بہو بھی انسان ہے

0 45

بہو بھی انسان ہے
حمیراعلیم
ہمارے ہاں یہ بڑی عام سی بات ہے کہ بہو بیاہ کر لائی جاتی ہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روبوٹ بن کر 24/7 بنا کسی تعریف اور معاوضے کے سارے سسرال رشتے داروں کی نہ صرف خدمت کرے گھر کا ہر کام اس طریقے سے کرے جیسے ساس کو یا نندوں کو پسند ہو بلکہ ساتھ میں یہ طعنے بھی سنے کہ ماں نہیں کچھ سکھایا نہیں، آئے ہائے ہمارے نصیب میں ہی یہ پھوہڑ لڑکی لکھی تھی، آتا جاتا کچھ نہیں اور نخرے مہارانیوں والے، کیا بدذائقہ کھانا بناتی ہو ، ہماری بیٹیاں تو ایسے نہیں کرتیں اس لیے اب تمہیں بھی ان کی طرح رہنا ہو گاوغیرہ وغیرہ ۔حالانکہ اپنی بیٹیاں بھی جی بھر کے بدسلیقہ، بدزبان اور پھوہڑ ہوتی ہیں۔
اس سب کے باوجود اسے سکھ کا سانس نہیں لینے دیا جاتا۔ماسوائے چند گھرانوں کے ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔دوسری طرف جہاں سسرال اچھی ہوتی ہے وہاں بہو سر پر چڑھ کے ناچتی ہے۔جیسے کہ ایک لڑکی گھر کا کوئی کام نہیں کرتی سارے کام ساس کرتی ہیں اگرچہ وہ گھٹنوں کے جوائنٹس میں بون میرو ختم ہونے کی وجہ سے نہ تو زیادہ دیرسیدھی کھڑی ہو سکتی ہیں نہ چل سکتی ہیں۔مگر صفائی سے لے کر کپڑے استری کرنے تک وہ خود ہی کرتی ہیں۔بہو جب ساس کو کپڑے دھوتی دیکھتی ہے یا استری کرتے تو اپنے میاں اور بچوں کے کپڑے بھی خاموشی سے رکھ جاتی ہے۔جب ساس تھک جاتی ہے تو انہیں مشورہ دیتی ہے:” امی آپ تھک گئی ہیں باقی کل کر لیجئے گا۔” ایک کھانا بنانے کا کام کرتی ہے جس کے لیے ایک ہیلپر ہے اس کے ساتھ ساتھ میاں کی بھی دوڑ لگی رہتی ہے۔اپنے قد سے صرف دو فٹ اونچی الماری سے برتن نکلوانے کے لیے اسے بار بار بلایا جاتا ہے۔بچوں کو سنبھالنے ، سلانے، نہلانے دھلانے اور ہوم ورک کے لیے بھی ساس اور میاں موجود ہوتے ہیں پھر بھی رونا روتی رہتی ہے کہ وقت ہی نہیں ملتا۔
دونوں ایکسٹریمز ہی غلط ہیں۔پہلی والی زیادہ کہ ایک تو اسلام میں اس سب کی کوئی گنجائش نہیں۔اور اس صورت میں لڑکی شوہر اور بچوں کو بھی وقت نہیں دے پاتی ۔اور بعض صورتوں میں سب سہنے کے باوجود طلاق دے دی جاتی ہے۔نجانے لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ لڑکی اور اس کے خاندان کے خدا ہیں جو چاہے جیسے چاہیں کریں کوئی روکنے والا نہیں۔بہو کو بھی گوشت پوست کی جذبات رکھنے والی انسان سمجھیے اور اسے تکلیف، پریشانی، خوشی ، غم اور دیگر جذبات کے اظہار کا حق دیجئے۔اسے ہر وقت ہر چیز کے لیے نشانے ہر رکھنے کی بجائے مارجن دیجئے۔
دوسری اس لیے کہ اگر خوش قسمتی سے کو آپریٹو سسرال مل ہی گئی ہے تو ان کی قدر کیجئے نہ کہ انہیں دیوار سے لگا دیجئے۔یاد رکھیے کل کو آپ کے بچوں کی بھی شادیاں ہوں گی اور انہیں بھی ایسی ہی سچویشن سے گزرنا ہو گا۔
فیملی ڈسپیوٹ کورٹس کو سنبھالنے والے سپریم کورٹ کے جج کا والدین کو مشورہ ہے جو کہ
زیادہ تر والدین پر لاگو ہوتا ہے۔

1) اپنے بیٹے اور اس کی بیوی کو اپنے ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کی ترغیب نہ دیں۔ بہتر ہے کہ انہیں باہر جانے کا مشورہ دیا جائے، یہاں تک کہ کرائے کے مکان لینا پڑے تو بھی لیں۔ الگ گھر تلاش کرنا ان کا مسئلہ ہے۔ انہیں گود سے اتار کر اپنے پاوں پر کھڑا ہونے کا موقعہ دہجئے اب وہ شادہ شدہ ہیں۔اور آپ کے بچوں کے خاندانوں کے درمیان جتنا فاصلہ ہوگا، آپ کے بہو کے ساتھ تعلقات اتنے ہی بہتر ہوں گے۔

2) اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ اس کی بیوی کی طرح سلوک کریں، اپنی بیٹی کی طرح نہیں یا اس کے ساتھ صرف ایک دوست کی طرح سلوک کریں۔ آپ کا بیٹا ہمیشہ آپ کا بچہ رہے گا لیکن اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس کی بیوی اسی درجہ کی ہے اور آپ نے اسے کبھی ڈانٹ دیا تو وہ اسے عمر بھر یاد رکھے گی۔ حقیقی زندگی میں، صرف اس کی اپنی ماں کو ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جائے گا جو اسے ڈانٹنے یا درست کرنے کا اہل ہو۔
3) آپ کے بیٹے کی بیوی میں جو بھی عادتیں یا کردار ہیں، وہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے، یہ آپ کے بیٹے کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ وہ پہلے ہی بالغ ہے۔

