یوم دفاع اور یوم ختم نبوت

0 9

میرےذہن میں یہ بات چل رہی تھی کہ یوم دفاع اور یوم ختم نبوت پر الگ الگ مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرواکر اپنی آخرت کیلئے توشہ بنادوں مگر سفر اور مصروفیات کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا اور اس حوالے سے چند اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان نے بھی درخواست کی تھی کہ آپ ان موضوعات پر لکھ کر بھیج دیں تاکہ ہم بروقت شائع کرسکے ان سے بھی معذرت خواہ ہوں۔ پیارے احباب آپ کو علم ہوگا آج 7ستمبر ہے میرے محبوب قائد مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک ختم نبوت کیا کا میابی کا دن ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور وطن عزیز پاکستان کے دشمنوں کو شکست ہوئی جبکہ گزشتہ کل یعنی 6 ستمبر کو یومِ دفاع نے ہمیں اُن شہدا کی یاد دلائی جو دشمن کے بزدلانہ حملے کو شجاعت اور جوانمردی سے ناکام بناتے ہوئے اپنی جانیں اس مادر وطن پر نثار کر گئے۔
یہ اُن شہداء کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں جنہوں نے 1965ء اور دیگر جنگوں میں آزادی کے چراغ کو روشن رکھنے کیلئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، جیساکہ آپ سب کو
معلوم ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کی شب بھارتی فوج جنگ کا اعلان کیے بغیر بین الاقوامی بارڈر لائن پار کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئی۔ بھارتی جرنیلوں کا منصوبہ تھا کہ 6 ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی ٹینک اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری کو سلامی دیں گے اور شام کو لاہور جمخانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران بیرونی دنیا کو خبردیں گے کہ اسلام کا قلعہ سمجھی جانے والی ریاست پر کفار کا قبضہ ہو چکا ہے لیکن بھارت کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملانے کیلئے جان ہتھیلی پر رکھ کر ان کا مقابلہ کرکے پسپا کردیا جس پر افواج پاکستان کے ان عظیم غازیوں اور شہیدوں کو سلام عقیدت پیش کرتاہوں اسی طرح دوسرا موضوع یہ ہے
کہ7ستمبر ایک تاریخ ساز دن ہے۔ ہم اسے یوم تحفظ ختم نبوت اور یومِ تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی سو سالہ طویل ترین جد وجہد ، فتح مبین سے ہمکنار ہوئی۔ 7؍ ستمبر 1974کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔
عقیدۂ ختم نبوت، مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور روح ہے۔ اگر اس پر حرف آجائے تو اسلام کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ اقدس پر تاجِ ختمِ نبوّت سجایا اور تختِ ختم نبوّت پر بٹھا کر دنیا میں مبعوث فرمایا۔ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بنی نوعِ انسان کو عقیدۂ توحید کی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ ختم نبوّت پر ایمان، نجات و مغفرت اور حصولِ جنت کا ذریعہ ہے۔
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری زمانے میں بعض جھوٹے مدعیان نبوت نے سراٹھایا اور کفر وارتداد پھیلانے کی مذموم کوشش کی مگر نبی ختمی مرتبت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ہی کے حکم پر ان فتنوں کے خلاف جہاد کر کے انہیں کچل کر رکھ دیا۔ ایک طرف ہم ملک کے دفاع کرنے والے ان فوجی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے دشمن کو وہ عبرتناک شکست دی جس کے زخم آج بھی ان کو کھایا جارہا ہے افغانستان میں اربوں خرچ کرکے بھی خالی ہاتھ نکل گیا حالانکہ گزشتہ بیس سالوں میں انڈیا نے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن الحمد للّٰہ ہمارے بزرگوں کی دعاؤں اور ملک کے محافظوں کی قربانیوں کی بدولت وہ زلیل وخوار ہوئے ۔ دوسری جانب مغرب میں بیٹھ کو عقیدہ ختم نبوت اور پاکستان کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے والی قادیانی لابی کو بھی مسلسل شکست ہورہی ہے لندن میں بیٹھ کر قادیانی نیٹ ورک چلانے والے اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان میں جب تک مولوی ہے ہم کامیاب نہیں ہوں گے اگر چہ موجودہ نااہل حکومت ان کی حمایت میں لگی ہے مگر کل روالپنڈی میں ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان شرکت نے ان کی نیندیں حرام کرکے رکھ دیں۔

یوم دفاع اور یوم ختم نبوت پر اہل وطن کو بہت بہت مبارک

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.