افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا مسلہ
اس سے قبل ماضی کی حکومتوں کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا رہا تھا کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا اور اس ایشو پہ کچھ عرصہ شور بھی اُٹھتا رہا تھا مگر کبھی بھی اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تو اب حکومت کیا ایسا نیا کرے گی ؟ حکومت کے پاس ایسی کونسی حکمتِ عملی ہے جس کی بنا پر پُر امن طریقے سے ان سب کا انخلا ہو گا؟ یہاں سوال یہ ہے تو کیا اس بار اس پر عمل درآمد ہو گا؟ یا پھر ماضی کی طرح اس بار بھی معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔
جہاں تک انکے انخلا کی بات ہے تو ان 30 لاکھ افغان باشندوں کو ملک سے نکالنا اتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان اس ضمن میں بین الاقوامی قوانین کا بھی پابند ہے۔
وقتاً فوقتاً ’نگراں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی طرف سے بھی ایسے بیانات آتے رہے ہیں جن میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر ملک میں بسنے والے غیرملکیوں کو کسی طور پر بھی پاکستان میں نہیں رہنے دیں گے۔‘
’افغان مہاجرین کمشنر عباس خان نے ایک حالیہ بیان کے دوران کہا تھا کہ جن افغان مہاجرین کو پی او آر کارڈ جاری کیے گئے ہیں، ان کے لیے جلد ہی نئی پالیسی بنائی جائے گی۔‘
افغانستان میں پاکستان کے سابق قونصل جنرل ایاز وزیر نے بھی کہا تھا کہ جس طرح پاکستان میں بسنے والے افغان باشندوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کارروائیاں کرر ہے ہیں اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب حکومت نے واقعتاً ان کو اپنے ملک واپس بھیجنے کا پلان بنا لیا ہے۔
’طالبان کے افعانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد زیادہ تر وہ افغان باشندے پاکستان میں قانونی طور پر داخل ہوئے تھے جو وہاں پر غیرملکی کمپنیوں اور اداروں کے لیے کام کرتے تھے اور ان افراد کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ پاکستان پہنچ کر ان کے ویزوں کا مرحلہ شروع کر دیا جائے گا، مگر بیشتر کیسز میں ایسا نہیں ہوا۔سمجھ نہیں آئی کہ ایک طرف حکومت ان سے اسطرح نالاں ہے کہ انہیں جلد از جلد نکالنے کے چکر میں ہے اور دوسری جانب یہ سلسلہ ہے۔ اس پہ کئی قسم کے سوال اُٹھتے ہیں۔ جن کا جواب آخر کسی کے پاس تو ہو گا۔
اسی دوران میں بہت سے افغان باشندوں نے پاکستان کے مختلف اداروں میں کام کرنے والے حکام کے ساتھ ملی بھگت کرکے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تک حاصل کر رکھے ہیں۔
بہرحال اتنی بڑی تعداد میں افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیجنا آسان نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے ایک تفصیلی اور مکمل پلان کی ضرورت ہو گی تو کیا اربابِ اختیار کے پاس کوئی ایسا پلان ہے؟
کیا حکومت پاکستان کا یہ اقدام افغان حکومت کو شدت پسندی کے معاملے پر دباؤ میں لانے کا ایک طریقہ ہےتو اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
یہاں اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں ک 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے چھ لاکھ کے قریب جو افعانی پاکستان آئے ہیں ان میں سے اکثریت ان افراد کی ہے جو طالبان مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ تو پھر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب وہ طالبان مخالف نہیں رہیں گے، جب انہیں واپس بھیجا جائے گا تو کیا انکی زندگیاں خطرے میں نہیں ہوں گی؟ اور پھر ان چھ لاکھ کو اسوقت کس قانون کے تحت پاکستان میں آنے کی اجازت دی گئی تھی؟ ان تیس لاکھ افغانیوں کی بات کی جائے تو یہاں کتنے فی صد ایسے ہیں کہ جن کی واقعتاً رجسٹریشن ہوئی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ایسے ہیں کہ جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ وہ کب آئے ؟اور کس نام سے آئے؟ اور کس نام سے یہاں رہ رہے ہیں؟ چلیں دیکھتے ہیں کہ نگران حکومت اس ٹاسک میں کتنا کامیاب ہو سکتی ہے؟ لیکن جہاں تک ہماری انفارمیشن ہے نگران حکومت کا کام صرف الیکشن کروانا اور ضروری ضروری مسائل کو حل کر کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کرنا ہوتا ہے۔ کیا اس ٹاسک کو اتنی اہمیت اور priority دینے میں عوام کا کوئی فوری فائدہ ہے اگر نہیں تو کیوں نہ اس ٹاسک کو آنے والی حکومت کےلئے رہنے دیا جائے۔