انتخابات جب بھی ہوں صاف و شفاف ہونے چائیں،محمود خان اچکزئی

0 98

کوئٹہ(پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی چےئرمےن محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ انتخابات جب بھی مرضی کرائےں لیکن صاف و شفاف ہونے چاہئے لندن میں 26 پارٹیوں کا اجلاس ہوا اور نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے اے پی ڈی ایم بنی ہم ایسے حکومتوں میں ہم شامل ہوئے جس میں ہمیں نہیں شامل ہونا چاہئے تھا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہےںجذبات کی روح میں اپنا حق حاصل کرنے کےلئے طاقت کی استعمال کی بجائے سوچ سمجھ اور مل بیٹھ کر حاصل کرنا چاہئے دنیامیں زندگی گزارنے کی پہلی اینٹ انصاف ہے جہاں انصاف نہیں ہوگا وہاں زندگی نہیں چلے گی میںپشتون، بلوچ ،سندھی اور پاکستان کے تمام جمہوری قوتوں کا ذمہ دار ہوں کہ ہم پاکستان کو نہیں توڑنا چاہتے لیکن ہم غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہے پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے پارلیمنٹرین ہی ملک کی داخلہ و خارجی پالیسی بنائیں گی سوئی سے نکلی گیس پنجاب اور اسلام آباد کے پہاڑوں تک پہنچا لیکن ڈیرہ بگٹی آج بھی اس گیس سے محروم ہوئے یہ بے انصافی ہے اس طرح ہم آپ کو ریکوڈک، سیندک، سنگ مرمر سمےت دےگر وسائل پر کسی صورت نہیں چھوڑینگے حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں ججز کو نوکریوں سے نکالا جائے اور حلف کی پاسداری کرنے والوں کو ان کے بچوں کیلئے گزارے کا بندوبست کیا جائے شہدا ہمارے جمہوریت کے ہیروز ہے خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی، باچاخان، عطاءاللہ مےنگل، غوث بخش بزنجو ودےگر غدار نہےں بلکہ ہم اس ملک کے وفادار ہے ہم نے انگریزوں ، غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جدوجہد کیا ہے اگر یہ ہماری گناہ ہے تو ہمیں یہ غداری قبول ہے، ان خےالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان انٹرنےشنل تھنک ٹےنک ،انٹرنےشنل سوسائٹی آف فرےنڈز پاکستان اور فرےنڈز آف ےونےورس سوسائٹی پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے ساحل ،بےش بہا قےمتی وسائل اور معاشی مسائل کے حل آپ کی نظر مےں کے عنوان سے منعقدہ سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے کےا، سےمےنار مےںبلوچستان نےشنل پارٹی کے رہنماءمےر روف مےنگل،پاکستان پےپلز پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر مےر چنگےز جمالی،نےشنل پارٹی کے رہنماءڈاکٹر اسحاق بلوچ،سنےئر صحافی شہزادہ ذوالفقار، عبدالرحےم زےارتوال، ڈاکٹر حامد اچکزئی سمےت دےگر بھی موجود تھے ،سےمےنار مےں قائد اعظم محمد علی، علامہ اقبال ،باچاخان،خان شہےد، مےر غوث بخش بزنجو، سردار عطاءاللہ مےنگل، اور بے نظر بھٹو شہےد بےسٹ اچےومنٹ گولڈ مےڈل اور نےشنل اےوارڈ ز مختلف شعبوں مےں نماےاں خدمات سرانجام دےنے والوں مےں تقسےم کےے،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چےئرمےن محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہماری بھوک ، اپلاس اور مجبوریاں اللہ کی طرف سے نہےں ہے بلکہ یہ انسانوں کی طرف سے ہے کوئی برا نہ مانے اس میں ہم بھی شریک ہیں آج بھی اس جدید دور میں بھی تین جوڑے کپڑے پشتون و بلوچ کے ساتھ نہےں ہیں جذبات کی روح میں اپنا حق حاصل کرنے کےلئے طاقت کی استعمال کی بجائے سوچ سمجھ اور مل بیٹھ کر حاصل کرنا چاہئے دنیامیں زندگی گزارنے کی پہلی اینٹ انصاف ہے جہاں انصاف نہیں ہوگا وہاں زندگی نہیں چلے گی یہاں بہادر لوگ ہے جو بے انصافی کی طرح زندگی جینا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے خیرات نہیں چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو وسائل دئیے ہیں اس پر پہلا حق اس زمین پر بسنے والوں کا ہے اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میں نے اس قوم کیلئے نبی اور زبان اس قوم کی زبان میں بھیجا ہے میںپشتون، بلوچ ،سندھی اور پاکستان کے تمام جمہوری قوتوں کا ذمہ دار ہوں کہ ہم پاکستان کو نہیں توڑنا چاہتے لیکن ہم غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہے بنگلہ دیش اور مغربی پاکستان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہوا کہ بنگال 56 فیصد اور مغربی پاکستان 46 فیصد تھے اس پر بات بگڑ گئی اور 24 سال بعد ملک کے دو ٹکڑے ہوئے پاکستان میں جنرل، جج سمیت تمام اداروں کا اپنا فریم ہے اس میں سب کو کام کرنا چاہئے پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے پارلیمنٹرین ہی ملک کی داخلہ و خارجی پالیسی بنائی گے جب آئین کو توڑا جاتا ہے تو تمام جمہوری قوتوں کو اس کا راستہ روکنا چاہئے اگر ہم اپنے حلف کا خیال نہیں رکھیں گے تو ملک بربادی کی طرف جائے گا انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے نہیں لڑنا چاہتے بلکہ ملک کے دفاع کیلئے لڑیں گے سوئی سے نکلی گیس پنجاب اور اسلام آباد کے پہاڑوں تک پہنچا لیکن ڈیرہ بگٹی آج بھی اس گیس سے محروم ہوئے یہ بے انصافی ہے اس طرح ہم آپ کو ریکوڈک، سیندک، سنگ مرمر سمےت دےگر وسائل پر کسی صورت نہیں چھوڑینگے انہوں نے کہاکہ انتخابات جب بھی ان کی مرضی کرائےں لیکن صاف و شفاف ہونے چاہئے لندن میں 26 پارٹیوں کا اجلاس ہوا اور نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے اے پی ڈی ایم بنی ہم ایسے حکومتوں میں ہم شامل ہوئے جس میں ہمیں نہیں شامل ہونا چاہئے تھا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہےںہمارے ملک کے دو مسائل ہے ایک قومی اور دوسرا غربت ہے انہوں نے کہاکہ 75 سال میں ہمیں جو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کیا بلوچ بھائیوں کو ریکویسٹ کرتا ہوں وطن کے وسائل پر دفاع اکیلے آپ کیلئے مشکل ہے اگر ہم بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کی برابری تسلیم کیا جائے تو خطہ ترقی کی جانب گامزن ہوگاہمارے وسائل کھربوں کی ہے لیکن ہم ایک وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہےںافغانستان کے حوالے سے پاکستان کا موجودہ رویہ خطے کیلئے تباہ کن ہے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھائی چارے کی فضا کو قائم کرنے میں ہماری امن ترقی اور خوشحالی آئے گی اگرپشتون بلوچ خطرناک جرم کررہے ہیں تو پھر سزا دی جائے لےکن حق با ت بولنے پر ان کے ساتھ ظلم و زےادتی کسی صورت برداشت نہےں کرےں گے انہوں نے کہاکہ انگریزوں نے ہم کو تقسیم کیا تھا انگریز وںسے ہمارا جھگڑا یہ تھا کی اس وطن پر ہم آزادی چاہتے ہیں بلوچستان میں حکمرانی یہاں پررہنے والوں کا حق ہے ہم اپنے وسائل کسی اور کو چھننے کی اجازت ہرگز نہیں دینگے حلف کی خلاف ورزی کرنے والوں ججز کو نوکریوں سے نکالا جائے اور حلف کی پاسداری کرنے والوں کو ان کے بچوں کیلئے گزارے کا بندوبست کیا جائے انہوں نے کہاکہ شہدا ہمارے جمہوریت کے ہیروز ہے خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی، باچاخان، عطاءاللہ مےنگل، غوث بخش بزنجو ودےگر غدار نہےں بلکہ ہم اس ملک کے وفادار ہے ہم نے انگریزوں ، غیر جمہوری قوتوں کے خلاف جدوجہد کیا ہے اگر یہ ہماری گناہ ہے تو ہمیں یہ غداری قبول ہے انہوں نے کہاکہ اس ملک کی زمین ہمیں عزیز ہے یہ واحد ملک ہے جس میں اپنے بچوں کو کرپٹ کیا جاتا ہے پھر وہ کیا خاک فیصلہ کرے گا ہماری ایجنسیاں طاقتورہےں وہ وزیر اعظم کو بتا دے کہ چین یا دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات یہ ہے پھر یہ ملک چلے گا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.