فرض شناس لوگ
فرض شناس لوگ
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے ۔۔
منشا قاضی
حسبِ منشا
سایہ دار درختوں کو پانی دینے والوں کو آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو یقین آیا کہ پاکستان میں عادل اور منصف لوگوں کا وجود موجود ہے بڑے عرصے سے میرے مربی محسن احمد سلمان ربانی وزیر اطلاعات و نشریات جناب عطاء اللہ تارڑ کی والدہ محترمہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے چلے آ رہے تھے ۔ کہ ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں کیونکہ موصوفہ کے بارے میں خلق خدا کی رائے بڑی معتبر تھی کہ وہ قول کی بندی نہیں وہ عمل کی دیوی ہے اور وہ سایہ دار درختوں کو پانی دیتی ہے کانٹوں کی آبیاری کرنے والوں کے خلاف ہے راقم نے موصوفہ کو فون کر کے وقت لے لیا تو ہم گزشتہ روز ان کے دفتر ٹاؤن شپ چاندنی چوک پہنچ گئے وہاں پہنچ کر کیا دیکھا اور کیا نہ دیکھا حیرت اور تجسس کے سارے مراحل طے ہوتے چلے گئے محترمہ ساجدہ فاروق تارڑ کی دورس نگاہ کا اعجاز بھی دیکھا اور ان کی چارہ سازی کی سریع الحرکت کارکردگی بھی دیکھی مجھے ان کی کامرانیوں اور کامیابیوں کے عقب میں وزیر اطلاعات و نشریات کے پی ایس او کی کارکردگی کا حسن بھی ماحول میں چاندنی بکھیرتا ہوا محسوس ہوا ہمارے برقی ذرائع ابلاغ کے جرنیل علی وڑیچ اور اخبار کے مدیر اعلیٰ جناب احمد سلمان ربانی اور لیڈر کے محمد منشا راستے میں تھے اس عرصے میں مقامی سکول کے بچے اپنی مہمان خاص محترمہ ساجدہ فاروق تارڑ کو اپنے سکول کے آنگن سے لے کر آسماں کی نیلگوں وسعتوں تک راہ تک رہے تھے محترمہ تھوڑی دیر کے لیئے سکول تک گئیں اور وہاں بچوں سے مل کر واپس تشریف لے آئیں ۔ ہماری موجودگی میں محترمہ ساجدہ فاروق تارڑ نے دو تین کام عملی طور پر کیئے اور اسی عرصے میں ایک برقع پوش ماں اپنے باز یافتہ فرزند کے ساتھ پھولوں کے بکے اور مٹھائی کے ڈبے لے کر آئی ۔ اس کی شادمانی اور مسرت افروز جذبات کی فراوانی کا ہم لفظوں میں اندازہ نہیں لگا سکتے صرف محسوس کر سکتے ہیں کراچی سے بچے کو بازیاب کروانے میں محترمہ ساجدہ فاروق تارڑ کی کاوش کو وہ خود اللہ کی نوازش قرار دیتی ہے۔ کشمیری رہنما رئیس احمد خان کی زبانی بارہا سن رکھا تھا کہ ساجدہ فاروق تارڑ کرنے کا درخت ہے کہنے کا نہیں کرنے کے درخت میں خوشبو ہوتی ہے کہنے کے درخت میں نہیں ۔ ساجدہ فاروق پر پروین شاکر کا یہ شعر صادق آتا ہے
فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبو
ابھی ہواؤں سے تو میں نے کچھ کہا ہی نہیں
رئیس خان سے سنی ہوئی باتیں سچ ثابت ہوئیں اور دیکھ کر مزید یقین آیا ۔ سننے سے بات نہیں بنتی یقین ہمیشہ صدیق پیدا کرتا ہے اور بدگمانی اور بے یقینیاں ابوجہل پیدا کرتیں ہیں ۔ ہم بے پناہ ممنون احسان ہیں اپنے دوست رئیس احمد خان کے جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر تشریف لائے اور اس سلسلے میں موصوفہ کے بارے میں انہوں نے ہمیں بے پناہ معلومات فراہم کیں اور خاص طور پر پی ایس او رانا وقاص ڈاکٹر سعود اور رانا شہباز کی کارکردگی واقعی قابل ذکر ہے اور آج وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات کی کامیابی کا راز بھی طشت از بام ہو گیا ان کی کامیابی کے عقب میں ان کی والدہ ماجدہ کی نیم شبی دعائیں اور ان کی دکھی انسانیت کی خدمات کی پاداش میں ملنے والی دعائیں کار فرما ہیں ۔ کردار والدہ کے دودھ سے اور غیرت والد کے خون سے ملتی ہے مولانا محمد علی جوہر اپنی والدہ کے بارے میں کہتے تھے کہ میری ماں دنیا کی حسین ترین ماں ہے نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ حسرتوں کے ہجوم میں اور خوشیوں کے تلاطم میں اپنی ماں کی عظمت کو دیکھو ۔ مختار مسعود نے آوازِ دوست میں ایک سعادت مند بیٹے کا ذکر کیا ہے وہ بیٹا کون تھا اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ایوبی دور میں لاہور آیا ہوا تھا مختار مسعود نے اس کا آٹوگراف نہیں لیا تھا کیونکہ اسے اس کی شخصیت شاید نہ جچی ہو لیکن تین مہینے کے بعد جب نیویارک ٹائم میں ایک تصویر ان کی نظر سے گزری کہ ایک بوڑھی خاتون گھر کے لان میں اونچی کرسی پر بیٹھی ہوئی ہے اور نیچے ایک آدمی اسے جھک کر آداب بجا لا رہا ہے تصویر کے نیچے کیپشن لکھا ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کا جنرل سیکرٹری اپنی ماں کو آداب بجا لا رہا ہے۔ مختار مسعود نے سر پکڑ لیا اور اظہار تاسف میں اس نے کہا ۔ مجھ سے غلطی ہوئی تھی مجھے اس کا آٹوگراف لینا چاہیے تھا ۔ جو گراں مایہ جملہ مصنف نے لکھا ہے وہ دل ہلا دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ لاہور میں آئے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کا تو میں نے آٹوگراف نہیں لیا تھا لیکن میں ایک سعادت مند بیٹے کا آٹو گراف لینے کے لیئے نیویارک ضرور جاؤں گا اور آج ہم بھی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ءاللہ تارڑ سے ملنا چاہتے تھے اب ہم وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سے لاہور میں نہیں ملنا چاہتے ہم اسلام آباد میں ایک سعادت مند بیٹے کو ملنے کے لیئے جائیں گے اس سلسلے میں ان کی والدہ محترمہ ساجدہ فاروق تارڑ وقت لے دیں گی ۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا حلقہ پورا ایک ادارہ بن چکا ہے اور یہ ادارہ اینٹوں سے نہیں اور نہ ہی عمارات کا مجموعہ ہے یہ احساس ۔ اخلاص اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑا ہے جسے دنیا کی کوئی قوت مسمار نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے عقب میں ایک عظیم والدہ کی نیم شبی دعاؤں کا حصار موجود ہے۔ اور رانا وقاص ۔ شہباز طالب اور ڈاکٹر سعود ملاقات ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان سے مل کر زندگی سے پیار ہو جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے۔
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں لیکن ایسے بھی ہیں