کیا شادی کےلئے آپ یہ سب دیکھتے ہیں؟

0 12
پاکستان اور ہمسایہ ملک کی شادیوں میں صرف ایک بنیادی فرق ہے ہمسایہ ملک میں دلہن کے ساتھ پھیرے لیے جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں نکاح کی رسم ادا کی جاتی ہے اس کے علاوہ لڑکا یا لڑکی دیکھنے کے تمام مراحل سے لے کر شادی کے بعد تک کے حالات میں دونوں ممالک میں کوءفرق نہیں ہے برِصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے ایک ہی طرح کی روٹین سیٹ ہے اور ہم آج تک اسی کی پیروی کرتے چلے آرہے ہیں پہلے وقتوں میں لڑکی دیکھنے کے لیے ذات برادری اور اچھی شکل و صورت کو ترجیح دی جاتی تھی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تعلیم کا اضافہ کر دیا گیا اگر لڑکا دیکھنا مقصود ہو تو آج بھی ہمارے وہ ہی نپے تلے سوالات ہوتے ہیں کہہ لڑکا کیا کرتا ہے ؟کتنا کماتا ہے ؟ خاندان کے افراد کتنے ہیں یعنی ہم ایک مخصوص پہلو سے چند چیدہ چیدہ باتوں کو ہی کریدنا پسند کرتے ہیں اور مطمئن ہونے پر رشتہ طے کرنے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دیتے ہیں اگر ہم آج کی جدید سائنس کے حساب سے شادی کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ہمارے سامنے بہت سی ایسی پرتیں کھلتی نظر آتی ہیں جنہیں ہم قطعی طور پے نظر انداز کر دیتے ہیں یا ہمیں ان کا سرے سے شعور ہی نہیں ہوتا مثلاً شادی سے پہلے ہم کسی کی بھی بیماریوں کی تاریخ نہیں کھنگالتے وہ چاہے لڑکی کا خاندان ہو یا چاہے لڑکے کا خاندان ہم یہ بالکل بھی پرواہ نہیں کرتے کے آیا اس نیے خاندان جس سے ہم رشتہ جوڑنے چلے ہیں یہ زیادہ تر کس قسم کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں کیا ان میں موروثی طور پے شوگر بلڈ پریشریافالج جیسا مرض تو چلا نہیں آ رہا اگر ایسا کچھ ہے تو چانسز کافی حد تک بڑھ سکتے ہیں کہ وہ ہی مرض جلد یا بدیر ہماری اگلی نسل میں بھی منتقل ہو سکتا ہے شادی صرف دو خاندانوں یا دو افراد کا ملاپ ہی نہیں بلکہ یہ اس بات پر بھی انحصار کرتا ہے کہ آپ اپنی بیٹی یا بیٹے کے لیے کس قسم کے جینز پسند کرتے ہیں کیونکہ انسان کی عمر ذہانت عادات اور بیماریوں کا راز بھی انہی جینز میں چھپا بیٹھا ہے آپ کسی دانشور یا فلاسفر کے کم سن بچے سے بات کر کے دیکھیں اور پھر کسی غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ کے بچے سے بات کر کے دیکھیں آپ کو عادات میں ایک خاص طرح کا فرق نظر آ? گا حالانکہ دونوں بچے ابھی تک کبھی اسکول نہیں گیے اسی طرح طویل عمری اور کم عمری کا تعلق بھی آپ کی نسل اور جین پےمنحصر ہے بہت سے لوگ خاندانی طور پر طویل عمر پاتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو خاندانی طور پر پچاس کا ہندسہ بھی بمشکل ہی عبور کر پاتے ہیں جیسے پاکستانیوں کی اوسط عمر اور جاپانیوں کی اوسط عمر میں زمین آسمان کا فرق موجود ہے اسی طرز پے جنیاتی طور پر بھی خاندانوں کے بیچ یہ تفریق برقرار رہتی ہے اسی طرح انٹیلی جینس کوالٹی کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی آپ کو انسانی جین میں ملتی ہے آپ شادی کے لیے جتنا اچھا جین سلیکٹ کریں گے اتنا ہی آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت پر کم محنت درکار ہو گی اس کی مثال کچھ یوں لی جا سکتی ہے کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا بھی ڈاکٹر بن جاتا ہے حالانکہ یہ کوءکاروبار نہیں ہے کہ آپ کے باپ نے سیٹ کیا اور آپ اس جمے جمائے کاروبار کے جان نشین بن گیے بلکہ ڈاکٹر کے بیٹے کو بھی ان تمام امتحانات اور مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے جن سے کبھی اس کا باپ گزرا ہو گا یہ چند باتیں گوش گزار کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہم صرف ظاہری شکل و صورت پیسہ یا اچھا جہیز دیکھ کر وقتی طور پے شادی کے لیے رضا مند ہو جاتے ہیں لیکن ہم کسی کو بھی حیاتیاتی طور پر پرکھنے کی زحمت نہیں کرتے کیوں کہ ایک اچھے بیج پر ہی ایک اچھی اور صحت مند فصل کی امید لگاءجا سکتی ہے جس طرح ہم زرعی فصل اگانے سے پہلے بیج کو زہر لگاتے ہیں تا کہ فصل بیماری سے پاک اگے اسی طرح شادی جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے بھی معاشرتی اور حیاتیاتی جائزہ بہت ضروری ہے جسے اگر نظر انداز کر دیا جائے تو خمیازہ پھر نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.