4) ساتھ رہتے ہوئے بھی، ایک دوسرے کے کاموں میں دخل اندازی نہ کریں ۔ان کی لانڈری نہ کریں، ان کے لیے کھانا نہ بنائیں اور ان کے بچوں کی آیا نہ بنیں۔ جب تک کہ آپ کے بیٹے کی بیوی کی طرف سے کوئی خصوصی درخواست نہ ہو اور آپ محسوس کریں کہ آپ اس قابل ہیں اور اس کے بدلے میں کسی چیز کی توقع نہ کریں۔
سب سے اہم بات، آپ کو اپنے بیٹے کے خاندانی مسائل کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں اپنے آپ کو آباد کرنے دیں۔
5) جب آپ کا بیٹا اور اس کی بیوی آپس میں جھگڑ رہے ہوں تو اپنے اندھے اور بہرے ہونے کا بہانہ کریں۔ یہ عام بات ہے کہ نوجوان جوڑے کو پسند نہیں ہوتا کہ ان کے والدین میاں بیوی کے درمیان جھگڑے میں ملوث ہوں۔

6) آپ کے پوتے پوتیاں مکمل طور پر آپ کے بیٹے اور اس کی بیوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم وہ اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ کریڈٹ یا الزام ان کے سر ہو گا۔

7) ضروری نہیں کہ آپ کے بیٹے کی بیوی آپ کی عزت اور خدمت کرے۔ یہ بیٹے کا فرض ہے۔ آپ کو اپنے بیٹے کو ایک بہتر انسان بننا سکھانا چاہیے تھا تاکہ آپ اور آپ کی بہو کا رشتہ بہتر ہو سکے۔8:اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے مزید منصوبہ بندی کریں، اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد دیکھ بھال کے لیے اپنے بچوں پر انحصار نہ کریں۔ آپ اپنی زندگی کے بیشتر سفر سے گزر چکے ہیں، ابھی بھی بہت ساری نئی چیزیں سیکھنے کو باقی ہیں۔
9) یہ آپ کی اپنی دلچسپی ہے کہ آپ اپنے ریٹائرمنٹ کے سالوں سے لطف اندوز ہوں۔ بہتر ہے اگر آپ ہر اس چیز کو استعمال اور لطف اندوز کر سکیں جو آپ نے مرنے سے پہلے بچایا تھا۔ اپنی دولت کو اپنے لیے بے وقعت نہ ہونے دیں۔

10) پوتے پوتیوں کا تعلق آپ کے خاندان سے نہیں ہے، وہ ان کے والدین کا قیمتی تحفہ ہیں۔اس لیے انہیں ان کی فکر کرنے دیجئے آپ اپنے بچوں کو وراثت دے چکے ہیں۔
ان سب کے ساتھ ساتھ میرا مشاہدہ ہے کہ پہلے دو سال اگر سسرال والے لڑکی کو ایڈجسٹ ہونے کا وقت دیں۔اس کے لیے مددگار ثابت ہوں تو باقی زندگی بہو ان کے گن گاتی ہے۔ لیکن جہاں ابتداء ہی میں اسے یہ باور کروانے کی کوشش کی جائے کہ سسرال کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں وہاں ساس سسر کے آخری سال بالکل ویسے ہی گزرتے ہیں جیسے بہو کے شروع کے چند سال۔ کیونکہ بچوں کے بڑا ہونے پر اس کی پوزیشن بھی مضبوط ہو جاتی ہےاور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شوہر کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہتری آ ہی جاتی ہے۔اور شوہر کو بھی معلوم ہو ہی جاتا ہے کہ بڑھاپے میں اسے بیوی بچے ہی سنبھالیں گے بہن بھائی نہیں۔اس لیے دوسروں کے لیے آسانیاں یہ سوچ کر پیدا کیجئے کہ کل کو آپ کو بھی آسانی ہو۔
جہاں سسرال زیادتی کی مرتکب ہو وہاں بہووں کو سٹی ساوتری نیک پروین بننے کی بجائے ہر بات سے شوہر کو آگاہ کرتے رہنا چاہیے اور یہ ضرور باور کرواتی رہیں کہ ان کے سامنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا مقصد صرف اور صرف اپنی بھڑاس نکالنا ہے ان کے خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات خراب کرنا ہرگز نہیں۔کیونکہ آپ نہیں چاہتیں کہ اپنے میکے یا دوستوں کے سامنے یہ سب بیان کریں۔تاکہ ہر چیز شوہر کے علم میں ہو۔اور وہ آپ کی سپورٹ بنے۔ وہ نہ سننا چاہے تب بھی اسے اپنے خیالات اور احساسات سے آگاہ کریں کیونکہ چپ چاپ ظلم سہنا صبر ہرگز ہرگز نہیں اور ایسا کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں د ے گا۔بجائے میکے میں بات کرنے کے اس شخص سے بات کریں جو مسئلے کو حل کر سکے۔اور رشتے توڑنا بے حد آسان ہیں انہیں نبھانے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اپنی پوری کوشش کرنے کے بعد کوئی مثبت آوٹ کم نہ ملے تو بے شک رشتہ ختم کر دیجے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ ظلم برداشت کرتے رہو۔زندگی اللہ کی امانت ہے اسے اچھی طرح گزارئیے۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.