سانحہ 8 اگست؛ جب انصاف کا خون ہوا !!

0 2

تحریر: خالد بشیر
بقول پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ

جب درد آپ کے سماج کا حصہ بنتا ہے، جب درد آپ کے اندر سے نکلتا ہے تب ہی قومیں بنتی ہیں اور تب ہی شعور آتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ درد دو قسم کے ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو آپ کو صرف تکلیف پہنچائے اور دوسرا وہ جو تکلیف کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کا رخ اور زاویہ ہی بدل کے رکھ دے۔
وہ اگست 2016 کا ایک عام دن تھا جو اب سیاہ دن کے طور پہ جانا جاتا ہے۔ اس دن بلوچستان میں خاک اور خون کا ایک اور بد ترین کھیل کھیلا گیا تھا۔

کچھ وکلائ عدالتوں میں موجود اور کچھ عدالتوں کا رخ کر رہے تھے۔ انھیں اطلاع ملی کہ ایک وکیل کو اندھادھند فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ وکلائ کا ہجوم سول ہسپتال کی طرف امڈ آیا۔ ہسپتال کے ایمرجنسی گیٹ کے سامنے وکیلوں کا ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہوا جبکہ میڈیا کے کچھ نمائندے اس واقعہ کی کوریج بنانے میں مصروف تھے۔اسی دوران رونگھٹے کھڑے کرنے والا، بلوچستان کی تاریخ میں درد کا ایک اور استعارہ بنانے والا، ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد سول ہسپتال کا وہ احاطہ قیامت صغری کا منظر پیش کرنے لگا۔ ہسپتال کا فرش “کربلا ” کی منظر کشی کر رہا تھا ہر طرف خون میں لت پت لاشیں اور درد سے تڑپتے زخمی وکیلوں کی سسکیاں…. ایسا کربناک و ہیبتناک منظر جو عام الفاظ میں بیاں کرنے سے قاصر ہو۔

8 اگست 2016 سانحہ نے ایک ایسا درد بلوچستان کے سینکڑوں گھروں میں بھر دیا جس سے نہ صرف لواحقین کی زندگیاں بدل دی بلکہ اپنی شدت و وحشت سے ایک پوری باشعور اور پڑھا لکھا نسل چھین کر ا±س پورے طبقے کو بدل کے رکھ دیا جو قانون کی بالا دستی کے لیے کام کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔
یوں تو اس واقعہ کو گزرے چار سال گزر گئے ہیں لیکن اس کے اثرات اتنے گہرے اور زخم اتنے تازہ ہے کہ گویا یہ کل کی بات ہو، زخم ویسے ہی تازہ، لوگ ویسے ہی ماتم و سوگ میں دن بسر کر رہے ہیں۔
لواحقین کی دماغی حالت اِس وقت سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے محنت و مشقت کرکے، اپنے خون پسینے کی کمائی سے پڑھا لکھا کر اپنے بچوں کو وکیل بنوایا تھا صرف اور صرف عدل و انصاف کی بالادستی کی خاطر۔ جنھوں نے اپنے پیاروں کو کالے کوٹ اِستری کروا کے وکالت کرنے بھیجا تھا، ان کا خیال تھا ان کے پیارے عدالتوں میں جاکر دردمندوں کی درد کی داستاں سن کر ان کا حوصلہ و بازو بنیں گے۔ اسی درد کے بنیاد پہ انھیں انصاف دلا کر انکے درد کا مداوہ کریں گے۔ پھر شام کو ا±ن کے پیارے گھر آئیں گے، کالے کوٹ ا±تاریں گے، ٹائی ڈھیلی کریں گے ،کورٹ کچہری میں ہونے والی روداد سنائیں گے۔ باقی وہ جو گھر سے آپ تک بریکنگ نیوز پہنچانے نکلے تھے اور وہ جو ہسپتال میں کسی کی تیمارداری کرنے آئے تھے لیکن ان سب کو کیا خبر تھی ا±س دن وہ خود ہی لا قانونیت وہ کر محض اک خبر بن جائیں گے۔

اس صوبے میں لگ بھگ دو عشروں سے عام شہریوں کے اختیار میں جنازے پڑھنے کے سوا کچھ نہیں رہا لیکن ا±س دن صرف شہر کوئٹہ میں دوستوں، استادوں اور جاننے والوں کے اتنے جنازے اٹھے کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس کس تک کیسے پہنچا جائے۔
وکیل، عوام اور ریاست کے درمیان بات چیت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔کسی بھی ریاست کے توازن کو برقرار رکھنے میں، امن و انصاف سے پر تشدد حالات کو پر سکون بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور سزا و جزا کے نظام کے مرکزی کردار ہوتے ہیں۔
بلوچستان کے مخدوش حالات کے سبب کوئٹہ کے وکیل اپنے کام کو دوسروں کی نسبت ذرا زیادہ سنجیدگی سے لیتے تھے۔ ملک کے دیگر بار رومز
کی نسبت کوئٹہ کے بار میں ہمیشہ سیاست پر بات کرتے ہوئے دلائل سے کام لیا جاتا تھا اور کتابوں کے حوالے کے ساتھ عالمی تاریخ پر تو کوئٹہ کی ضِلع کچہری میں دھواں دار بحثیں بھی ہوتی تھی۔ وکلا کی بڑی تعداد میں شہادت کے باعث بلوچستان میں عدالتی نظام شدید متاثر ہوا۔ عدالتی نظام میں ایک ایسا خلا آیا جو شاید رہتی دنیا تک واپس بھر نہیں سکتا۔ اس خودکش حملے میں با شعور، تعلیم یافتہ افراد کی تعداد کی شہادت کے باعث بلوچستان کے سیاسی حلقوں نے اس سانحے کو سنہ 1935 کے زلزلے کے بعد نقصان کے حوالے سے دوسرا بڑا واقعہ قرار دیا۔
انتہائی دکھ اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ایسے درد ناک واقعے کے بعد تحقیقات کرنے اور ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے رہے لیکن سب بے سود، بے فائدہ, ناکارہ اور لا حاصل۔
ستر سالوں کی ملکی تاریخ میں ہزاروں ایسے واقعات کو نہ ہی سنجیدگی سے لیا گیا اور نہ ہی خاطرخواہ اور تسلی بخش تحقیقات ہوئی کہ جس سے وجوہات کے ساتھ ذمہ داروں کا بھی تعین ہوتا، اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے گئے یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات تواتر سے ہوتے آرہے ہیں۔
عدالتی کمیشن کی جو رپورٹ تھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اس سانحہ کے جو اصل ذمہ دار تھے ان کو بے نقاب کرنا اور ان کو گرفتار کرکے سزا دینا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے باعث بلوچستان میں پروفیشنلز ابھی تک ایک ان کہی خوف میں مبتلا ہیں۔ وکلا کو جس ظلم کا نشانہ بنایا گیا اس کا ازالہ نہیں ہوا اور صرف پیسہ دینا کسی ظلم و ناانصافی کا ازالہ نہیں ہوتا۔ ازالہ اس وقت ہوگا جب اس حوالے سے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد ہوگا اور اس سانحے کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرکے گرفتار کیا جائے گا۔
آئیے! تہذیب یافتہ اور باشعور قوموں کی طرح ہم بھی یہ عہد کریں کہ ان شہدا کی راہ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں گے اور معاشرے کو اندھیروں ،ظلم و جبر اور استبداد سے نکالنے کے لئے ان کی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے رہیں گے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.