ایرانی مشکلات میں مزید اضافہ، تیل کے بعددھاتی شعبوں پر بھی پابندیاں عائد

0 4

واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں گزشتہ روز اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب امریکہ نے ایران کے دھات کے شعبوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ یہ اعلان وائٹ ہائوس سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل کے علاوہ آمدنی کے بڑے ذریعے کو نئی پابندیوں کے ذریعے ہدف بنایا گیا ہے۔ ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں کے اطلاق کے علاوہ امریکہ کی جانب سے توانائی، جہاز سازی، جہازرانی اوربینکنگ سیکٹرز بھی تعزیرات کی زد میں ہیں۔امریکہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایران کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا رویہ اور طریقہ کار تبدیل نہیں کرے گا تو اسے مزید تعزیری اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق وائٹ ہائوس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے لوہے، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبے کے شعبوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کی برآمدات سے کل ایرانی معیشت کا دس فیصد حاصل ہوتا ہے۔مقر اسرائیلی اخبار ہیرٹز نے گزشتہ روز عالمی خبررساں ایجنسی کے توسط سے خبر شائع کی تھی کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح کیا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے2015 کے معاہدے پر عمل دارآمد نہ کیا تو ان کا ملک افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے ذخیرے پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد منسو خ کردے گا۔اسرائیلی اخبار کے مطابق یہ بات عالمی طاقتوں کے سفارتکاروں کو بھیجے جانے والے ایک مکتوب میں کہی گئی تھی۔وی او اے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے مقف اختیار کیا تھا کہ دستخط کرنے والے دیگر ممالک نے چونکہ معاہدے کی ضروری پاسداری نہیں کی اس لیے ایرانی تیل اور بنکاری کے شعبوں میں امریکی پابندیاں لاگو ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کے صدر نے دیگر ممالک کو اس ضمن میں 60 دن کی مہلت دی ہے جس کے بعد ایران یورینیم کی اعلی سطح کی افزودگی شروع کردے گا لیکن ساتھ ہی حسن روحانی نے واضح کیا ہے کہ اگر دیگر ممالک ایران کا ساتھ دیتے ہیں تو ان کی حکومت معاہدے کی پاسداری جاری رکھے گی۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.