عوام کے مسائل کا حل اور باوقار مستقبل ہماری سیاست کا محور ہے۔ڈاکٹر ناشناس لہڑی
عوام کے مسائل کا حل اور باوقار مستقبل ہماری سیاست کا محور ہے۔ڈاکٹر ناشناس لہڑی
تحریر،قیوم بلوچ
راجی راہشون واجہ میر اسداللہ بلوچ کے وژن پر عمل پیرا ھوکر عوام کی آسودگی کیلئے جدوجھد کررہے ہیں۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی
معروف سیاستدان ،سماجی و معتبر قبائلی شخصیت ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ” ڈاکٹر ناشناس لہڑی ” بلوچستان کی سیاست میں ایک ایسے معتبر اور باوقار نام کے طور پر ابھرے ہیں جو محض عہدوں یا نعروں کا محتاج نہیں بلکہ اپنی مسلسل جدوجہد، فکری پختگی اور عملی خدمات کے باعث عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہے۔ وہ بلوچستان کی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ایک عام کارکن کے طور پر سیاسی سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، استقامت اور خلوص کے ذریعے خود کو ایک قدآور لیڈر کے طور پر منوایا۔ اگر یہ کہا جائے۔کہ وہ ڈاکٹر عبدالحئ بلوچ کی طرح بلوچستان کی سیاست میں ایک متوسط طبقے سے ابھر کر سامنے آنے والے لیڈر ہیں۔ تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ھوگا۔ کیونکہ دونوں شخصیات نے متوسط طبقے سے اٹھ کر سیاست کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا، نہ کہ ذاتی مفادات کا۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی کا تعلق ایک متوسط طبقے سے ہے، جہاں وسائل محدود مگر خواب بلند ہوتے ہیں۔ قبائلی ماحول میں آنکھ کھولنے کے باوجود انہوں نے روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا۔ قبائلی اقدار کی پاسداری ان کی شخصیت کا حصہ ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے ایم فل اسکالر، وکالت، جرنلزم ، اور ھومیو پیتھک کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔
جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علم کو طاقت سمجھتے ہیں۔ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں تعلیم تک رسائی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے، وہاں ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی تعلیمی شناخت نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
ان کی سیاسی تربیت میں بلوچستان کے معروف،ہردلعزیز اور مدبر رہنما راجی راہشون واجہ میر اسداللہ بلوچ کی شخصیت ایک آئیڈیل کے طور پر نمایاں رہی ہے۔ واجہ میر اسداللہ بلوچ کی اصول پسندی، عوام دوستی اور سیاسی وقار نے ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی سوچ اور طرزِ سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی سیاست میں جارحانہ پن کے بجائے استدلال، اشتعال کے بجائے تدبر اور مفاد پرستی کے بجائے خدمت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ اختلاف رائے کو دشمنی نہیں سمجھتے بلکہ اسے جمہوری حسن قرار دیتے ہیں، جو ایک سنجیدہ سیاسی کارکن کی پہچان ہے۔ اس وقت ڈاکٹر ناشناس لہڑی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کے اہم اور ذمہ دارانہ عہدے پر فائز ہیں۔ یہ عہدہ محض ایک تنظیمی منصب نہیں بلکہ پارٹی کی آواز، موقف اور بیانیے کی ترجمانی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے اس ذمہ داری کو نہایت سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ نبھایا ہے۔ ان کی کاوشوں کے باعث بی این پی عوامی کا مؤقف نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے طول و عرض اور ملک کے دیگر حصوں تک مؤثر انداز میں پہنچا۔ انہوں نے پارٹی کے نظریات کو جدید ذرائع ابلاغ اور صحافتی اسلوب کے ذریعے عوام تک منتقل کیا، جس سے پارٹی کی شناخت مضبوط ہوئی۔ ریاست کے چوتھے اور سب سے اہم ستون صحافت سے ڈاکٹر ناشناس لہڑی کا تعلق محض رسمی نہیں بلکہ گہرا، دیرینہ اور عملی ہے۔ وہ متعدد ڈیلی اخبارات اور میگزینز کے چیف ایڈیٹر اور پبلشر رہ چکے ہیں، جبکہ ناشناس گروپ آف پبلشرز کے چیف پیٹرن کی حیثیت سے انہوں نے بلوچستان میں صحافت کے فروغ اور آزادی اظہار کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب علاقائی صحافت شدید دباؤ، معاشی مشکلات اور محدود وسائل کا شکار رہی، ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے قلم اور کاغذ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی، انہیں پلیٹ فارم فراہم کیا اور صحافت کو محض خبر رسانی نہیں بلکہ سماجی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنایا۔ سیاسی میدان میں ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان کا عوام دوست اور غریب پرور مزاج ہے۔ وہ سیاست کو اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ گلی کوچوں، دیہات، بازاروں اور محروم بستیوں تک لے جاتے ہیں۔ وہ عام آدمی کے دکھ درد کو سنتے ہیں، اس کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور حتی المقدور ان کے حل کے لیے عملی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ملنساری، خوش گفتاری اور نرم لہجہ انہیں عوام میں مقبول بناتا ہے، جبکہ ان کی اصول پسندی انہیں ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد رہنما کے طور پر پہچان دلاتی ہے۔
