زوالِ مسلم اور اس کے اسباب!
تحریر: غلام اللہ شاہوانی
آج کے اس ترقی یافتہ اور برقی دور میں امت مسلمہ جن مشکلات کا سامنا کررہی ہے شاید اس سے قبل کبھی ایسی صورت حال پیش آئی ہو ۔ امت مسلمہ چاہے دنیا کے کسی بھی گوشے میں آباد ہو کفار کی یلغار اور مکر و دغا سے دو چار ہے۔ دن بہ دن امت مسلمہ کی قوت و طاقت ، ہیبت و جلال کم ہوتی جارہی ہے اور مسلسل زوال و پستی کی طرف گامزن ہے۔ حالانکہ آج سے چودہ سو برس قبل اسی امت کے پیروکاروں نے جہانِ رنگ و بو سے کفر و شرک ، ضلالت و گمراہی کی ظلمت کو ختم کرکے دین و شریعت ، ہدایت و رہنمائی کی روشنی پھیلائی تھی۔ ظلم و جور ، خون ریزی و بد امنی ، مکر و فریب ، دھوکہ دغا جیسے تمام ناسور اور افعال قبیحہ کو معاشرے سے یکسر ختم کرکے ایک ایسا معاشرہ معرض وجود میں لایا تھا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، اس نایاب اور بے مثال معاشرے کا معمار آقائے نامدارﷺ اور آپﷺ کے جانباز و سرفروش صحابہ کرام تھے جنہوں نے سربکف ہوکر دین و شریعت کو چہار دانگ عالم میں پھیلایا اور اسلامی نظام نافذ کرکے ہر حق دار کو اس کا حق دیا ۔ ان کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے اس معاشرے میں انسان و حیوان ، چرند پرند سب پَر امن و سلامتی کی فضاء سایہ فگن تھی۔
پھر دور بدلتا گیا ، زمانہ کروٹیں بدلتا رہا ، مختلف قومیں اور تہذیبیں آتی جاتی رہی ، مادی ترقی شروع ہوئی ، ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہوا ، مغربی تہذیب وجود میں آئی اور اس نے ہرطرح سے مسلمانوں کو پسپا کرنے اور دین سے بیزار کرنے کی انتھک کوشش و سعی کی تو رفتہ رفتہ مسلمانوں کی قوت ایمانی ، توکل و بھروسہ کو مادی ترقی نے خاک میں ملایا اور مسلمان اپنے دین متین کو چھوڑ کر مغرب کی رنگینیوں سے مرعوب ہوئیں اور پھر برابر تنزل و انحطاط کی طرف پابہ رکاب ہوتے رہیں ۔
آج مسلمانوں کی حالت ایسی ناگفتہ بہ ہے کہ ہر طرف سے مایوسی و قنوطی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں ، امن و آشتی عنقا ہے، معاشرتی و معاشی بدحالی عروج پر ہے ہر طرف ظلم و جور اور تعدی کا بازار گرم ہے ، خون آشام فضائیں ، گولیوں اور بارود کی برسات جاری ہے ۔ الغرض! امت مسلمہ کمزور و نحیف ہوچکی ہے اور عالم کفر کی یلغار پیہم جاری و ساری ہے۔
گھائل و مجروح فلسطین کی حالتِ زار دیکھیں کہ وہاں مسلمانوں پر شب خون مارا جارہا ہے ، گاجر مولی کی طرح کی کٹ رہے ہیں ، بچے سسکتے بلکتے شہید ہورہے ہیں ، نواجوان ملبوں تلے داعی اجل کو لبیک کہہ رہے ہیں ، غزہ کا پورا نقشہ الٹ چکا ہے لیکن کیا مجال! کہ کوئی مسلم حکمران “المؤمن کجسد واحد” کی عملی مثال پیش کرکے اسرائیل کو آنکھیں دکھائے۔
57 اسلامی ممالک کے حکمراں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے ہیں ، ایٹمی طاقت کے باوجود غزہ کے باسیوں کی داد رسی نہیں کر پارہے!
حالانکہ اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو یہی امت معمارِ انسانیت تھی ، معاشرے کے امن و سلامتی کا ضامن ، مظلوم انسانوں کا ماوی و ملجای ، کفار کے دلوں میں خنجر گھونپنے والی تھی ۔۔ ہاں! یہی امت تھی کی 313 کی قلیل تعداد اور بے سروسامانی کی حالت میں ہزار کے لشکر کو شکست وریخت سے دو چار کیا ، دنیا کی ہر طاقت ور ملک کو فتح کرکے امن و سلامتی کا پرچم بلند کیا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اتنا کمزور و ناتواں ہیں ؟ آج بھی وہی انقلابی قرآن ، وہی حکمت سے بھری احادیث ، وہی حقوق العباد اور حقوق اللہ کے اصول و ضوابط ہیں ،۔ آج بھی اس امت کے پاس وہی تریاق ہے جو ہر زہر کا علاج و مداوا ہے جس کے ذریعے چہار دانگ عالم میں امن و آشتی کی فضاء سازگار ہوسکتی ہے ظلم و جور کی تاریک راتیں صبحِ پُرنور میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج مسلم مادی قوت اور مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر زوال و انحطاط کی آخری سیڑھی پر ہے ۔
زوال اور انحطاطِ امت مسلمہ کے چند وجوہات سپرد قلم کیے جاتے ہیں:
خالق کائنات نے مرد مؤمن کو ایک ایسی طاقت و قوت سے مالا مال فرمایا ہے جو اسلحے سے لیس لشکرِ کفار کے پاس نہیں کیونکہ کافر تو شمشیر ، تیغ وسناں پہ بھروسہ کرتا ہے اور مؤمن بے تیغ میدان کار زار میں اترتا ہے اور کامیابی و کامرانی سے سرخرو ہوتا ہے جس کی مثال تاریخ کے اوراق میں روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمان کمر بستہ اور سربکف ہوکر بے سروسامانی اور قلیل تعداد کے باوجود ہزاروں کی کثیر تعداد اور اسحلے سے لیس لشکر کو مات دی لیکن وائے ناکامی! کہ آج کا مسلمان اپنی قوت ایمانی اور مدد الٰہی کو بھول کر ظاہری اسباب و آلات حرب پر نظریں جمائی ہوئیں ہیں جس کی وجہ سے کامیابی و کامرانی سے ناآشنا ہیں ۔ اگر مسلمان اپنی طاقت ایمانی کو مدنظر رکھیں تو دنیا جہاں کی کوئی بھی طاقت ان کی راہ میں سنگ گراں نہیں بن سکتی اور نہ ہی کوئی اسے پسپا کرسکتا ہے کیونکہ جو فولادی طاقت اس کے پاس موجود ہے وہ بے چارے ہوس کے پجاری کفار کے پاس کہاں ؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
کَمۡ مِّنۡ فِئَۃٍ قَلِیۡلَۃٍ غَلَبَتۡ فِئَۃً کَثِیۡرَۃًۢ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ (سوره بقرہ؛آیت نمبر ۲۴۹)
بسا اوقات ایک قلیل جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اسی طرح تنزلی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک دمک اور سراب سے متاثر ہوکر ان کے رنگ میں رنگنے کی سعی ناسود کرکے نہ اپنی طاقت بحال کرسکتے ہیں اور نہ ہی مغربی تہذیب کے خساروں سے بچ سکتے ہیں۔ خدا کی مدد و نصرت اور بھروسہ و توکل ، صبر و تحمل ترک کردینے کی وجہ سے منزل راہ کے دھول میں کھو گئی ہے ۔ مغربی تہذیب سے متاثر ہونے کا نتیجہ یہی ہے مسلمان قرآنی احکام ، اسلامی تعلیمات ، شریعت کے اصول و ضوابط کو چھوڑ کر مغرب کے نشانات قدم پر چل کر اپنا روشن چراغ گل کر دیے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید میں موجود اسلامی تعلیمات مسلمانوں کے لیے نمونہ حیات اور اصولِ زندگی ہیں جس کے اندر زندگی بھر میں پیش آنے والے تمام مسائل کا حل موجود ہے چاہے وہ معاشرتی ، معاشی اعتبار سے ہو یا اخلاقی اور تربیتی اعتبار سے۔ الغرض! معاشرے کی بہبود و فلاح اور اس میں پھیلنے والے تمام فسادات کی بیخ کنی قرآن ہی میں موجود ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ خواب خرگوش بیدار ہوکر قرآن و حدیث اور اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کرنے پر کمر کس لیں تو درپیش تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ اگر اتحاد و اتفاق کے پرچم کے سائے تلے کھڑے ہوکر اسلامی نظام نافذ کرنے کی سعی اور جہد پیہم کریں تو وہ صبح دور نہیں کہ فتح و کامیابی کا خورشیدطلوع ہو جائے اور اسلام کی ضیابار روشنی سے عالم اسلام کا چپہ چپہ منور ہو جائیں!۔