سابق ڈپٹی وزیر دفاع کو جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنا دی گئی

0 31

ایران میں برطانیہ کی دوہری شہریت رکھنے والے سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی۔ دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح علی رضا اکبر کی رہائی یقینی بنانا ہے ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے سپریم کورٹ کی جانب سے سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کیلئے جاسوسی کے الزام میں

موت کی سزا سنائی گئی ہے۔علی رضا اکبری کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے موجودہ سیکرٹری اور 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر دفاع رہنے والے علی شمخانی کے قریبی ساتھی اور ڈپٹی وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ علی رضا اکبری برطانوی انٹیلیجنس سروسز کیلئے ایران میں انتہائی اہم ایجنٹ تھے جو ایران کے حساس مقامات اور معلومات تک رسائی رکھتے تھے اور انہوں نے ملک دشمن جاسوسی ایجنسی کو حساس معلومات

پہنچائی۔برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح علی رضا اکبری کی فوری رہائی کو یقینی بنانا ہے، اس حوالے سے ایران کو فوری کونسلر رسائی کی درخواست کی گئی ہے۔برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں برطانوی شہریت کے حامل علی رضا اکبری کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو فوری طور سزا پر عمل درآمد روک کر انہیں رہاکر دینا چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ ایران اور برطانیہ کی دوہری شہریت رکھنے والے ایران کے سابق ڈپٹی وزیر دفاع کو سیاسی بنیادوں سزا سنائی گئی ہے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.