وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دیدیا

0 85

حکومت نے قومی سلامتی اور کسی بھی جرم کے خدشے کے تناظر میں آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دیدی.۔ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق آئی ایس آئی کو فون ریکارڈ کرنے کی اجازت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی دفعہ 54 کے تحت دی گئی .۔ آئی ایس آئی کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی ریکارڈنگ کر سکیگی۔نوٹیفکیشن کے ذریعے کال ریکارڈنگ کے ساتھ میسجز اور کال ٹریس کرنے کا اختیار بھی دیدیا گیا۔ وزیراعظم کی منظوری سے آئی ایس آئی کے گریڈ اٹھارہ یا اس سے اوپر کے افسران کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق،واٹس ایپ کال، میسجز ، موبائل کال، ودیگراپلی کیشنزکی ریکارڈنگ کی جاسکیگی۔واضح رہے کہ تیس(30) جون کو اسلام آبادہائیکورٹ کےجسٹس بابرستار نےسابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بشریٰ بی بی آڈیو لیکس کیس کے فیصلے کے حکم نامے میں لکھا کہ قانون کےمطابق شہریوں کی کسی قسم کی سرویلنس غیرقانونی عمل ہے،سسٹم کےذریعےچالیس لاکھ شہریوں کی سرویلنس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پرہے،وزیراعظم اورکابینہ اس ماس سرویلنس کےاجتماعی اورانفرادی طورپرذمےدارہیں۔حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم بتائیں کہ لا فل انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم کی تنصیب اور ماس سرویلنس کا ذمہ دار کون ہے؟وزیراعظم بتائیں کہ سرویلنس سسٹم کا انچارج کون ہےجو شہریوں کی پرائیویسی کو متاثر کر رہا ہے،تمام ٹیلی کام کمپنیاں لا فل انٹرسیپشن مینیجمنٹ سسٹم سےمتعلق اپنی رپورٹس 5 جولائی تک جمع کرائیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.