پارٹی کارکنوں کے لیے ڈاکٹر ناشناس لہڑی واقعی شجرِ سایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ کارکنوں کو محض جلسوں اور نعروں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان کی سیاسی، سماجی اور ذاتی تربیت کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ کارکنوں کے مسائل ہوں یا مشکلات، ڈاکٹر ناشناس لہڑی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی این پی عوامی کے کارکن ان سے محض ایک رہنما نہیں بلکہ ایک سرپرست، ایک رہبر اور ایک دوست کا رشتہ محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی قیادت میں بی این پی عوامی نے کوئٹہ میں نہ صرف مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوا بلکہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی اپنی موجودگی منوائی۔ یہ حقیقت اب تسلیم شدہ ہے کہ بی این پی عوامی کیلئے ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی انتھک محنت اور منظم حکمت عملی قابل قدر ہے۔ انہوں نے پارٹی کے مرکزی صدر راجی راہشون واجہ میر اسداللہ بلوچ کے وژن اور پارٹی منشور کے مطابق پارٹی کو صرف ایک علاقائی جماعت کے طور پر نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوت کے طور پر پیش کیا، جو بلوچستان کے حقوق، وسائل اور شناخت کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔
سیاست کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت کے میدان میں بھی ڈاکٹر ناشناس لہڑی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ مفت خون کی فراہمی کے سب سے بڑے فلاحی ادارے بلوچستان بلڈ بینک کے قیام میں ان کا بنیادی کردار ایک زندہ حقیقت ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں صحت کے مسائل سنگین ہیں اور بروقت خون کی دستیابی اکثر زندگی اور موت کا فرق بن جاتی ہے، وہاں بلوچستان بلڈ بینک کا قیام ہزاروں زندگیاں بچانے کا ذریعہ بنا۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی نے اس ادارے کو محض ایک فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا مشن بنایا، جس میں بلاامتیاز رنگ، نسل، قوم اور جماعت ہر ضرورت مند کی مدد کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ناشناس لہڑی کی زندگی اور جدوجہد اس بات کی عکاس ہے کہ اگر نیت صاف، مقصد واضح اور عزم مضبوط ہو تو ایک عام کارکن بھی ایک بڑا لیڈر بن سکتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست اگر خدمت، شعور اور اصولوں کے ساتھ کی جائے تو وہ نہ صرف عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے بلکہ خود سیاستدان کو بھی ایک باوقار مقام عطا کرتی ہے۔ آج ڈاکٹر ناشناس لہڑی بلوچستان کی سیاست میں جہدِ مسلسل کی علامت، متوسط طبقے کی امید اور عوامی سیاست کی روشن مثال بن چکے ہیں، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کا سفر ابھی جاری ہے اور آنے والے دنوں میں ان کا کردار مزید نمایاں ہوگا۔ ہم نے ڈاکٹر ناشناس لہڑی سے خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا۔جس کے دوران انھوں نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک جدوجہد اور مظلوم اقوام کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی نے اپنے قیام کے دن سے لے کر آج تک بلوچ قوم سمیت پاکستان کی تمام محکوم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے مستقل اور بے لوث جدوجہد کی ہے، پارٹی نے کبھی وقتی مفادات، اقتدار کی لالچ یا ذاتی فائدے کو اپنے مقصد پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست کا محور عوام ہیں، ان کے مسائل ہیں اور ان کا باوقار مستقبل ہے، اسی لیے بی این پی عوامی کی سیاست جمہوری جدوجھد اور مفاہمت دونوں کا حسین امتزاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کو حکومت میں شامل ہونے کا موقع ملا، پارٹی نے نعروں کے بجائے عملی کارکردگی کو ترجیح دی۔ ریکارڈ ترقیاتی منصوبے، سڑکوں کی تعمیر، تعلیمی اداروں کا قیام، صحت کے شعبے میں بہتری اور پسماندہ علاقوں تک بنیادی سہولیات کی فراہمی بی این پی عوامی کے ادوا…