جامعات کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں لیکن دھڑا دھڑ بھرتیاں اور نئی بلڈنگز بنائی جاررہی ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

0 20

۔ بلوچستان کابینہ نے صوبے کی جامعات میں نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایکٹ کا جائزہ لینے اور دوسرے صوبوں سے موازنہ کرنے کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے صوبائی کابینہ کا چوتھا اجلاس وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا صوبائی کابینہ نے بلوچستان میں سرکاری ملکیت اراضی کو گرین کارپوریٹ شراکتی منصوبے کے تحت آباد کرنے کی منظوری دی اجلاس میں مختلف محکموں کے ایجنڈہ پوائنٹس پر اہم فیصلے کئے گئے اور لازمی ڈیپارٹمنٹل امور کی توثیق کی گئی کابینہ نے بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا کمیٹی میں صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، بخت خان کاکڑ، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن شامل ہوں گے یہ کمیٹی 7 روز میں سفارشات مرتب کرے گی جس کی روشنی میں مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گڈ گورننس کے قیام اور سروس ڈلیوری کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت پوری تندہی سے کام کررہی ہے اور مختلف محکموں کی بہتری کیلئے اصلاحات لائی جاررہی ہیں انہوں نے کہا کہ وقت سے زیادہ درست سمت کا تعین اہمیت کا حامل ہے ہم نے درست راستے کا انتخاب کرکے عمل پیرا ہونا ہے اور ایسی پائیدار حکمت عملی مرتب کرنی ہے جس کے ثمرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں وزیر اعلٰی بلوچستان نے اس امر پر تاسف کا اظہار کیا کہ جامعات کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں لیکن دھڑا دھڑ بھرتیاں اور نئی بلڈنگز بنائی جاررہی ہیں فراہم کردہ وسائل کی نسبت کوالٹی کا جائزہ لیں تو معاملات مایوس کن حد تک خراب ہیں ہمیں مصلحتوں اور ذاتی مفادات کے قطع نظر میرٹ پر فیصلے کرنے ہوں گے وزیر اعلٰی بلوچستان نے کہا کہ جامعات کو وسائل کی فراہمی سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام قائم کرنا ضروری ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.