ارواح شاد عبدالرزاق خان دوتانی کی 38ویں برسی منائی گئی
تحریر: عارفہ صدیق ایڈوکیٹ
ارواح شاد عبدالرزاق خان دوتانی ان سیاستدانوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت کی بدولت مختلف اوقات میں قوم کی راہنمائی کا فریضہ انتہائی مشکل حالات میں سرانجام دیا،جس وقت انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اس وقت بدترین ایوبی آمریت مسلط تھی اور لوگ خوف کی وجہ سے جمہوریت کا نام لینے سے کانپ جاتے تھے اور ساتھ ہی ملک میں منقسم پشتون افغان کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے اسی دوران 1964 میں خان شہید تقسیم ہند اور پاکستانی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد مسلسل چھ برس جیل کاٹنے کے بعد رہا ہوئے تھے اور پاکستانی ریاست میں منقسیم پشتونوں کو متحد کرنے اور ایک اکائی میں لانے اور اپنے وسائل پر اختیار دلانے کے جدوجہد کا آغاز کیا، عبدالرزاق خان دوتانی جو ابھی طالب علم تھے ان کی سوچ خان شہید کے سوچ سے ہم آہنگ تھی اور انہوں نے سیاست میں پشتون افغان کو متحد کرنے اور وسائل پر اختیار دلانے کا راستہ چن لیا اور خان شہید کے قیادت میں جدوجہد کا آغاز کر دیا ارواح شاد عبدالرزاق خان دوتانی میں سیاست بصیرت، دوراندیشی اور ہر طرح کے حالات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت کھوٹ کھوٹ کر بری تھی، 1970ءمیں ون یونٹ کے خاتمے پر جب ریاست میں منقسیم پشتونوں کے مسائل حل ہونے کی بجائے اور زیادہ گھمبیر ہوئے، تو اس وقت عبدالرزاق خان دوتانی نے خان شہید کے ساتھ ہر گاو¿ں اور ہر محلے میں پہنچ کر پشتونوں کے پرانے حالات کے ساتھ ساتھ درپیش نئی مشکلات کی آگاہی دی، خان شہید عبدالرزاق خان دوتانی کی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ تھے اس لئے ان پر کم عمر ہونے کے باوجود اعتماد کرتے تھے، 2 دسمبر 1972ءمیں خان شہید کی شہادت کے بعد عبدالرزاق خان دوتانی کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی اور پارٹی کے دفاع اور قوم کو متحد کرنے کے لئے دن رات ایک کئے رکھا عبدالرزاق خان دوتانی جیسے قائدین کی خداداد صلاحیتوں کے باعث ہی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے سیاسی میدان میں خصوصیت سے تنظیمی لحاظ سے ایک اعلٰی مقام حاصل کیا، محترم استاد ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل نے تنظیم سازی اور یونٹ سازی کا جو تصور دیا عبدالرزاق خان دوتانی نے اسے عملی شکل میں پرو دیا عبدالرزاق خان دوتانی نے پارٹی منظم کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے جوان بازو پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو منظم کرنے کا بیڑا بھی اٹھایا، ابھی پارٹی اور پی ایس او کو منظم کرنے کی کوشش جاری تھیں کہ ملک میں ایک بار پھر جنرل ضیاءوالحق نے مارشلاءلگا دیا،اور ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگ گئی، لیکن پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ان حالات میں بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں جو زیادہ تر انڈر گراو¿نڈ اور طلباءتنظیم پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم کے استعمال کے ذریعے ہو رہی تھیں اور عبد الرزاق خان دوتانی سیاست کے لئے طلباءکے پلیٹ فارم کے استعمال کے خاصے ماہر تھے چونکہ وہ طالب علم کی حیثیت سے سیاست میں کافی فعال رہے تھے دوسری طرف شروع میں پاکستان قومی اتحاد میں شامل پارٹیوں نے مارشلاءکی مخالف نہیں کی بلکہ بعض پارٹیاں مارشلاءحکومت میں حصہ دار بن گئی اسی دوران مارشلائی حکومت میں ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ جنرل ضیاءالحق کے ارادے نیک نہیں ھے ایک طرف پیپلز پارٹی زیر عتاب تھی، دوسری طرف سیاسی پارٹیوں سے دوری تھی،لیکن آخر کار سیاسی پارٹیوں کو مارشلاءاور آمریت سے گلو خلاصی کےلئے تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہوئے اور جمہوریت کی بحالی کےلئے تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کے نام سے تحریک شروع ہوگئی پہلے پہل پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی ایم آر ڈی میں شامل نہیں تھی لیکن اتحادی تھی، 7 اکتوبر 1983 میں ملک میں ایم آر ڈی کی ملک میں جاری تحریک کی حمایت میں کوئٹہ میں پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور ایم آر ڈی نے مشترکہ طور پر جامع مسجد سے نماز جمعہ کے بعد ایک جلوس نکالا جس پر پولیس نے فائرنگ کی اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چار کارکن شہید دسیوں زخمی درجنوں گرفتار ہوئے، پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور جنرل سیکرٹری عبدلرزاق خان دوتانی کو روپوش ہونا پڑا، کچھ عرصہ عبد الرزاق دوتانی منظر عام پر آگئے اور پارٹی کے سینئر نائب صدر عبد الرحیم مندوخیل پارٹی کے صدر کی غیر موجودگی میں قائم مقام صدر کی ذمے داریاں سنبھال چکے تھے اور پارٹی نے جمہوری تحریک کے ساتھ پشتونخوا وطن کی پارٹیوں کو ایک واحد پشتون قومی پارٹی لانے کے کام کو جاری رکھا،اس سلسلے میں پشتونخوا مزدور کسان پارٹی، مزدور کسان پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی، اور دیگر پارٹیاں اور گروپس شامل تھے،لیکن صرف پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی پشتونخوا وطن کی واحد پارٹی بنانے پر متفق ہوسکے، اور شروع میں پشتونخوا ملی عوامی اتحاد بنایا تاکہ دونوں پارٹیوں کے کارکن آیک دوسرے کے قریب اسکے، لیکن دونوں پارٹیوں کے طلباءونگ پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور سرحد سٹوڈنٹس فیڈریشن کا انضمام کرکے پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا بنیاد رکھا گیا، اس دوران پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے ایک بڑے ڈیلیگیشن نے جنوبی پشتونخوا کا نہایت کامیاب دورہ کیا، عبد الرزاق خان دوتانی زمانہ طالب علمی سے نڈر بیباک محکوم پشتونخوا وطن کو متحد کرنے اور آزاد افغانستان کے استقلال اور ترقی کے خواہاں تھے اسی لئے وہ پشتون سیاسی پارٹیوں کے انضمام کے حامی رہے ، پشتونخوا ملی عوامی اتحاد کو جلد پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شکل میں دیکھنے کے آرزومند تھے، ارواح شاد عبدالرزاق خان دوتانی نے اپنی محنت اور اور ویڑن سے خود کو پشتون افغان قومی سیاسی تحریک کے ایک عظیم مدبر اور نظریاتی رہنما ثابت کیا، جنہوں نے 1970ءاور 1980ءکی دہائی میں پشتون قومی تحریک کو متحد، منظم اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ قومی سیاست کے اس نازک دور میں مختلف نظریاتی اور عوامی قوتوں کو یکجا کرنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ تھا، تاہم ارواشاد عبدالرزاق دوتانی نے اپنی سیاسی بصیرت، فکری گہرائی اور مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ اس وقت کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور پشتونخوا مزدور کسان پارٹی کے اتحاد، نیز بعد ازاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی اتحاد کے قیام جیسے اہم سیاسی سنگِ میل ان ہی کی تاریخی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ 9 جنوری 1988ءکو اس اہم قومی رہنما کا انتقال پشتون افغان ملت اور مجموعی طور پر قومی جمہوری تحریک کےلیے ایک ناقابلِ تلافی قومی سانحہ تھا۔ مرحوم رہنما نے قومی تحریک کی علمبردار جماعتوں کو قومی اور وطنی بنیادوں پر متحد کرنے کی مضبوط فکری و عملی بنیاد رکھی۔ وہ اس نظریے کے علمبردار تھے کہ پشتونخوا ایک محکوم وطن ہے، جس کی ملی وحدت، قومی خودمختاری اور ایک متحد قومی صوبہ پشتونخوا کا قیام ناگزیر ہے۔ اسی طرح وہ آزاد افغانستان کی ملی استقلال، آزادی اور سالمیت کے دفاع کو بھی خطے کے امن اور قوموں کی بقا کے لیے لازم سمجھتے تھے۔ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ پشتونخوا وطن میں نظریاتی، سائنسی اور علمی بنیادوں پر ایک
ایسی نمائندہ قومی سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا جائے، جسے وطن دوست عوام اور ہر مکتبِ فکر کے نمائندوں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہو۔ افسوس کہ وہ جوانی ہی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، تاہم ان کی فکری وراثت آج بھی قومی سیاست کےلئے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے قائم کردہ پشتونخوا میپ اور ان کے افکار کے تسلسل میں پشتون رہبر کمیٹی اور پشتونخوا نیشنل الائنس کا قیام اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا کہ پشتونخوا وطن کی تمام قومی و جمہوری جماعتوں کو قومی اہداف کے حصول کے لیے یا تو ایک منظم قومی جماعت یا ایک متحد قومی محاذ میں یکجا کیا جائے۔ اسی جدوجہد کے تسلسل میں محکوم پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی قوموں کا مشترکہ محاذ پونم قائم کیا گیا، جس نے پاکستان میں رضاکارانہ فیڈریشن کے قیام، قوموں کی برابری، اپنے وسائل پر قومی حق و ملکیت اور حقیقی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے لیے ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ لیکن دوسری طرف یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ پشتونخوا میپ کے سابق چیئرمین کے افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی کردار کے باعث یہ تاریخی جماعت تقسیم کا شکار ہو گئی۔ تاہم پشتون افغان ملت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پشتونخوا
نیشنل عوامی پارٹی نے قومی تحریک کی جدوجہد کو ہر مرحلے پر بھرپور استقامت کے ساتھ جاری رکھا۔ پارٹی نے قومی تحریک کے تمام اکابرین، خصوصاً خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، باچا خان، کاکاجی صنوبر حسین مومند، عبدالرحیم مندوخیل، شیرعلی باچا، سائیں کمال خان شیرانی، عبدالرزاق خان دوتانی جیسے رہنماو¿ں اور عظیم قومی شہید عثمان خان کاکڑ سمیت دیگر ملی شہداءکے متعین کردہ قومی اہداف کے حصول کی جدوجہد کو عزم، جرآت، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ہم بھروسے کرتے ہیں کہ جس طرح پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں اکابرین کی نظریاتی پارٹی کو مکمل تباہی سے بچانے میں کامیاب رہے،اسی طرح ارواشاد عبدالرزاق خان دوتانی اور دیگر عظیم قومی رہنماو¿ں کے ملی ارمانوں کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے قومی آزادی، خودمختاری اور جمہوری حقوق کی جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائیگی