پی ٹی آئی حکومت کی تین سالا بہتر کارکردگی

0 7

                   پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تن سال مکمل ہوچکے ہیں، عمران خآن اپنی بہترین ٹیم کے ساتھ ملک اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہے ہیں، سب سے پہلے ملک کی معیشیت اور ملک کی معیشیت کی ریڑہ کی ہڈی زراعت کی طرف خصصوصی توجہ دی، اس کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سمیت بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے مخدوم خاندان سے تعلق رکھنے والے اور ملتان کے نورچشم مخدوم شاہ محمود قریشی کی قیادت میں بیرونی ممالک سے تعلقات بہتر سے بہتر بنادیئے گئے ہیں۔ ملک  کی سیاسی و سماجی صورتحال پر اس کی کیبینٹ کے بازوں اسد عمر، فواد چودھری، شیخ رشید احمد اور دیگر نے دن رات ایک کرکے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ یہاں پی ٹی آئی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے۔

            عمران خآن نے اپنی تین سالا میعاد مدت کا دور قاتدار مکمل کرلیا ہے، اور آمدنی کے ذرائع میں بھی اضآفہ کردیا ہے۔ صارفین کی تعداد میں اضآفہ کردیا ہے اور اچھے معیاری معاشی طریقے استعمال کیے ہیں۔ معیشیت کی بہتری کیلئے مقدار اور تعداد میں اچھا خآصا اضآفہ کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے زمین، مزدوری، سرمائے کاری اور اچھی منصوبہ بندی اور صفبندی پر عملدرآمد کیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے بیرونی لبرل آبکاری کو ترقی دلانے کیلئے کاروبار میں اضافہ کردیا ہے، پی ٹی ائی حکومت کے اچھے اور ہاکاری اقدامات قابل ذکر و تئعریف ہیں۔ جو سال 2021-2020 ع کی پہلی سہ ماہی میں زرمبادلہ 5۔26 فی صد، بیرونی نئی سرمائے کاری 1۔9 فی صد، ٹعکس وصولی 5۔4 فی صد اور شروعاتی زرمبادلہ کی بیہک 258 بلین ہے۔ ہم جب بھی ایسی معاشی صورتحال کے متعلق پی ٹی آئی حکومت کی اقتصادی کارکردگی پر بحۓ و مباحۓہ کریں گے،تو  ملک کی معیشیت  ساحل و کنارے ل؛ چکی ہے۔ موجودہ حکومت معیشیت کو بحرانوں میں سے نکال کر باہر لائی ہے، اگلے قرضوں کا بے تہاشا بوجھ بھی جمع کرادیا ہے۔ ناہرین کی بہترین مشوروں سے معیشیت کو دلدل سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ حکومت ملک کی  معیشیت کو ترقی دلانے ار سیدھی طرح اپنے پائوں پر کھڑے کرنے کیلئے توازنی طریقے بھی استعمال کر رہی ہے۔ برسر روزگار کے طریقے پیدا کر رہی ہے، جبکہ بے روزگاری اور بے کاری میں کمی لا نے میں کامیاب رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کمی لانے کیلئے کوشاں ہے۔

             ملک کی بیرونی پالیسی بھی بہتر دیکھنے میں آرہی ہے، عمران خآن اپنے قریبی ساتھی اور کابینہ کے رلن مخدوم شاہ محمود قریشی کے ذریعے بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں دو اقدام آگے ہیں۔ نگی بنیادوں پر ان تعلقات میں بہتری لا رہے ہیں۔ نافذ کی گئے اقدامات کے ذریعے بیرونی اور پڑوسی ممالک میں سے ترقیاتی ترقیاتی اقدامات اور یقین کے ساتھ فلاح اور بہتری کی طرف گامزن ہیں۔بیرونی پالیسی قابل مۓآل اور مہارت سے قومی مقاؤد حآصل کر رہی ہے۔ آمریکا، برطانیہ، یورپی ممالک کے سمیت اسلامی پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ تمام بیرونی ممالک سے جمہوری، انسانی، گلوبل دلچّْسپی وغیرہ جن سے اہم معاملات میں حقیقی خواہ خیالی تعلقات میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اپنے پانچ سالا مدت میں سے تین سال مکمل کر چکی ہے۔وفاقی وزرائو خواہ ایڈوائیزرز اور مشیران نے بھی عمران خآن کا مکمل ساتھ دیا اور اس کی انتظامی خواہ خلاقی کارکردگی کو پریس کانفرنسز یا اجتماعات کے خطاب کے دوران بیان کیا۔ بیرونی پالیسی بھی اندرونی پالیسی کی عکاسی ہے۔ جو عمران خان کی سربراہی میں نہ صرف دیسی پردیدی بلکہ اقتصادی سطح پر بھی مضبوط ہے، آزاد ہو رہی ہے اور سیاسی طور پر مضبوط ہے۔

             حکومت کی سب سے بری کامیابی یہ ہے کہ اپوزیشن تین سال مسلسل باہمی دست و گریباں رہی ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کو دیوار گریہ سے لگا ئے رکھا۔ اپوزیشن کی سب سے بری ناکامی بھی یہ ہے کہ وہ آرام سے بلا چوں و چرا دیوار سے لگ گئی۔ اپوزیشن اپنی تمام ترکوششوں کے باوجود حکومت کیلئے کوئی بڑا خطرہ پیدا کرنے میں ناکامرہی، بلکہ اپوزیشن نے اپنی خؤدغرضیانہ حرکیات کی بنیاد پر حکومت کو مضبوط و مستحکم کرنے کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنی تمام تر انتظامی کمزوریوں کے باوجود اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی۔ حکومت نے حسوس کرلیا ہے کہ اب اسے اپوزیشن سے کسی اقسام کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بلکہ اپوزیشن کا باہمی اختلاف اس کو مضبوط کرنے کیلئے کافی و شافی ہے۔

            جہاں حکومت خؤاہ حکمرانوں سے خآمیاں اور خرابیاں نکالی جاتی ہیں وہاں اس حکومت خؤاہ حکمرانوں کی کامیابی و کامرانی کی طرف اٹھائ گئے اقدامات کا بھی تذکرہ و تبصرہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ میری نظر میں پاکستان تحریک انصاف نے ماضی کی کے برعکس تمام اچھی اچھی کامیابیاں حآصل کی ہیں، جن میں ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک  کے ساتھ لین دین  اور کارونہوار کا طریقہ صحیح  اور درست رکھ کر ملک کی معیشیت کو ترقی دلانا اور پاکستان کا نام گرئ لسٹ سے نکالنے کی کاوشین قابل فخر اور تعریف ہیں۔ اسی طرح نہ صرفپڑوسی ممالک بلکہ دنیا کے تمام اسلامی ممالک اور دیگر کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر پاکستان کا نام روشن رنا، ملکی کی معیشیت کو دلدل سے باہر نکال کر اس کو پائوں  پر کھڑا رکھنے کی کاوشین اور زراعت کو تباہی سے نکال کر ترقیکی طرف لانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ احصاس کفالت پروگرا، احساس تعلیم پروگرام، احساس پروگرام بحآلی نوجوانان سمیت کئی پروگرام سامنے لاکر بے روزگاری کے خآتمے کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ سی پیک منصوبے کو جاری رکھنا بھی بہتری کے عمل میں شامل قدم سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف اداروں میں سے سیاسی مداخلت کو ختم کرانا اور ان کو اپنے پائوں پر لاکر صاف اور شفاف بنانے سمیت میرٹ کا بل بالا کرنا اچھے اقدامات میں شامل ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.