرتی طعن و تشنیع، سب کچھ اس کے راستے میں آیا، مگر وہ نہ رکی، نہ جھکی۔
جہاں لوگ خوف سے دروازے بند کر چکے تھے، وہ وہاں محبت کے دروازے کھولتی رہی۔
جہاں مایوسیوں نے بسیرا کر لیا تھا، وہاں وہ اُمید کی شمع بن کر روشن ہوتی رہی۔جی ہاں وہ ہے جھالاوان کی بیٹی فرزانہ سحرجاموٹ جس نے صرف ایک وعدہ کیا تھاکہ وہ محروم طبقے کے لیے کچھ بدلے گی۔
یہ وعدہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا آغاز تھا۔
وہ صبح گھر سے نکلتی تو چہروں پر مسکراہٹ بکھیر کر، شام کو دعاؤں کی چادر اوڑھ کر واپس آتی۔یہ صرف اس کی داستان نہیں، یہ ہر اُس دل کی صدا ہے جو درد رکھتا ہے اور ہر اُس عورت کی حوصلہ افزائی ہے جو دنیا کو بدلنے کا خواب دیکھتی ہے۔ کیونکہ ایک بیٹی جب درد کو جذبے میں ڈھال لے،
تو وہ صرف تاریخ نہیں ،تقدیریں بدلتی ہے۔جہاں انہیں طرح طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں ایسا ہی معاشرہ ہے ، جو نہ خود اشک شوئی کرتا ہے، نہ زخموں پر مرہم رکھتا ہے،
مگر جو ہاتھ بڑھتے ہیں کسی بیوہ کے بجھتے چولہے کو روشن کرنے، یا کسی یتیم کے ہاتھوں میں قلم تھمانے،
انہیں طنز، تہمت اور تنقید کے پتھروں سے زخمی ضرور کرتے ہیں ایسے میں، جب سب راستے بند دکھائی دیتے ہیں، وہیں پہ
ایک بیٹی فرزانہ سحرجاموٹ تنقید کی تپتی دھوپ میں، خدمت کا خالص سایہ لے کر نکلتی ہے۔ نہ وسائل، نہ سرکاری مدد، بس ایک درد.. اور وہ وعدہ جو اس نے خود سے کیا:کہ وہ ہر اس در کو کھٹکھٹائے گی جہاں مایوسی بسی ہے، وہ ہر اُس آنکھ کو جگائے گی جو بے بسی سے نم ہے۔فرزانہ سحر نہ کوئی عہدہ رکھتی ہے، نہ طاقت کی چھتری، لیکن وہ طاقت ہے، ہر اس مجبور ماں کی جو روٹی کی جگہ دعا پکا رہی ہے، ہر اس بچے کی جو بستہ اٹھانے کی عمر میں مزدوری کر رہا ہے۔وہ چپ چاپ اپنے کام میں مصروف ہے۔ نہ کیمروں کی طلب، نہ داد کی آرزو۔تنقید کرنے والے آج بھی بول رہے ہیں، لیکن وہ بولتی نہیں، کر کے دکھاتی ہے۔یہ ہر اُس شخص کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لیے ہے جو کچھ نہ کر سکے، کم از کم رکاوٹ تو نہ بنے۔کیونکہ اگر ایک بیٹی ایک عورت تنہا، بے سہاروں کا سہارا بن سکتی ہے، تو یہ معاشرہ کیوں نہیں؟ گودی فرزانہ سحر ایک پیغام ہے کہ انسان بننا ہو تو درد محسوس کرواور کسی کے آنسو پونچھ نہ سکو تو کم از کم انہیں بہنے دو، ان پر تنقید نہ کرو۔فرزانہ سحر ایک نام نہیں، وہ ایک کارواں ہے۔نرم لہجہ، مگر ارادوں میں آتش۔ چہرے پر سکون، مگر دل میں طوفان۔ایک مقصد ہے۔جس دن اس نے خدمت کا وعدہ کیا، اسی دن خود کو بھول گئی۔ نہ موسم کی سختی دیکھی، نہ حالات کی تنگی۔ نہ کسی طعنہ کی پرواہ، نہ کسی رکاوٹ سے خوف۔ کیونکہ اس کے اندر درد تھا، اس درد نے جذبہ پیدا کیا، اور جذبے نے اسے مشن دے دیا۔یہ مشن تھا محروموں کے حق کی بات کرنا۔ یہ وعدہ تھا کہ کسی معصوم کی آنکھ اشکبار نہ رہے۔ یہ خواب تھا کہ علم، ہنر، اور وقار ہر بیٹی کا زیور بنےاور وہ تنہا نہیں رہی.اس کے جذبے نے قافلہ بنا لیا۔ اس کے خلوص نے دل جیت لیے۔اس کی جدو جہد نے راستے بنا دیے۔
۔غریب گھرانے کی چھت تلے آنکھ کھولنے والی بچی نے زندگی کی تنگ گلیوں سے روشنی کا راستہ تلاش کیا۔ سرکاری اسکول کی سادہ دیواروں کے درمیان تعلیم حاصل کی، لیکن خواب ہمیشہ بڑے دیکھے۔ ان کے دل میں نہ آسائشوں کی تمنا تھی، نہ شہرت کا لالچ بس خلقِ خدا کی خدمت کا جذبہ تھایہ بیٹی فرزانہ سحر جاموٹ تھی جس نے نہ وسائل کی کمی کو رکاوٹ بننے دیا، نہ معاشرتی بندشوں کووہ ہر دن خود کو غریبوں، ناداروں، بے سہارا خواتین اور بچوں کے لیے وقف کرتی رہیں۔ ان کا کام بولتا ہے، اور ان کی خاموشی بھی صدائے درد رکھتی ہے آج وہ ایک پہچان بن چکی ہے وہ ان ہزاروں چہروں کی آواز بنیں جو خاموشی سے جیتے اور مٹ جاتے ہیں۔یہ اس کی ہمت، صبر، اور اخلاص کا ہی ثمر ہے کہ ان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ مگر یہ مقام یوں ہی نہیں ملایہ ان دعاؤں کا اثر ہے جو کسی بوڑھی ماں، کسی یتیم بچے یا کسی بے گھر عورت نے ان کے لیے مانگی۔ اگر ہم عزم کریں تو غریب کی جھونپڑی سے اٹھ کر بھی انسانیت کا چراغ روشن کرسکتےہیں ۔اگر کوئی ہمت کرے، تو وہ بھی “فرزانہ سحر” بن سکتا ہے۔خضدار جیسے پسماندہ علاقے میں جب کوئی شخصیت اپنی محنت، خلوص اور لگن سے روشنی کی شمع روشن کرتی ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتی، بلکہ پورے معاشرے کی امید بن جاتی ہےوہ ایسی ہی ایک بے مثال بیٹی ہیں، جنہوں نے نہ صرف خواتین کی فلاح و بہبود، تعلیم و تربیت اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا، بلکہ ایک خاموش انقلاب کی بنیاد بھی رکھی۔اس کا سفر صرف تقریروں اور دعوؤں پر مبنی نہیں، بلکہ عملی میدان میں صبر، عزم، قربانی اور محنت سے لبریز ہےآج وہ بیٹی سے ماں بن چکی ہے ۔ وہ بیک وقت متعدد ادارے چلا رہی ہیں،الفواد فاونڈیشن کی پلیٹ فارم سے غریب اور ناداروں کی مدد کر رہی ہیں، جبکہ سحر اسکلز ڈولپمنٹ سے خصوصاً بیروزگار خواتین و ٹیلنٹڈ بچیوں کو مہارت حاصل کرنے و بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ان اداروں سے کئی گھرانے مستفید ہورہے ہیں تو وہاں انہی اداروں میں بچیوں کو ہنرمند بناکر اپنی پاوں پر کھڑی کررہی ہے ۔ ان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ وسائل کی کمی، نظام کی سختی، یا معاشرتی رکاوٹیں ایک پرعزم انسان کو روک نہیں سکتیں۔ان کی جدوجہد نے بلوچستان کی بیٹیوں کو نہ صرف خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا، بلکہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے راستے بھی کھولے۔ ان کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور قدم خدمت کے لیے اٹھیں تو تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے۔ایسے افراد کو خراج تحسین پیش کرنا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کے وہ چراغ ہیں جو خود جل کر دوسروں کے لیے روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف نہ صرف انہیں سراہنا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ قائم کرنا ہے۔یہ وہ نام ہے جو خلوص، خدمت، صبر اور استقامت کی عملی تصویر بن چکی ہے۔ ایک عام مگر غیر معمولی سفر، جو خضدار جیسے شہر سے شروع ہوا، آج لوگوں کے دلوں تک جا پہنچا ہے۔ایک سادہ گھرانے میں جنم لینے والی اس باہمت بیٹی نے اپنی زندگی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے آس پاس کے ہر درد کو محسوس کیا۔ سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر کے، انہوں نے وہ شعور پیدا کیا جو معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی آواز بن سکا۔فرزانہ نے خدمت کو مشن بنایا، اور جب خدمت مشن بن جائے تورکاوٹیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ چاہے تعلیم ہو، فلاحی سرگرمیاں ہوں، یا خواتین کی آواز بنناانہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔آج فرزانہ سحر جاموٹ صرف ایک نام نہیں، بلکہ وہ مثال ہیں کہ اگر نیت صاف ہو، تو اللہ راستے خود بناتا ہے۔ ان کی محنت، جدوجہد اور لوگوں کے لیے بے لوث خدمت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر دوسروں کے لیے جئے، تو وہی اصل کامیابی ہے۔فرزانہ سحر اُن سب کے لیے امید کی کرن ہیں جو کمزور پس منظر سے ہونے کے باوجود کچھ کر گزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایک ایسا نام جو خضدار، جھالاوان اور پورے بلوچستان کے لیے فخر کی علامت بن چکی ہے۔ وہ نہ صرف ایک محنتی اور باہمت بیٹی ہے، بلکہ صبر،استقامت، استقلال اور خدمتِ خلق کی جیتی جاگتی تصویر بھی ہیں۔
اس نے جن حالات میں اپنی جدوجہد کا آغاز کیا، وہ کسی کے لیے بھی حوصلہ شکن ہو سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے تمام مشکلات کو قدموں تلے روند کر، ایک ایسا راستہ چنا جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرنے والا تھا۔ غریبوں، ناداروں اور خاص طور پر لڑکیوں کے لیے ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ وہ نہ صرف ان کے مسائل کو سمجھتی ہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان کے لیے بہتر مستقبل کی راہیں ہموار کرتی ہیں۔ان کی کامیابیاں نہ تو اتفاقیہ ہیں اور نہ ہی دکھاوے کی مرہونِ منت بلکہ یہ برسوں کی خاموش، مستقل اور بےلوث محنت کا نتیجہ ہیں۔ ایک خاتون جو بیک وقت کئی پروگرامز، منصوبے اور ادارے چلا رہی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ارادہ نیک ہو اور نیت صاف، تو وسائل کی کمی بھی راستہ نہیں روک سکتی۔فرزانہ سحر کا ہر قدم، ہر منصوبہ، ہر آواز ایک پیغام ہے کہ بلوچستان کی بیٹی صرف مظلوم نہیں، رہنما بھی ہو سکتی ہے۔ وہ چراغ کی مانند ہیں جو اندھیروں میں امید کی روشنی پھیلاتی ہیں۔ ان کی کاوشیں آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور ان کی شخصیت اُن تمام خواتین کے لیے حوصلہ ہے جو معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔فرزانہ سحر جاموٹ عزم،ہمت حوصلے اور خدمت کا استعارہ بن چکی ہے۔ وہ خضدار کی بیٹی ہی نہیں، پورے جھالاوان کی پہچان ہیں۔ ان کے وجود میں وہ تپش ہے جو صرف سورج کی دھوپ میں چلنے والے قدموں کو نصیب ہوتی ہے، اور وہ سکون ہے جو صرف دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھ کر حاصل ہوتا ہےانہوں نے جب قدم اٹھایا تو نہ راستہ آسان تھا، نہ منزل قریب۔ لیکن ان کے جذبے نے ہر دیوار کو راہ بنا دیا۔ ان کی خاموش محنت نے چیخ چیخ کر یہ پیغام دیا کہ خواب صرف دیکھے نہیں جاتے، بیداری میں تعبیر بھی کیے جاتے ہیں۔ وہ بیک وقت کئی فلاحی ادارے، پروگرامز، تعلیمی و سماجی سرگرمیاں چلا رہی ہیں اور یہ سب اس خلوص کے ساتھ کہ نہ صلہ چاہیے، نہ ستائش۔اس کا ہر عمل صدقہ جاریہ ہے۔ ان کا ہر قدم ان بچیوں کے لیے روشنی ہے جنہیں معاشرہ اندھیروں میں دھکیل چکا تھا۔ ان کی استقامت، ان کا صبر اور ان کی بے لوث خدمت اُن تمام رکاوٹوں کا جواب ہے جو عورت کو کمزور سمجھ کر اس کے خواب چھین لینا چاہتی ہیں۔
وہ بلاشبہ بلوچستان کی وہ بیٹی ہیں جن پر قوم کو ناز ہے۔ ان جیسی شخصیات صدیوں میں جنم لیتی ہیں، اور اپنی موجودگی سے معاشرے کے رخ بدل دیتی ہیں۔وہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ تقلید ہیں۔ ان کی جدوجہد بے مثال ہے، ان کی زندگی خود ایک زندہ کتاب ہے۔بیک وقت مختلف پروگرامز اور اداروں کو کامیابی سے چلانا محض انتظامی صلاحیت نہیں، بلکہ یہ خالص محنت، لگن اور خلوصِ نیت کا ثمر ہوتا ہے۔ یہ اس شخص کی عزم و استقلال کی علامت ہے جو نہ صرف وقت کو قید کرتا ہے بلکہ خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا ہنر بھی رکھتا ہے۔ ایسے افراد سادہ انتظامیہ نہیں بلکہ قوم کے معمار ہوتے ہیں، جو بغیر کسی صلے کے، شب و روز خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ کامیابیاں محنت کی وہ فصل ہیں، جو مسلسل قربانی، صبر اور ایثار کے پانی سے سینچی جاتی ہیں۔
ایسی باہمت بچیوں وخواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، تاکہ یہ شمع مزید دلوں میں امید کی روشنی بانٹےاس کی کہانی صرف جدوجہد کی کہانی نہیں، بلکہ وہ ایک حوصلے، عزم، اور ناقابل شکست ارادے کی روشن مثال ہے۔ جن حالات میں انہوں نے قدم بڑھایا، وہ کسی بھی عام انسان کو ہراساں کر دینے کے لیے کافی تھےیکن وہ “عام” نہیں تھیں۔ایک غریب گھرانے میں جنم لینے کے بعد، جہاں سہولتیں کم اور خواب بہت زیادہ ہوتے ہیں، وہی خواب ان کے حوصلے کا ایندھن بنے۔ معاشرے کی بے رحم نظروں، زبانوں کے زخموں، اور قدم قدم پر بچھائے گئے کانٹوں کے باوجود انہوں نے نہ صرف راستہ چُنا بلکہ اُسے عزت، خدمت اور کارکردگی سے روشن بھی کر دیا۔عورت ہونا، اور وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں قدم قدم پر مخالفت، شک، اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑےیہی سب کچھ برداشت کر کے فرزانہ سحر نے ثابت کیا کہ اصل کامیابی اُنہی کے حصے میں آتی ہے جو خاموش رہ کر مسلسل محنت کرتے ہیں۔جو کل تنقید کرتے تھے، وہ آج ان کے لیے تعریفی کلمات دہراتے ہیں۔ جو کل راستہ روکنے والے تھے، وہ آج راہ کے مسافر بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ یوں ہی نہیں ہوایہ اس صبر، قربانی، اور استقلال کی وہ داستان ہے جسے سنہری لفظوں میں لکھا جانا چاہیےفرزانہ سحر جاموٹ وہ نام جو اب تحریک ہے، اور وہ آواز جو خاموشوں کو حوصلہ دیتی ہے۔